بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1448ھ 03 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا نو سال کی عمر میں دو بچوں کی والدہ تھیں؟ اس اعتراض کا تحقیقی جائزہ


سوال

کیا یہ بات درست ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی، اُس وقت حضرت اُمِّ کلثوم بنتِ علی رضی اللہ عنہا کی عمر صرف نو سال تھی؟ اگر یہ روایت صحیح ہے، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اس عمر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دو بچوں کی والدہ بن چکی تھیں؟

جواب

سوال میں مذکور یہ بات کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت حضرت اُمِّ کلثوم بنتِ علی رضی اللہ عنہا کی عمر صرف نو  سال تھی، درست نہیں ہے۔کیوں کہ مؤرخین کے مطابق حضرت اُمِّ کلثوم بنتِ علی رضی اللہ عنہا کی پیدائش تقریباً 6 ہجری میں ہوئی، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح 17 ہجری میں ہوا۔ اس اعتبار سے نکاح کے وقت ان کی عمر تقریباً 11 سال بنتی ہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت 23 ہجری کے آخر میں ہوئی، لہٰذا اس وقت حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کی عمر تقریباً 17 سال تھی، نہ کہ 9 سال۔

یہ نکاح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت و نسبت حاصل کرنے کی سعادت کے لیے کیا تھا۔ بعد ازاں اس نکاح سے اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹا زید اور ایک بیٹی رقیہ عطا فرمائے۔لہٰذا سوال میں بیان کردہ اشکال کی بنیاد ہی درست نہیں، کیونکہ حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کی عمر نو سال نہیں تھی۔

مزید یہ کہ  لڑکیاں عموماً نو سال یا اس کے بعد بالغہ ہو جاتی ہے، اس لیے اگر کوئی لڑکی اس عمر میں بالغ ہو جائے اور اس کا نکاح ہو جائے تو بعد میں اولاد ہونا ممکن ہے۔ البتہ حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کے بارے میں صحیح تاریخی حساب کے مطابق یہ اشکال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا، کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کی عمر تقریباً سترہ سال تھی۔

مصنف عبد الرزاق ميں ہے:

"عن معمر، عن أيوب، عن عكرمة قال: تزوج عمر بن الخطاب أم كلثوم بنت علي بن أبي طالب، وهي جارية تلعب مع الجواري، فجاء إلى أصحابه فدعوا له بالبركة، فقال: إني لم أتزوج من نشاط بي، ولكن سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «‌إن ‌كل ‌سبب ‌ونسب منقطع يوم القيامة إلا سببي ونسبي»، فأحببت أن يكون بيني، وبين نبي الله صلى الله عليه وسلم سبب ونسب."

(کتاب النکاح، باب نکاح الصغیرین، ج: 6، ص: 163، ط: المجلس العلمی)

ترجمہ: "عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام کلثوم کے ساتھ شادی کی جو کہ کمسن لڑکی تھی اور لڑکیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی حضرتِ عمر اپنے ساتھیوں کے پاس آئےتو ان کے ساتھیوں نے برکت کی دعا کی، تو حضرتِ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ : میں نے مزے لینے کے لیے شادی نہیں کی ہے بلکہ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے  سنا ہے:

"قیامت کے دن ہر سسرالی اور نسبی تعلق ختم ہوجائے گا،سوائے میرے ساتھ سسرالی یا نسبی تعلق کے" تو مجھے یہ بات اچھی لگی کہ میرے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان سسرالی اور نسبی تعلق ہوجائے"

(مصنف ابنِ عبد الرزاق ،ج: 4، ص: 264، ط: شبیر برادرز)

سیر اعلام النبلاء میں ہے:

" ‌أم ‌كلثوم ‌بنت ‌علي بن أبي طالب الهاشمية ابن عبد المطلب بن هاشم الهاشمية، شقيقة الحسن والحسين، ولدت: في حدود سنة ست من الهجرة، ورأت النبي -صلى الله عليه وسلم - ولم ترو عنه شيئا، خطبها عمر بن الخطاب وهي صغيرة، فقيل له: ما تريد إليها؟ قال: إني سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: (كل سبب ونسب منقطع يوم القيامة إلا سببي ونسبي)."

(‌أم ‌كلثوم ‌بنت ‌علي بن أبي طالب الهاشمية، ج: 3، ص: 500، ط: مؤسسة الرسالة)

الروضۃ الفیحاء میں ہے:

"أم كلثوم بنت علي رضي الله عنها.ابن أبي طالب رضي الله عنه وأمها‌‌ فاطمة الزهراء رضي الله عنها تزوجها الإمام عمر رضي الله عنه في السنة السابعة عشرة وأصدقها أربعين ألف درهم، فولدت له زيدا الأكبر، ورقية، وتوفي عنها."

(أم كلثوم بنت علي رضي الله عنها، ص: 71، ط: غير مطبوع، يتواجد في الشاملة)

اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابۃ  میں ہے:

"روي ابو بكر بن اسماعيل بن محمد بن سعد عن أبيه أنه قال:طعن عمر يوم الأربعاء لأربع ليال بقين من ذي الحجة ،سنة ثلاث وعشرين،ودفن يوم الأحد صباح هلال المحرم سنة أربع وعشرين."

"وكانت خلافته عشر سنين،وستة اشهر،وخمس ليال وتوفي وهو ابن ثلاث وستين سنة."

(وفات عمر رضی اللہ عنہ، ج: 4، ص: 166، ط:دارالکتب العلمیة)

محمد ابن حبان نے اپنی کتاب "الثقات" میں  17 ہجری کے واقعات میں لکھا ہے:

"ثم ‌تزوج ‌عمر ‌أم ‌كلثوم بنت علي بن أبي طالب وهي من فاطمة ودخل بها في شهر ذي القعدة ثم حج واستخلف على المدينة زيد بن ثابت."

(ذكر وصف رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ج: 3، ص: 216، ط: دائرۃ المعارف)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144802100685

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں