بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بیرونِ ملک مقیم مسلمانوں کو رہائشی مشکلات کی وجہ سے سودی قرض لے کر ذاتی گھر بنانے کی اجازت ہے؟


سوال

میں ڈنمارک میں مقیم ہزاروں مسلمان خاندانوں کی طرف سے آپ سے رابطہ کر رہا ہوں، ہم آپ کی راہ نمائی چاہتے ہیں کہ کیا روایتی بینکوں کے قرض کے ذریعے گھر خریدنا جائز ہے؟ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ غیر مسلم ممالک میں رہنے والے مسلمان اپنے رہائش کی ضروریات کو اسلامی اصولوں کے مطابق پورا کرنے میں منفرد چیلنجوں کا سامنا کرتے ہیں، ڈنمارک میں کرائے کے بازار میں نمایاں مشکلات درپیش ہیں، جن میں شامل مندرجہ ذیل مشاکل ہیں:

۱: اونچے کرایے: مناسب رہائش کا کرایہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے خاندانوں، خاص طور پر کم آمدنی والے خاندانوں کے لئے مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔

۲: محدود جگہ: بہت سی کرایے کی جائیدادیں چھوٹے اپارٹمنٹ ہیں، جو بڑے خاندانوں کی ضروریات کے مطابق نہیں ہیں، جیسے جیسے ہمارے بچے نوعمر ہو رہے ہیں، ہمیں پرائیویسی اور جگہ کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ ان کی تعلیم اور ذاتی ترقی پر اثر انداز ہوتا ہے۔

۳: استحکام اور تحفظ: کرایہ داری طویل مدتی استحکام فراہم نہیں کرتی، بار بار منتقلی ٗ خاندان کی زندگی اور بچوں کی تعلیم میں خلل ڈالتی ہے، گھر کی ملکیت ہمارے خاندانوں کے لئے استحکام اور تحفظ کا احساس فراہم کرے گی۔

۴: مالی بوجھ: کرایہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہمارے مالی بوجھ میں اضافہ کرتا ہے، اور وسائل کو موڑ دیتا ہے جو دیگر ضروریات جیسے تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے لئے استعمال ہو سکتے ہیں۔

اضافی چیلنجز:

۱: اونچے کرایے کے اخراجات: کرایے کے اپارٹمنٹ بہت مہنگے ہیں، اور ہماری ماہانہ آمدنی کا تقریباً ۳۵% سے ۴۰% حصہ کرایہ پر خرچ ہوتا ہے۔

۲: جائیداد میں سرمایہ کاری: اگر ہم روایتی بینکوں کے قرض کے ذریعے گھر خریدتے ہیں، تو ہم اپنی آمدنی کا تقریباً ۴۵-۴۰% حصہ قسطوں پر ادا کریں گے، اور ۲۵-۲۰ سال میں ہم گھر کے مالک بن جائیں گے، یہ ایک قسم کی سرمایہ کاری ہے۔

۳: عقل مندی سے مالی فیصلے: مسلمانوں کو عقلمندی سے مالی فیصلے کرنے چاہئیں، اور سالوں تک بہت زیادہ کرایہ ادا کرنے سے بچنا چاہئے، گھر کی ملکیت طویل المدتی مالی فوائد فراہم کرتی ہے۔

۴: اسلامی بینکاری کی کمی اور جائیداد کی اونچی قیمتیں: یہاں کوئی اسلامی بینک نہیں ہیں، اور گھروں کی قیمتیں انتہائی زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے نقد خریدنا ممکن نہیں ہے، مثال کے طور پر: ایک عام گھر کی قیمت ۱۰ سے ۱۵ کروڑ پاکستانی روپے ہے، جبکہ اوسط گھریلو آمدنی ۱۰ سے ۱۴ لاکھ روپے ہے، آمدنی کا ۳۵% سے ۴۰% کرایہ پر خرچ ہونے کی وجہ سے ٗ نقد گھر خریدنے کے لئے پیسے بچانا مشکل ہے۔

۵: مختلف علماء کی آراء: کچھ علماء جیسے بیلجؔیم کے اسلامی مرکز میں علماء نے کہا ہے کہ یورپ میں رہنے کے مقصد کے لئے ٗ نہ کہ کاروبار کے لئے، روایتی بینکوں کے قرضوں کے ذریعے گھر خریدنا جائز ہے۔

۶: کمیونٹی اور تعلیمی چیلنجز: چوں کہ کرائے کے اپارٹمنٹ زیادہ تر مرکزی طور پر منظم ہوتے ہیں، اس لئے مسلمانوں کے لئے ایک ہی علاقے میں اپارٹمنٹ کرایہ پر لینا مشکل ہے، عام طور پر مطلوبہ مقام پر اپارٹمنٹ کرایہ پر لینے کے لئے ۵-۴ سال سے زیادہ کا انتظار کرنا پڑتا ہے، اس کے نتیجے میں مسلمان اکثر ۳۰-۱۰ کلومیٹر کے فاصلے پر منتشر ہوتے ہیں، یہ انتشار ٗ ایک اسلامی ادارہ قائم کرنے کو مشکل بناتا ہے، جہاں ہم خود کو اور اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات سکھانے کے لئے اساتذہ کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں، اگر ہم گھر خرید سکیں، تو ہم ایک دوسرے کے قریب گھر خرید سکتے ہیں، جس سے اسلامی ادارے کے قیام میں مدد ملے گی، اس سے ہمارے بچوں کو مسلم کمیونٹی میں رہنے کا موقع ملے گا، جو انہیں غیر مسلم معاشرے کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد کرے گا۔

ان چیلنجوں کے پیش نظر ہم اپنے خاندانوں کے لیے مستحکم اور موزوں رہائش فراہم کرنے کے لئے گھروں کی خریداری پر غور کر رہے ہیں، تاہم اس خریداری کے لئے دستیاب واحد قابل عمل آپشن روایتی بینکوں کا قرض ہے، جو سود (ربا) پر مشتمل ہوتا ہے، اسلام میں ربا کی شدید ممانعت کو سمجھتے ہوئے ٗ ہم ایک مخمصہ میں ہیں، اور آپ کی ماہرانہ راہ نمائی چاہتے ہیں۔

۱: لہذا کیا کرایہ کے بازار میں درپیش مشکلات اور چیلنجوں کے پیش نظر ٗ گھر خریدنے کے مقصد کے لئے روایتی بینک قرض لینا جائز ہے؟

۲: اگر ہم اس آپشن کے ساتھ آگے بڑھیں، تو کیا ہمیں کوئی خاص شرائط یا نیتیں برقرار رکھنی چاہئیں؟

۳: اگر یہ جائز نہیں ہے، تو کیا آپ ہماری صورتِ حال میں مسلمانوں کے لیے متبادل حل یا اسلامی مالیاتی آپشنز تجویز کریں گے؟

ہم اپنے علماء کی راہ نمائی کو گہرائی سے اہمیت دیتے ہیں، اور امید کرتے ہیں کہ ہمیں ایسا حل ملے گا جو ہماری عملی ضروریات اور مذہبی فرائض کے درمیان توازن پیدا کرے، ہم آپ کے جواب کے منتظر ہیں، اور دعا گو ہیں کہ آپ امت کی رہنمائی میں کامیاب ہوں۔

جواب

واضح رہے کہ سود لینا اور دینا دونوں ہی کبیرہ گناہ ہیں، قرآنِ کریم میں سود کی حرمت کا باقاعدہ اعلان آجانے کے باوجود سودی معاملات کرنے والے کے خلاف ٗ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے جنگ کا اعلان کیا گیا ہے، لہذا سود لینا، دینا یا سودی معاملہ میں کسی بھی قسم کا تعاون کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔

تاہم یہ بات مسلَّم ہے کہ شریعتِ مطہرہ میں جس طرح مجبوری واضطرار کی حالت میں دیگر حرام چیزیں وقتی طور پر مباح کردی جاتی ہیں، اسی طرح فقہاءِ کرام نے شدید مجبوری واضطرار کی حالت میں سودی قرضہ کی وقتی اباحت کی بھی صراحت کی ہے، تاہم دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ شدید مجبوری اور اضطرار کی صورت کیا ہے؟

چناں چہ فتاویٰ محمودیہ میں سودی قرضہ لینے سے متعلق اضطرار کی حالت کی وضاحت یوں کی گئی ہے:

’’حرام کا ارتکاب اضطرار کی حالت میں معاف ہے، پس اگر جان کا قوی خطرہ ہے، یا عزت کا قوی خطرہ ہے، نیز اَور کوئی صورت اس سے بچنے کی نہیں، مثلاً جائیداد فروخت ہوسکتی ہے، نہ روپیہ بغیر سود کے مل سکتا ہے، تو ایسی حالت میں زید شرعاً معذور ہے، اور اگر ایسی ضرورت نہیں، بلکہ کسی اَور دنیوی کاروبار کے لیے ضرورت ہے، یا روپیہ بغیر سود کے مل سکتا ہے، یا جائیداد فروخت ہوسکتی ہے، تو پھر سود پر قرض لینا جائز نہیں، کبیرہ گناہ ہے۔‘‘

(فتاویٰ محمودیہ، جلد: ۱۶، ص: ۳۰۵، ط: ادارۃ الفاروق)

اسی طرح ’’کفایت المفتی‘‘ میں سودی قرضہ لینے کے جواز کے لیے اضطرار کی حالت کو یوں بیان کیا گیا ہے:

’’اضطرار کی حالت میں جب کہ تین فاقے ہوچکے ہوں ٗ بقدرِ سدِ رمق سودی رقم حاصل کرنا مباح ہے، اس سے زیادہ رقم لینا یا اس سے کم ضرورت میں لینا جائز نہیں۔‘‘

(کفایت المفتی، جلد: ۲، ص: ۲۳۰، ط: دار الاشاعت کراچی)

نیز ’’فتاویٰ بیّنات‘‘ میں ایک فتویٰ کے ذیل میں اضطرار کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے کہ:

’’اضطرار یہ ہے کہ ممنوع چیز کو استعمال کیے بغیر جان بچانے کی کوئی صورت ہی نہ ہو، یہی وہ اضطراری صورت ہے جس میں خاص شرائط کے ساتھ حرام کا استعمال مباح ہوجاتا ہے۔

حاجت یہ ہے کہ ممنوع چیز کو استعمال نہ کرنے سے ہلاکت کا اندیشہ تو نہیں، لیکن مشقت اور تکلیفِ شدید ہوگی، اس حالت میں نماز، روزہ، طہارت وغیرہ کے احکام کی سہولتیں تو ہوں گی، مگر حرام چیزیں مباح نہ ہوں گی۔‘‘

(فتاویٰ بینات، جلد: ۴، ص: ۳۴۲، ط: مکتبۂ بینات، سنہ ۲۰۰۶)

لہذا صورتِ مسئولہ میں چوں کہ سائل کی بیان کردہ مجبوریاں ٗ  اوپر بیان کی گئی تعریفات کی رو سے ’’اضطرار شرعی‘‘ کے تحت داخل نہیں ہیں، اس لیے ان مجبوریوں کو بچشم پوشی ٗ حاجات میں تو داخل مانا جاسکتا ہے، اضطرار میں کسی صورت داخل مان کر سودی قرضہ لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، جس کی تفصیل یوں کی جاسکتی ہے کہ :

کرایہ کی زیادتی اور یہ کہ اگر کرایہ نہ ہوتا تو ہم دیگر ضروریات میں پیسے صَرف کرلیتے:

گھر انسان کی حاجتِ اصلیہ میں داخل ہے، تاہم ’’ذاتی گھر‘‘ انسان کی حاجت میں داخل نہیں ہے، بلکہ سر چھپانے کی ایک متوسط جگہ کا ہونا کافی ہے، خواہ وہ ذاتی ہو یا کرائے کی، جو کہ سائل اور ڈنمارک میں مقیم دیگر مسلمانوں کو بحمد اللہ حاصل ہے، باقی کرائے کے زیادہ ہونے اور کرائے میں آمدنی کا تیس سے پینتیس فیصد خرچ ہونے کے باوجود بھی سائل اور ان کے اہلِ خانہ کی کھانے، پینے اور پہننے اوڑھنے اور تعلیم وعلاج وغیرہ کی تمام تر ضروریات اگر پوری ہو ہی رہی ہیں، اور کوئی ضرورت رک نہیں رہی ہے، تو کرائے کی زیادتی کا عذر کرنا،  نیز یہ کہنا کہ ’’اگر کرایہ نہ دینا پڑتا تو ہم اس کرائے کو دیگر ضروریات میں صَرف کردیتے‘‘ بے جا ہے۔

کرائے کے مکانوں میں جگہ کا محدود ہونا:

نیز اگر کرایہ کے مکان میں جگہ کم ہے، تو سائل کو چاہیے کہ اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی ضرورت کے مطابق ایک متوسط دوسری رہائش گاہ کا انتظام کرے، اور اس میں لازماً پیسے زیادہ خرچ ہوں گے، اس کے لیے سائل کو اپنا معیارِ زندگی کچھ پست کرنے کی ضرورت ہوگی، یعنی یہ دیکھا جائے کہ ماہانہ آمدنی میں ضروریات کی چیزیں نکالنے کے بعد کون سے ایسے اخراجات ہیں ٗ جو در حقیقت ضرورت میں داخل نہیں ہیں؟ اور انہیں تلاش کرنے کے بعد انہیں زندگی سے نکالنے کی کوشش کی جائے۔

کرائے کے مکانات کی بار بار منتقلی سے عدمِ تحفظ کا احساس:

اسی طرح کرائے کے مکانات کی بار بار منتقلی سے اگر تحفظ کا احساس نہیں ہے، تو اس بات کا کیا وثیقہ ہے کہ ذاتی گھر تبدیل نہیں کرنا پڑسکتا، جب کہ عام مشاہدہ ہے کہ کئی افراد باوجود ذاتی گھر لینے کے ٗ خارجی مختلف اعذار کی وجہ سے بار بار انہیں تبدیل کرتے ہیں۔

اگر کرایہ بچالیں تو سرمایہ کاری کرکے ہم گھر کے مالک بن سکتے ہیں:

باقی یہ بات بیان کی جاچکی ہے کہ مکان کا مالک بننا اصل ضرورت نہیں ہے، بلکہ سر چھپانے کو ایک متوسط جگہ خواہ کرائے کی ہو ٗ کافی ہے، تو جو چیز شرعاً یا عرفاً ضرورت میں داخل ہی نہیں ہے، اس کے لیے حرام کا ارتکاب کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟

اگر ذاتی مکانات ایک جگہ لے لیں، تو اسلامی مرکز قائم کرسکتے ہیں:

اسی طرح تمام یا اکثر مسلمانوں کا مل کر ایک کمیونٹی کے اندر رہنا بھی کوئی ایسی ضرورت نہیں ہے، جس کی وجہ سے سودی قرضہ حاصل کرکے گھر خریدنے کی اجازت دی جائے؛ کیوں کہ دین کے بنیادی مسائل سیکھ کر ان پر عمل کرنا ایک مستتقل علیحدہ فریضہ ہے، جو کہ ان مسلمانوں پر بھی ضروری ہے جو کفار ممالک میں مقیم ہیں، اس کے لیے اسلامی مراکز کا قیام اور عدمِ قیام ضروری نہیں ہے۔

الغرض یہ کہ سائل کی بیان کردہ مجبوریاں شرعاً ’’اضطرار‘‘ کی حد میں داخل نہیں ہیں، اس لیے سائل کو سودی قرضہ لینے کی شرعاً اجازت نہیں ہے، تاہم سائل مندرجۂ ذیل ہدایات پر عمل کرسکتے ہیں:

۱: روزانہ کی بنیاد پر صلاۃ الحاجت پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے اس بارے میں خوب الحاح وزاری کے ساتھ دعا کی جائے۔

۲: کہیں سے غیر سودی قرضہ لینےکی کوشش کی جائے، چاہے بدلے میں کوئی چیز ہی رہن (گِروی) کیوں نہ رکھوانی پڑے۔

۳: غیر ضروری اخراجات حتی الامکان کم کیے جائیں، نیز پر تعیش معیارِ زندگی کو پست کیا جائے، اور گھر کی ملکیت حاصل کرنے کے لیے بچت کی جائے۔

۴: منافع بخش دیگر حلال آزاد تجارتوں کی طرف توجہ دی جائے، اور انہیں فروغ دیا جائے، سود کا اصلی متبادل درحقیقت یہی تجارت ہے۔

۵: اگر کرائے کے مکانات میں زندگی گزارنا بہت ہی مشکل ہوجائے، تو کسی اسلامی ملک میں روزگار تلاش کرنے کے بعد ٗ وہیں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ہجرت کرلیں، جہاں مسلمان آبادیوں کے ساتھ ساتھ مسلمان ہمدرد اور قریبی رشتہ دار موجود ہوں، جو ضرورت پڑنے پر مالی اور جسمانی ساتھ دے سکیں۔

باقی جب تک ایسی کیفیت نہ ہوجائے کہ سائل کے پاس کھانے پینے کے لیے بھی کچھ باقی نہ بچے، تب تک سائل اور ڈنمارک میں مقیم دیگر مسلمان افراد کو صرف ’’ذاتی گھر‘‘ حاصل کرنے کے لیے سودی قرضہ لینے کی اجازت شرعاً نہ ہوگی۔

سورة البقرة میں ہے:

"یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ٭ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ."

ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے ٗ اس کو چھوڑ دو*اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگر تم (اس پر عمل) نہ کرو گے، تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے (یعنی تم پر جہاد ہوگا)۔‘‘

(آیت: ۲۷۸، ۲۷۹، ترجمہ: از بیان القرآن)

سورۃ الأنعام   میں ہے:

"وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ."

ترجمہ: ’’حالاں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب جانوروں کی تفصیل بتلادی ہے جن کو تم پر حرام کیا گیا ہے، مگر وہ بھی جب تم کو سخت ضرورت پڑجاوے تو حلال ہے۔‘‘

(ترجمہ از بیان القرآن)

الأشباه والنظائر میں ہے:

"وفي القنية والبغية: يجوز للمحتاج ‌الاستقراض بالربح."

(الفن الأول، القاعدة الخامسة، ص: ٧٨، ط: دار الكتب العلمية)

شرح الحموي على الأشباه والنظائر میں ہے:

"هاهنا خمسة مراتب ضرورة وحاجة ومنفعة وزينة وفضول. فالضرورة بلوغه حدا إن لم يتناول الممنوع هلك إذا قاربه، وهذا يبيح تناول الحرام. والحاجة كالجائع الذي لو لم يجد ما يأكله لم يهلك غير أنه يكون في جهد ومشقة وهذا لا يبيح الحرام، ويبيح الفطر في الصوم. والمنفعة كالذي يشتهي خبز البر، ولحم الغنم والطعام الدسم والزينة كالمشتهي الحلوى والسكر، والفضول التوسع بأكل الحرام والشبهة."

(الفن الأول، القاعدة الخامسة، ج: ۱، ص: ٢٧٦، ط: دار الکتب العلمية)

شرح صحيح البخاري لابن بطال   میں ہے:

"سوى النبى عليه السلام بين آكل الربا وموكله فى النهى، تعظيما لإثمه كما سوى بين الراشى والمرشى فى الإثم، وموكل الربا هو معطيه، وآكله هو آخذه، وأمر الله عباده بتركه والتوبة منه بقوله: (اتقوا الله وذروا ما بقى من الربا إن كنتم مؤمنين فإن لم تفعلوا فأذنوا بحرب من الله) وتوعد تعالى من لم يتب منه بمحاربة الله ورسوله، وليس فى جميع المعاصى ما عقوبتها محاربة الله ورسوله غير الربا، فحق على كل مؤمن أن يجتنبه، ولا يتعرض لما لا طاقة له به من محاربة الله ورسوله."

(کتاب البیوع، باب مؤكل الربا، ج: ٦، ص: ٢١٩، ط: مكتبة الرشد)

عمدة القاري شرح صحيح البخاري   میں ہے:

"حدثنا عون بن أبي جحيفة عن أبيه قال: لعن النبي صلى الله عليه وسلم الواشمة والمستوشمة وآكل ‌الربا ‌وموكله، ونهى عن ثمن الكلب وكسب البغي ولعن المصورين.

والموكل المطعم والآكل الآخذ، وإنما سوى في الإثم بينهما وإن كان أحدهما رابحا والآخر خاسرا لأنهما في فعل الحرام شريكان متعاونان."

(کتاب العدۃ، باب مهر البغي والنكاح الفاسد، ج: ٢١، ص: ١٠، ط: دار الفكر، بيروت)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح   میں ہے:

"قال الخطابي: وسوى رسوله صلى الله عليه وسلم بين آكل الربا وموكله، إذ كل ‌لا ‌يتوصل ‌إلى ‌أكله إلا بمعاونته ومشاركته إياه، فهما شريكان في الإثم، كما كانا شريكين في الفعل، وإن كان أحدهما مغتبطا بفعله لما يستفضله من البیع، والآخر منهضما لما يلحقه من النقص. ولله عز وجل حدود، فلا تتجاوز في وقت الوجود من الربح والعدم، وعند العسر واليسر، والضرورة لا تلحقه بوجه في أن يوكله الربا، لأنه قد يجد السبيل إلى أن يتوصل إلى حاجته بوجه من وجوه المعاملة والمبايعة ونحوها."

(كتاب البيوع، باب الربا، الفصل الأول، ج: ٦، ص: ٤٣، ط: رشيدية)

رد المحتار على الدر المختار   میں ہے:

"(و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم وفسره ابن ملك بما يدفع عنه الهلاك.

(قوله وفسره ابن ملك) أي فسر المشغول بالحاجة الأصلية والأولى فسرها، وذلك حيث قال: وهي ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقا كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرب والثياب المحتاج إليها لدفع الحر أو البرد أو تقديرا كالدين، فإن المديون محتاج إلى قضائه بما في يده من النصاب دفعا عن نفسه الحبس الذي هو كالهلاك وكآلات الحرفة وأثاث المنزل ودواب الركوب وكتب العلم لأهلها فإن الجهل عندهم كالهلاك، فإذا كان له دراهم مستحقة بصرفها إلى تلك الحوائج صارت كالمعدومة، كما أن الماء المستحق بصرفه إلى العطش كان كالمعدوم وجاز عنده التيمم."

(کتاب الزکاۃ، ج: ۲، ص: ٢٦٢، ط: سعید)

مقدمة الشامي میں ہے:

"واعلم أن تعلم العلم يكون فرض عين وهو بقدر ما يحتاج لدينه. وفرض كفاية، وهو ما زاد عليه لنفع غيره.

قال العلامي في فصوله: من فرائض الإسلام تعلمه ما يحتاج إليه العبد في إقامة دينه وإخلاص عمله لله تعالى ومعاشرة عباده. وفرض على كل مكلف ومكلفة بعد تعلمه علم الدين والهداية تعلم علم الوضوء والغسل والصلاة والصوم، وعلم الزكاة لمن له نصاب، والحج لمن وجب عليه والبيوع على التجار ليحترزوا عن الشبهات والمكروهات في سائر المعاملات. وكذا أهل الحرف، وكل من اشتغل بشيء يفرض عليه علمه وحكمه ليمتنع عن الحرام فيه."

(ج: ۱، ص: ٤٣، ط: سعيد)

إمداد الأحكام   میں ہے:

"قلت: وقد قالت الفقهاء بجواز إعطاء الرشوة للمضطر لدفع مضرة لا تندفع إلا بإعطائها، وأما أخذ الرشوة فلا يجوز بحال، والربا والرشوة من باب واحد، فمقتضاه أن يجوز إعطاء الربا للمضطر لدفع مضرة لا تندفع إلا بإعطائه، وأما أخذ الربا فلا يجوز أصلا، وهذا وجه آخر فارق بين أخذ الربا وإعطائه، فالأول حرام في كل حال، والثاني حرام يسقط حرمته عند الإضطرار."

(كتاب الربا والقمار، ج: ۳، ص: ٤٨٧، ط: مكتبة دار العلوم كراتشي)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144602100489

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں