
میرے والدین کا انتقال ہوا ہے،ان کے ورثاء میں تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے،جبکہ دادا دادی نانا اور نانی کا والدین سے پہلے انتقال ہوچکا تھا۔
پھر میری بہن کا انتقال ہوا،اس کے ورثاء میں شوہر اور ہم تین بھائی ہیں،جبکہ بہن کی کوئی اولاد نہیں ہے۔
تو کیا میرے بہنوئی کا میرے والدین کے ترکہ میں کوئی حصہ ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں سائل کا بہنوئی براہ راست سائل کے والدین کے ترکہ کا حقدار نہیں،البتہ والدین کے ترکہ کی تقسیم سے قبل فوت ہونے والی اس کی بیوی چونکہ وراثتی حصہ کی حقدار تھی ،لہذا مرحومہ کو ملنے والے حصہ کے آدھے کا مذکورہ بہنوئی شرعا حقدار ہوگا ۔
پس سائل کے مرحوم والدین کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحومین کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ (اگر اب تک ادا نہ کیا ہو، یا کسی نے بطور قرض ادا کیا ہو، کو) نکالنے کے بعد، اگر مرحومین پر کوئی قرضہ ہو، تو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو اس کو باقی ترکہ کے ایک تہائی سے پورا کرنے کے بعد، بقیہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو (42) حصوں میں تقسیم کرکے (13) حصے مرحوم والد ین کے ہر ایک بیٹے کو، اور (3) حصے مرحومہ بیٹی کے شوہر( سائل کے بہنوئی)کوملیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہے:
میت:(والدین مرحومین): 42/7
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 1 |
| 12 | 12 | 12 | فوت شدہ |
میت:(بیٹی)6/2۔۔مف:1
| شوہر | بھائی | بھائی | بھائی |
| 1 | 1 | ||
| 3 | 1 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحومین کے ترکہ کا(30.952) فیصد مرحوم والد ین کے ہر ایک بیٹے کو ،اور (7.142) فیصد مرحومہ بیٹی کے شوہر(سائل کے بہنوئی)کو ملے گا۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
"وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّھُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَھُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصِيْنَ بِھَآ اَوْ دَيْنٍ ۭوَلَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوْصُوْنَ بِھَآ اَوْ دَيْنٍ ۭ وَاِنْ كَانَ رَجُلٌ يُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّلَهٗٓ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ ۚ فَاِنْ كَانُوْٓا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَھُمْ شُرَكَاۗءُ فِي الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصٰى بِھَآ اَوْ دَيْنٍ ۙغَيْرَ مُضَاۗرٍّ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَلِيْمٌ "۔
"ترجمہ:جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں اس میں تمہارا آدھا حصہ ہے بشرطیکہ ان کی اولاد نہ ہو ،اور اگر ان کی اولاد ہو تو اس میں سے جو چھوڑ جائیں ایک چوتھائی تمہارا ہے ۔اس وصیت کے بعد جو وہ کر جائیں یا قرض کے بعد ۔اور عورتوں کے لیے چوتھائی مال ہے جو تم چھوڑ کر مرو ،بشرطیکہ تمہاری اولاد نہ ہو،پس اگر تمہاری اولاد ہو تو جو تم نے چھوڑا اس میں ان کا آٹھواں حصہ ہے اس وصیت کے بعد جو تم کر جاؤ یا قرض کے بعد ۔اور اگر وہ مرد یا عورت جس کی یہ میراث ہے باپ بیٹا کچھ نہیں رکھتا اور اس میت کا ایک بھائی یا بہن ہے تو دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے پس اگر اس سے زیادہ ہوں تو ایک تہائی میں سب شریک ہیں وصیت کی بات جوہو چکی ہو یا قرض کے بعد بشرطیکہ اور روں کا نقصان نہ ہو یہ اللہ کا حکم ہے اور اللہ جاننے والا تحمل کرنے والا ہے۔"(النساء: الآیۃ: 12)
معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع دیوبندی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
"شوہر اور بیوی کا حصہ:- مندرجہ بالا سطور میں شوہر اور بیوی کے حصوں کی تعیین کی گئی ہے اور پہلے شوہر کا حصہ بتایا، شاید اس کو مقدم کرنے کی وجہ یہ ہو کہ اس کی اہمیت ظاہر کرنا مقصود ہے، کیونکہ عورت کی وفات کے بعد شوہر دوسرے گھر کا آدمی ہو جاتا ہے، اگر اپنے میکہ میں عورت کا انتقال ہوا ہو اور اس کا مال وہیں ہو تو شوہر کا حصہ دینے سے گریز کیا جاتا ہے، گویا اس زیادتی کا سدباب کرنے کے لئے شوہر کا حصہ پہلے بیان فرمایا اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ فوت ہونے والی عورت نے اگر کوئی بھی اولاد نہ چھوڑی ہو تو شوہر کو بعد اداءدین و انفاذ وصیت کے مرحومہ کے کل کا نصف ملے گا اور باقی نصف میں دوسرے ورثاءمثلاً مرحومہ کے والدین،یا بھائی بہن ، حسب قاعدہ حصہ پائیں گے۔
اور اگر مرنے والی نے اولاد چھوڑی ہو، ایک ہو یا دو ہوں یا اس سے زائد ہوں، لڑکا ہو یا لڑکی ہو، اس شوہر سے ہو جس کو چھوڑ کر وفات پائی ہے، یا اس سے پہلے کسی اور شوہر سے ہو، تو اس صورت میں موجودہ شوہر کو مرحومہ کے مال سے اداءدین و انفاذ وصیت کے بعد کل مال کا چوتھائی ملے گا اور بقیہ تین چوتھائی حصے دوسرے ورثاء کو ملیں گے ۔۔۔ یہ شوہر کے حصہ کی تفصیل تھی۔"
( النساء، الآیۃ:12، ج: 1، ص: 325، ط: مکتبہ معارف القرآن )
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"(الباب الخامس عشر في المناسخة) وهو أن يموت بعض الورثة قبل قسمة التركة كذا في محيط السرخسي وإذا مات الرجل، ولم تقسم تركته حتى مات بعض ورثته فالحال لا يخلو إما أن يكون ورثة الميت الثاني ورثة الميت الأول فقط أو يكون في ورثة الميت الثاني من لا يكون وارثا للميت الأول ثم لا يخلو إما أن تكون قسمة التركة الثانية وقسمة التركة الأولى سواء، أو تكون قسمة التركة الثانية بغير الوجه الذي قسمت التركة الأولى ثم لا يخلو إما أن تستقيم قسمة نصيب الميت الثاني من تركة الميت الأول بين ورثته من غير كسر أو ينكسر فإن كانت ورثة الميت هم ورثة الميت الأول، ولا تغير في القسمة تقسم قسمة واحدة؛ لأنه لا فائدة في تكرار القسمة بيانه إذا مات وترك بنين وبنات ثم مات أحد البنين أو إحدى البنات ولا وارث له سوى الإخوة والأخوات قسمت التركة بين الباقين على صفة واحدة للذكر مثل حظ الأنثيين فيكتفي بقسمة واحدة بينهم وأما إذا كان في ورثة الميت الثاني من لم يكن وارثا للميت الأول فإنه تقسم تركة الميت الأول، أولا ليتبين نصيب الثاني ثم تقسم تركة الميت الثاني بين ورثته فإن كان يستقيم قسمة نصيبه بين ورثته من غير كسر فلا حاجة إلى الضرب"
(كتاب الفرائض وفيه ثمانية عشر بابا، الباب الخامس عشر في المناسخة، ج: 6، ص: 470، ط: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100986
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن