
میرے بہنوئی نے میری بہن سے پہلے ایک عورت سے شادی کی تھی، اس نے اس کو طلاق دے دی، اس کے بعد میری بہن سے نکاح ہوا، اس کے بعد تیسری شادی کی، جس کو بعد میں طلاق دے دی، اب ایک ہفتہ پہلے چوتھی شادی کی، میری بہن ایک سال پہلے شوہر سے ناراضگی کی وجہ سے میرے گھر بیٹھ گئی تھی، وجہ یہ تھی کہ وہ میری بہن اور اس کی بیٹی کو جیب خرچ نہیں دیتا تھا، باقی نان و نفقہ دیتا تھا، میرے گھر آکر بیٹھ جانے کے بعد نان و نفقہ دینا بھی چھوڑ دیا۔
اب میری بہن اپنے شوہر کے پاس جانے کے لیے تیار ہے، لیکن سوکن سے علیحدہ رہائش کا مطالبہ کر رہی ہے، اور ساتھ یہ بھی چاہتی ہے کہ اس کے لیے نان و نفقہ مقرر کر دیا جائے، تاہم اب بہنوئی اس کو رکھنا نہیں چاہتا، اور نہ ہی اس کے لیے الگ رہائش اور نان و نفقہ مقرر کرنے کے لیے آمادہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا میری بہن الگ رہائش اور الگ سے نان و نفقہ کا حق رکھتی ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں شوہر کے ذمہ بیوی کا نان نفقہ اور رہائش کا انتظام ہے، رہائش سے مراد ایسا کمرہ جس میں شوہر کے گھر والوں کی مداخلت نہ ہو،اور نفقہ کی مقدار کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ میاں بیوی دونوں خوشحال ہیں تو مالداروں کا اور اگر دونوں غریب ہیں تو غریبوں کا اور اگر ایک امیر اور ایک غریب ہے تو درمیانے درجے کا نفقہ واجب ہوتاہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے بہنوئی پر اپنی بیوی یعنی سائل کی بہن کو اپنی حیثیت کے مطابق نان و نفقہ اور رہائش دینا ضروری ہے، البتہ سوکن سے علیحدہ رہائش کا مطالبہ نہیں کر سکتی، البتہ باہمی رضامندی سے ہر مہینے کا نان و نفقہ طے بھی کر سکتے ہیں،اسی طرح اگر شوہر صاحب استطاعت ہے تو وہ بیوی کی خواہش کے مطابق اسے الگ گھر بھی لے کر دینا مناسب ہے، تاکہ دونوں بیویاں الگ الگ گھر میں خوش حال رہیں۔
تاہم سائل کے بہنوئی پر لازم ہے کہ وہ دونوں بیویوں کے درمیان رہائش و نان و نفقہ میں برابری کرے،بیویوں کے درمیان برابری نہ کرنے والوں کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ کسی ایک کی جانب جھک جائے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی ایک جانب جھکی ہوئی( فالج زدہ )ہوگی۔"
مرقاۃ المفاتیح لملاعلی قاریمیں ہے:
"قال ابن الهمام: روى أصحاب السنن الأربعة والإمام أحمد والحاكم عن أبي هريرة عنه - عليه الصلاة والسلام - أنه قال: من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل أي مفلوج."
ترجمہ:"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ کسی ایک کی جانب جھک جائے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی ایک جانب جھکی ہوئی( فالج زدہ )ہوگی۔"
ولفظ أبي داود والنسائي " فمال إلى إحداهما على الأخرى "، اهـ. وهذه الألفاظ أنسب إلى قوله تعالى - جل جلاله {فلا تميلوا كل الميل} [النساء: 129] فيكون جزاء وفاقا والله - تعالى - أعلم."
(كتاب النكاح، باب القسم، ج:5، ص:2115، ط:دار الفكر بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"(يجب وظاهر الآية أنه فرض نهر أن يعدل أي أن لا يجور فيه أي في القسم بالتسوية في البيتوتة وفي الملبوس والمأكول والصحبة لا في المجامعة كالمحبة بل يستحب) قوله: وفي الملبوس والمأكول أي والسكنى."
(کتاب النکاح، باب القسم بين الزوجات، ج:3، صفحه:201، ط:دار الفكر بيروت)
وفیہ ایضا :
"قال في البحر: واتفقوا على وجوب نفقة الموسرين إذا كانا موسرين، وعلى نفقة المعسرين إذا كانا معسرين وإنما الاختلاف فيما إذا كان أحدهما موسرا والآخر معسرا، فعلى ظاهر الرواية الاعتبار لحال الرجل، فإن كان موسرا وهي معسرة فعليه نفقة الموسرين، وفي عكسه نفقة المعسرين. وأما على المفتى به فتجب نفقة الوسط في المسألتين وهو فوق نفقة المعسرة ودون نفقة الموسرة"۔
(کتاب الطلاق، باب النفقة، ٥٧٤/٣،ط:سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144706100432
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن