
1۔ کیا امام جصاصؒ معتزلی تھے؟یا صرف ان کا میلان اعتزال کی جانب تھا؟ نیز انہوں نے احکام القرآن میں کن کن باتوں میں معتزلہ کی موافقت کی ہے؟
2۔ معتزلہ کون تھے؟انکے عقائد کیا تھے؟وہ مسلمان تھے یا کافر؟
3۔ نیز اس کا کیا پیمانہ ہے کہ کن کن باتوں کے ماننے سے کوئی بندہ معتزلی ٹھہرے گا اور کن کن باتوں سے یہ کہا جائے گا کہ وہ بندہ معتزلی نہیں تھا پر اسکا میلان اعتزال کی جانب تھا؟
1:امام ابوبکر جصاص حنفی عالم تھے،اصولی طور پر معتزلی تو نہ تھے ،لیکن کچھ فروعی مسائل میں معتزلہ کی طرف میلان پایا جاتا تھا،لیکن محض اس کی وجہ سے انہیں معتزلی نہیں کہا جاسکتا، مسئلہ سحر میں اور مسئلہ رویت باری تعالی میں ان کا رجحان معتزلہ کی طرف رہا ہے۔
2: معتزلہ ایک گمراہ فرقہ ہے اس کا وجود حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے زمانے میں ہوا، ”معتزلہ“ ؛ اعتزال سے اسم فاعل ہے، اعتزال کے معنی ہیں الگ ہونا ، اہل سنت والجماعت کے عقائد سے الگ ہو جانے کی بنا پر یہ فرقہ ”معتزلہ“ کہلایا،اس کا بانی واصل بن عطاء ہے، معتزلہ کے مذہب کی بنیاد عقل پر ہے وہ خود کو اصحاب العدل والتوحید کہتے ہیں اور نقل پر عقل کو ترجیح دیتے ہیں ، عقل کے خلاف قطعیات میں تاویلات کرتے ہیں اور ظنیات کا انکار کرتے ہیں۔
معتزلہ کے بارے میں اکابر میں سے کسی نے تکفیر کا قول نقل نہیں کیا ہے، لہذا ان کا مخلد فی النار ہونا ثابت نہیں ،کیوں کہ مخلد فی النار وہی ہوں گے جو دنیا سے کفر کے حالت میں گئے ہوں ، البتہ معتزلہ میں جو عالم کے قدیم ہونے کا یا اس کے علاوہ کوئی ایسا عقیدہ رکھتا ہو جس سے کفر لازم آتا ہو تو پھر وہ کافر ہوکر مخلد فی النار ہوگا۔
3:جب تک بنیادی و اصولی طور پر معتزلہ کی موافقت نہ ہوتو کسی ایک یا دو نظریات میں میلان یا موافقت سے اعتزال کاحکم نہیں لگایاجاسکتا۔
سیرِ اعلام النبلاء میں ہے:
" الإمام العلامة المفتي المجتهد, علم العراق, أبو بكر أحمد بن علي الرازي الحنفي, صاحب التصانيف.تفقه بأبي الحسن الكرخي، وكان صاحب حديث ورحلة, لقي أبا العباس الأصم وطبقته بنيسابور, وعبد الباقي بن قانع ودعلج بن أحمد وطبقتهما ببغداد, والطبراني, وعدة بأصبهان.وصنف وجمع، وتخرج به الأصحاب ببغداد, وإليه المنتهى في معرفة المذهب.قدم بغداد في صباه فاستوطنها.وكان مع براعته في العلم ذا زهد وتعبد, عرض عليه قضاء القضاة فامتنع منه, ويحتج في كتبه بالأحاديث المتصلة بأسانيده.قال الخطيب: حدثنا أبو العلاء الواسطي قال: امتنع القاضي أبو بكر الأبهري المالكي من أن يلي القضاء, قالوا له: فمن يصلح؟ قال: أبو بكر الرازي, قال: وكان الرازي يزيد حاله على منزلة الرهبان في العبادة, فأريد على القضاء فامتنع -رحمه الله. وقيل: كان يميل إلى الاعتزال، وفي تواليفه ما يدل على ذلك في رؤية الله وغيرها, نسأل الله السلامة.مات في ذي الحجة سنة سبعين وثلاث مائة, وله خمس وستون سنة."
(الطبقة الحادية والعشرون، أبو بكر الرازي، ج:12، ص:344، ط:دار الحديث، القاهرة)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وأما المعتزلة فمقتضى الوجه حل مناكحتهم؛ لأن الحق عدم تكفير أهل القبلة، وإن وقع إلزاما في المباحث، بخلاف من خالف القواطع المعلومة بالضرورة من الدين مثل القائل بقدم العالم ونفي العلم بالجزئيات على ما صرح به المحققون وأقول: وكذا القول بالإيجاب بالذات ونفي الاختيار. اهـ. وقوله: وإن وقع إلزاما في المباحث معناه، وإن وقع التصريح بكفر المعتزلة ونحوهم عند البحث معهم في رد مذهبهم بأنه كفر أي يلزم من قولهم بكذا الكفر، ولا يقتضي ذلك كفرهم؛ لأن لازم المذهب ليس بمذهبهم وأيضا فإنهم ما قالوا ذلك إلا لشبهة دليل شرعي على زعمهم، وإن أخطئوا فيه."
(كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج:1، ص: 45، ط: سعید)
احكام الاحكام شرح عمدة الاحكام میں ہے:
"وقد اختلف الناس في التكفير وسببه، حتى صنف فيه مفردا، والذي يرجع إليه النظر في هذا: أن مآل المذهب: هل هو مذهب أو لا؟ فمن أكفر المبتدعة قال: إن مآل المذهب مذهب فيقول: المجسمة كفار؛ لأنهم عبدوا جسما، وهو غير الله تعالى، فهم عابدون لغير الله، ومن عبد غير الله كفر، ويقول: المعتزلة كفار؛ لأنهم - وإن اعترفوا بأحكام الصفات - فقد أنكروا الصفات ويلزم من إنكار الصفات إنكار أحكامها، ومن أنكر أحكامها فهو كافر. وكذلك المعتزلة تنسب الكفر إلى غيرها بطريق المآل."
(كتاب اللعان، من وصف غيره بالكفر، ج:2، ص:210، ط: مطبعة السنة المحمدية)
شرح العقائد النسفیہ میں ہے:
"ومعظم خلافیاتہ مع الفرق الإسلامیة خصوصاً المعتزلة لأنہم أول فرقة أسّسوا قواعد الخلاف لما ورد بہ ظاہر السنة وجری علیہ جماعة الصحابة رضوان اللہ علیہم أجمعین في باب العقائد وذلک لأن رئیسہم واصل بن عطاء اعتزل عن مجلس الحسن البصری رحمہ اللہ ویقرر ان من ارتکب الکبیرة لیس بموٴمن ولا کافر ویثبت المنزلة بین المنزلتین فقال الحسن قد اعتزل عنّا فسُمّوا المعتزلة وہم سمّوا أنفسہم أصحاب العدل والتوحید......الخ."
(ص:19،20، ط: بشری)
فقط وللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144405101284
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن