سوال
کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے امت محمدیہ کی تمنا ظاہر کی تھی؟
جواب
یہ روایت " ابو نعیم اصفہانی " کی کتاب " حلیتہ الاولیاء " سے نقل کی جاتی ہے روایت کے الفاظ یہ ہیں:
"حدثنا أحمد بن اسحاق وعبدالله بن محمد قالا: ثنا أبو بكر بن أبي عاصم ثنا أيوب الجبابري ثنا سعيد بن موسى ثنا رباح بن زيد عن معمر عن الزهري عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: إن موسى بن عمران عليه السلام كان يمشي ذات يوم في الطريق فناداه الجبار جل جلاله: يا موسى! فالتفت يميناً وشمالاً فلم يجد أحداً، ثم ناداه الثانية: يا موسى بن عمران! فالتفت يميناً وشمالاً فلم يجد أحداً، ثم ارتعدت فرائصه، ثم نودي الثالثة: يا موسى بن عمران! أنا الله لا إله إلا أنا، فقال: لبيك لبيك، فخر لله ساجداً، فقال: ارفع رأسك يا موسى بن عمران! فرفع راسه، فقال: يا موسى! إن أحببت أن تسكن في ظل عرشي يوم لا ظل الا ظلي يا موسى كن لليتيم كالأب الرحيم وكن للأرملة كالزوج العصوب! يا موسى بن عمران! ارحم ترحم يا موسى، كما تدين تدان، يا موسى بن عمران! نبئ بني اسرائيل أنه من لقيني وهو جاحد لمحمد أدخلته النار ولو كان ابراهيم خليلي وموسى كليمي، قال: ومن محمد؟ قال: يا موسى وعزتي وجلالي ما خلقت خلقًا أكرم علي منه، كتبت اسمه مع اسمي في العرش قبل أن أخلق السموات والأرض والشمس والقمر بألفي ألف سنة، وعزتي وجلالي إن الجنة محرمة على جميع خلقي حتى يدخلها محمد وأمته، قال موسى: ومن أمة محمد؟ قال: أمته الحمادون يحمدون الله صعودًا وهبوطًا، وعلى كل حال يشدون أوساطهم ويطهرون أطرافهم، صائمون بالنهار رهبانًا بالليل أقبل منهم اليسير وأدخلهم الجنة بشهادة أن لا إله إلا الله، قال: فاجعلني نبي تلك الأمة، قال: نبيها منها، قال: اجعلني من أمة ذلك النبي، قال: استقدمت واستأخروا يا موسى، ولكن سأجمع بينك وبينه في دار الجلال. هذا حديث غريب من حديث الزهري لم نكتبه إلا من حديث رباح بن معمر، ورباح فمن فوقه عدول، والجبابري في حديثه لين ونكاره".
( ج:3، ص:386، ط: دارالکتاب العربی)
ترجمہ:
" حضرت موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) ایک دن راستے میں چل رہے تھے، تو رب العزت کی طرف سے نداء آئی: اے موسیٰ! انہوں نے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا، پھر دوسری بار آواز آئی: اے موسیٰ بن عمران! انہوں نے پھر دائیں بائیں دیکھا اور کوئی نظر نہ آیا، تو ان پر خوف کی وجہ سے لرزہ طاری ہو گیا، پھر تیسری بار آواز آئی: اے موسیٰ بن عمران! میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا: میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں۔ اور اللہ کے حضورسجدے میں گر پڑے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ بن عمران! اپنا سر اٹھاؤ، انہوں نے سر اٹھایا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ! اگر تم چاہتے ہو کہ میرے عرش کے سائے تلے رہو ،ایک ایسے دن میں جس دن میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا؟
اے موسیٰ! یتیم کے لیے ایک شفیق باپ کی طرح بن جاؤ، اور بیوہ کے لیے ایک مہربان شوہر کی طرح بنو۔
اے موسیٰ بن عمران! تم رحم کرو گے تو تم پر رحم کیا جائے گا، اور جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔
اے موسیٰ بن عمران! بنی اسرائیل کو بتا دو کہ جو مجھ سے اس حال میں ملا کہ وہ محمد ﷺ کا انکار کرنے والا تھا، تو میں اسے دوزخ میں داخل کروں گا، خواہ وہ میرا خلیل ابراہیم (علیہ السلام) ہو ں یا میرے کلیم موسیٰ (علیہ السلام) ہوں، موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا: محمد ﷺ کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ! مجھے میری عزت اور جلال کی قسم! میں نے اپنی مخلوق میں سے اس (محمد ﷺ) سے زیادہ کوئی مکرم اور معزز پیدا نہیں کیا، میں نے آسمانوں، زمین، سورج اور چاند کو پیدا کرنے سے ہزاروں سال قبل ان کا نام اپنے نام کے ساتھ عرش پر لکھ دیا تھا، اور مجھے میری عزت اور جلال کی قسم! جنت میری تمام مخلوق پر اس وقت تک حرام ہے جب تک کہ اس میں محمد اور ان کی امت داخل نہ ہو جائے۔"
موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: "محمد کی امت کون سی ہے؟"
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "ان کی امت (کالقب )الحمادون (بہت زیادہ حمد و شکر کرنے والے) ہے، جو اٹھتے بیٹھتے اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں، اور وہ ہرحال میں عبادت پر اپنی کمروں کوکسے رہتے ہیں، اور اپنے اعضاء کو پاک صاف رکھتے ہیں (یعنی ہرحالت میں عبادت کے لیے تیار رہتے ہیں اور پاکیزگی کا اہتمام کرتے ہیں) ، وہ دن کو روزہ دار اور رات کو عابد (راہب) کی طرح ہوتے ہیں۔ میں ان کے چھوٹے چھوٹے اعمال کو کو بھی قبول کروں گا، اور انہیں کلمہ شہادت (لا إله إلا الله) کی گواہی کی بنیاد پر جنت میں داخل کروں گا۔"
موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: "تو پھر مجھے ہی اس امت کا نبی بنا دیں۔"
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اس امت کا نبی انہیں میں سے ہوگا۔"
موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: "تو پھر مجھے ہی اس نبی کی امت میں سے بنا دیجئیے۔"
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "تم آگے ہو گئے ہو اور وہ بعد میں آنے والے ہیں ،اے موسیٰ! البتہ میں تمہیں اور اس نبی کو 'دارالجلال' (جنت) میں اکٹھا کر دوں گا۔"
(محدثین کا تبصرہ:) یہ حدیث زہری کی روایت سے ایک غریب (نایاب) حدیث ہے، جسے ہم نے صرف رباح بن معمر کے طریق سے ہی لکھاہے، اور رباح اور ان سے اوپر کے تمام راوی ثقہ اور عادل ہیں، سوائےجبابری کے ،کہ ان کی روایات میں ضعف (کمزوری) اور نکارت پائی جاتی ہے۔
اس روایت کو نقل کرنے والے "ایوب الجبابری "کے بارے میں خود امام اصفہانی نے نقل کیا ہے کہ ان کی احادیث کم زور اور منکر ہوتی تھیں، جیسا کہ اوپر حوالہ میں مذکور ہے۔
اس روایت کے ایک اور راوی " سعید بن موسی " کے بارے میں علامہ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"سعيد بن موسى عن مالك اتهمه ابن حبان بوضع الحديث، وله عن رباح بن زيد موضوعات".
(المغنی في الضعفاء: ج:1، ص:126، ط:مشکاۃ)
ترجمہ: سعید بن موسی کو ابن حبان نے وضع احادیث کے ساتھ متھم کیا ہے،اور رباح بن زید سے روایت کردہ ان کی کئی موضوع روایتیں ملتی ہیں۔
لہذا یہ روایت قابلِ بیان نہیں ہے، اسے روایت کرنے سے اجتناب ضروری ہے ۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء :
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن