بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

’’جی پی‘‘ فنڈ، کرایہ پر دینے کی غرض سے بنائے گئے مکان اور ضرورت سے زائد سامان پر زکاۃ لازم کا حکم


سوال

ایک حاضر سروس فوجی ہے، اس وقت اس کی ایک لاکھ سے زائد تنخواہ ہے، اور اس کا G.P فنڈ بھی جمع ہو رہا ہے جو کہ ابھی تک 10 لاکھ کے قریب جمع ہوا ہے، اس کے ساتھ اس کا ایک مکان ہے جو کہ ابھی تک کرایہ پر ہے، اور یہ شخص اپنے اس گھر میں نہیں رہتا، بلکہ حکومت کے دیے ہوئے مکان میں رہائش پذیر ہے،حاجتِ اصلیہ سے زائد سامان اس کے پاس موجود ہے، اس کی قیمت تقریبًا ایک لاکھ کے قریب ہے، اور کچھ زمین بھی ہے اس کی ملکیت میں، لیکن اب اس زمین کو مکمل طور پر چھوڑا ہے، اس لیے کہ وہ علاقہ جنگل میں تبدیل ہو گیا ہے، اور وہاں پر لوگوں کی رہائش ختم ہوگئی ہے۔

اب پوچھنا ہے کہ اس شخص پر زکات واجب ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو کتنی ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر مذکورہ شخص کے پاس تمام تر ضروریات (قرضہ، ضروری اخراجات) منہا کرنے کے بعد ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر نقدی (تنخواہ، مکان کا کرایہ، اور اپنے پاس جمع شدہ رقم) یا مالِ تجارت ہو، اور اس پر سال بھی گزر چکا ہو، تو اس پر تمام مالیت کا ڈھائی فیصد بطورِ زکاۃ ادا کرنا لازم ہے۔

واضح رہے کہ ’’جی پی‘‘ فنڈ جب تک وصول نہ ہو اس کو زکاۃ کے حساب میں شمار نہیں کیا جاتا، اسی طرح جو گھر یا زمین تجارت کی غرض سے نہ رکھی گئی ہو، بلکہ رہائش یا کرایہ وغیرہ پر دینے کی نیت ہو، تو ان کی مالیت کو بھی زکاۃ کے حساب میں شمار نہیں کیا جاتا۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ ضرورت سے زائد کسی بھی قسم کے سامان میں اگر تجارت کی نیت نہ کی گئی ہو تو اس پر بھی زکاۃ لازم نہیں ہوتی۔

امداد الاحکام میں ’’پراویڈنٹ فنڈ پر زکاۃ کا مسئلہ‘‘ کے تحت سوال کے جواب میں ہے:

’’صورتِ مسئولہ میں یہ رقم ابھی تک زید کی ملک میں نہیں آئی، اس لیے بھی اداءِ زکاۃ واجب نہیں، ہاں! یہ رقم چوں کہ گورنمنٹ کے ذمہ دَین ہے، اور یہ دَین ضعیف ہے، اس لیے اداءِ زکاۃ بعد قبضِ مال وحولانِ حول کے واجب ہوگا۔۔۔‘‘

(کتاب الزکوۃ، ۲/ ۱۷، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(‌ومنها) كون المال ناميا؛ لأن معنى الزكاة وهو النماء لا يحصل إلا من المال النامي ولسنا نعني به حقيقة النماء؛ لأن ذلك غير معتبر وإنما نعني به كون المال معدا للاستنماء بالتجارة أو بالإسامة؛ لأن الإسامة سبب لحصول الدر والنسل والسمن، والتجارة سبب لحصول الربح فيقام السبب مقام المسبب."

(كتاب الزكاة، فصل شرائط فرضية الزكاة، ٢/ ١١، ط: سعيد)

الفتاوى الهندية میں ہے:

"وأما اليواقيت واللآلئ والجواهر فلا زكاة فيها، وإن كانت حليا إلا أن تكون للتجارة كذا في الجوهرة النيرة. ولو اشترى قدورا من صفر يمسكها ويؤاجرها لا تجب فيها الزكاة كما لا تجب في بيوت الغلة، ولو دخل من أرضه حنطة تبلغ قيمتها قيمة نصاب ونوى أن يمسكها أو يبيعها فأمسكها حولا لا تجب فيه الزكاة كذا في فتاوى قاضي خان. ولو أن نخاسا يشتري دواب أو يبيعها فاشترى جلاجل أو مقاود أو براقع فإن كان بيع هذه الأشياء مع الدواب ففيها الزكاة، وإن كانت هذه لحفظ الدواب بها فلا زكاة فيها كذا في الذخيرة. وكذلك العطار لو اشترى القوارير، ولو اشترى جوالق ليؤاجرها من الناس فلا زكاة فيها؛ لأنه اشتراها للغلة لا للمبايعة كذا في محيط السرخسي. والخباز إذا اشترى حطبا أو ملحا لأجل الخبز فلا زكاة فيه."

(کتاب الزكاة، الباب الثالث، الفصل الثاني، ١/ ١٨٠، ط: رشيدية)

فتح القدير على الهداية میں ہے:

"قسم أبو حنيفة الدين إلى ‌ثلاثة أقسام: قوي وهو بدل القرض ومال التجارة. ومتوسط وهو بدل مال ليس للتجارة كثمن ثياب البذلة وعبد الخدمة ودار السكنى. وضعيف وهو بدل ما ليس بمال كالمهر والوصية وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية وبدل الكتابة والسعاية. ففي القوي تجب الزكاة إذا حال الحول ويتراخى الأداء إلى أن يقبض أربعين درهما ففيها درهم وكذا فيما زاد فبحسابه، وفي المتوسط لا تجب ما لم يقبض نصابا وتعتبر لما مضى من الحول في صحيح الرواية، وفي الضعيف لا تجب ما لم يقبض نصابا ويحول الحول بعد القبض عليه، وثمن السائمة كثمن عبد الخدمة."

(كتاب الزكاة، ٢/ ١٦٨، ط: دار الفكر، بيروت)

فقط والله تعالى أعلم


فتویٰ نمبر : 144704100299

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں