بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا دوسرے نکاح میں یہ شرط لگانا کہ فریقین ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے جائز ہے؟


سوال

ايك شخص دوسرا نکاح کرے ،اس شرط پر کہ اگر اہلیہ کا انتقال ہوجائے ،تو شوہر کا ورثہ میں کوئی حق نہیں ہوگا،اور اگر شوہر کا انتقال ہوجائے ،تو اہلیہ کا ورثہ میں کوئی حق نہیں ہوگا،تو اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

اور نکاح کرنے کا مقصد یہ ہے ،کہ جتنی زندگی باقی ہے ،دونوں مل جل کر ایک دوسرے کو دین پر چلنے میں مددگار ہو۔

جواب

واضح رہے کہ وراثت اللہ تعالی کی طرف سے مقرر کردہ ایک قانون ہے ،جس کی تفصیل قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ بیان کی گئی  ہے ،شریعت مطہرہ نے دیگر شرعی ورثاء کی طرح میاں بیوی میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں دونوں کو ایک دوسرے کا شرعی وارث قرار دیا ہے ،لہذا اسے کسی انسان یامیاں بیوی کی شرط سے ختم  نہیں کیا جاسکتا ہے ،البتہ  چار اسباب ایسے ہیں جس کی وجہ سے وارث کو میراث سے محروم کیا جائے گا ۔1۔غلامی ،2۔قتل ،3۔اختلاف دین ،4۔اختلاف دارین۔

لہذا صورت  مسئولہ میں  نکاح کے وقت اس طرح کے  شرط لگانے سے حق ارث ختم نہیں ہوگا ،بلکہ یہ شرطِ فاسد   لغو ہوکر عقد نکاح درست اور منعقد  ہوجائے گا ،اور  میاں بیوی بدستور ایک دوسرے کے وارث ہونگے ۔

البتہ اگر میاں بیوی دونوں اپنی زندگی میں ایک دوسرے کو کچھ مال وغیرہ دے  کر یہ معاہدہ کرلیں ،کہ شوہر کے انتقال کے بعد بیوی کو اور بیوی کے انتقال کے بعد شوہر کو ایک دوسرے کی میراث (ترکہ )میں سے کچھ نہیں ملیگا ،بلکہ وہ ترکہ میاں بیوی کے دیگر شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا ،تو شرعا ایسا معاہدہ کرنا جائز اور درست ہوگا ۔

فتاوی عالمگیری میں ہے :

"الرق يمنع الإرث۔۔۔القاتل بغير حق لا يرث من المقتول شيئا۔۔۔واختلاف الدين أيضا يمنع الإرث والمراد به الاختلاف بين الإسلام والكفر۔۔۔واختلاف الدارين يمنع الإرث"

 (كتاب الفرائض ،الباب السادس فی موانع الارث، ج:6، ص:  454 ،ط:دار الفکر، بیروت)

الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے :

"وموانع الإرث المتفق عليها بين الأئمة الأربعة ثلاثة: الرق، والقتل، واختلاف الدين، واختلفوا في ثلاثة أخرى وهي: الردة، واختلاف الدارين، والدور الحكمي".

(إرث ،موانع الإرث ،ج:3،ص: 22، ط:دار السلاسل،کویت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولكن لا يبطل) النكاح (بالشرط الفاسد و) إنما (يبطل الشرط دونه) يعني لو عقد مع شرط فاسد لم يبطل النكاح بل الشرط بخلاف ما لو علقه بالشرط".

(کتاب النکاح ،فصل فی المحرمات ،ج:3، ص: 53،ط :سعید)

وفیہ ایضا:

"قال القهستاني: واعلم أن الناطفي ذكر عن بعض أشياخه أن المريض إذا عين لواحد من الورثة شيئا كالدار على أن لا يكون له في سائر التركة حق يجوز".

 (کتاب الوصایا ،ج:6، ص: 655، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144711100327

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں