
کیا کارٹون دیکھنے اور فلم دیکھنے میں کوئی فرق ہے؟ یعنی فلم/ڈرامہ جس میں کردار ادا کرنے والے دیکھنے میں اصل حقیقی انسان ہوتے ہیں، جبکہ کارٹون میں ایسا نہیں ہوتا، بلکہ غیر حقیقی انسان کارٹون کے بنے ہوئے ہوتے ہیں؟
نیز دونوں میں لڑکیاں، لڑکے ہوتے ہیں، لہذا اگر نا محرم کی تصویر آجائے تو دونوں ( یعنی فلم/حقیقی تصویراور کارٹون) میں دیکھنا جائز ہوگا، یا نا جائز، یا دونوں کے حکم میں فرق ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں فلم دیکھنا اور کارٹون دیکھنادونوں قطعاًجائزنہیں، عدم جواز کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ،دونوں ہی جاندار کی تصویر پر مشتمل ہوتے ہیں ،اور از روئے شرع کسی بھی جان دار کی تصویر بنانا، رکھنا اور دیکھنا قطعاًجائز نہیں۔
البتہ سائل کا یہ کہنا کہ فلم یا ڈرامہ میں کردار اداکرنے والے حقیقی انسان ہوتے ہیں اور کارٹون میں غیر حقیقی انسان ہوتے ہیں تو سائل کا یہ کہنابےسود ہے ،کیونکہ تصویر بنانے اوردیکھنے کی ممانعت کے لیے حقیقی جاندارکا ہوناضروری نہیں ،بلکہ کسی بھی جاندار کی صورت بنانایا دیکھنا ،چاہے اس کی صورت اور شکل دنیا میں حقیقتاً پائی جاتی ہو یا نہ پائی جاتی ہو ممنوع ہے۔
صحیح مسلم میں ہے:
" قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :إن أصحاب هذه الصور يعذبون. ويقال لهم: أحيوا ما خلقتم".
(كتاب اللباس والزينة، باب: تحريم تصوير صورة الحيوان، وتحريم اتخاذ ما فيه صورة غير ممتهنة بالفرش ونحوه، وأن الملائكة عليهم السلام لا يدخلون بيتا فيه صورة ولا كلب، ج:3، ص:1669، ط:داراحیاء التراث العربي بیروت)
"ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یقیناً، ان تصویروں کے بنانے والے عذاب دیے جائیں گے، اور ان سے کہا جائے گاجو کچھ تم نے بنایا ہے، اسے زندہ کرو۔"
وفیہ ایضاً:
"عن مسروق ، عن عبد الله ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن أشد الناس عذاباً يوم القيامة المصورون ".
(كتاب اللباس والزينة، باب: تحريم تصوير صورة الحيوان، وتحريم اتخاذ ما فيه صورة غير ممتهنة بالفرش ونحوه، وأن الملائكة عليهم السلام لا يدخلون بيتا فيه صورة ولا كلب، ج:3، ص:1670، ط:دار احیاء التراث العربي بیروت)
"ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ سخت عذاب قیامت میں تصویر بنانے والوں کو ہو گا۔“
البحر الرائق میں ہے:
"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان وأنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه صلى الله عليه وسلم «أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم» ثم قال وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فصنعته حرام على كل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم ودينار وفلس وإناء وحائط وغيرها اهـ.فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل لتواتره."
(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:2، ص:29، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"علة حرمة التصوير المضاهاة لخلق الله تعالى، وهي موجودة في كل ما ذكر. وعلة كراهة."
(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:647، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101311
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن