
اگر کوئی انسان کسی کے ساتھ بھلائی کامعاملہ کرے ،توکیا جس کے ساتھ بھلائی کی گئی ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اس بھلائی کرنے والے کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے؟
شریعت ِمطہرہ نے شکر گزاری کی تعلیم دی ہے، رسول ِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جوشخص لوگوں کاشکرادانہیں کرتاوہ اللہ کا شکر گزار بھی نہیں ہوتا، لہٰذامحسن کے ساتھ بدسلوکی کرنااحسان فراموشی کے زمرے میں داخل ہے،جس سے اجتناب کرناتعلیماتِ دین کے عین مطابق ہے،رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاعام معمول بھی یہی رہاہے،یہاں تک کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی سلول نے کسی موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حسن سلوک کا معاملہ کیا تھا، اسی کے بدلہ کےطورپر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی موت کے بعد کفن کے طور پر اپنی قمیض عنایت فرمائی تھی، لہٰذا مسلمان کو احسان فراموش نہیں ہونا چاہیے، بھلائی کرنے والے کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرنا چاہیے،چنانچہ آیتِ قرآنی" ھلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ "سے بھی یہی حکم مستفاد ہوتا ہے۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
ھلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ (سورة الرحمن :آیت 60)
ترجمہ: بھلا غایت اطاعت کا بدلہ بجز عنایت کے اور بھی کچھ ہوسکتا ہے ۔(ازبيان القرآن)
سنن الترمذی میں ہے:
"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من لا يشكر الناس لا يشكر الله."
(أبواب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء في الشكر لمن أحسن إليك، ج:3، ص:505، ط:دار الغرب الإسلامي)
صحيح البخاری میں ہے:
"حدثنا عبد الله بن محمد: حدثنا ابن عيينة، عن عمرو: سمع جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال:لما كان يوم بدر، أتي بأسارى، وأتي بالعباس، ولم يكن عليه ثوب، فنظر النبي صلى الله عليه وسلم له قميصا، فوجدوا قميص عبد الله بن أبي يقدر عليه، فكساه النبي صلى الله عليه وسلم إياه، فلذلك نزع النبي صلى الله عليه وسلم قميصه الذي ألبسه، قال ابن عيينة: كانت له عند النبي صلى الله عليه وسلم يد، فأحب أن يكافئه."
( كتاب الجهاد والسير، باب: كسوة للأسارى، ج:3، ص:1095، ط:دار ابن كثير)
ترجمہ :عمرو سے روایت ہے کہ انہوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا:"جنگِ بدر کے دن قیدی لائے گئے، اور عباس رضی اللہ عنہ بھی لائے گئے، اور ان کے جسم پر کوئی کپڑا نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے کوئی قمیص تلاش کی، تو لوگوں نے عبداللہ بن اُبی کی قمیص ایسی پائی جو ان کے مطابق تھی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قمیص حضرت عباس کو پہنا دی،اسی وجہ سے (بعد میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وہ قمیص اتار دی تھی جو انہوں نے (زندگی میں) عبداللہ بن اُبی کو پہنائی تھی۔ ابن عیینہ کہتے ہیں: عبداللہ بن اُبی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک احسان تھا جس کا بدلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دینا چاہتے تھے۔"
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100374
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن