بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا ایک مرتبہ سے ہی تین طلاقوں کا فتوی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ تھا؟


سوال

میرا سوال یہ ہے کہ وہ عورت جس سے خلوت صحیحہ نہیں ہوئی، اگر اس کو ایک لفظ سے تین طلاقیں دی جائیں، تو تین طلاقیں کیوں واقع ہوتی ہیں؟ حالانکہ یہ تو صرف حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا فیصلہ ہے، قرآن و حدیث میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فقط اپنی رائےسے کیا ہے، تو اس سے شیعوں کا نظریۂ امامت ثابت ہو گا، کہ ائمہ کو حلال و حرام کا اختیار ہے، اگر اس کو حلال و حرام کا اختیار نہیں ہے، تو حلال کو حرام کیسے کہا؟ حالانکہ حلال کو حرام کہنا جائزنہیں، خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالی عنہ کے اس فیصلے کی بنیاد کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کا یہ کہنا ہر گز درست نہیں ہے کہ  ایک لفظ کے ساتھ تین طلاقیں واقع ہونا حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کا فیصلہ ہے،  اور سائل کا یہ  دعوی کرنا کہ قرآن و حدیث میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے بالکل بے بنیاد  ہے، کیوں کہ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے ہی اکٹھے تین طلاقیں تین شمار ہوتی تھیں، چنانچہ سننِ دار قطنی میں واقعہ مذکورہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دینے کے بعد فرمایاتھا کہ اگر میں نے اپنے نانا سے یہ نہ سنا ہوتا کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو اکھٹی تین طلاقیں دی ہوں یا تین طہروں میں تین طلاقیں دی ہوں تو وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک وہ دوسرے شوہر سے شادی کرلے، تو میں اس سے رجوع کرلیتا۔

جن  روایات میں اس بات کا تذکرہ ملتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں تین طلاقیں ایک طلاق شمار ہوتی تھیں ان کا صحیح مطلب اور محمل یہ ہے کہ دور نبوی اور دور صدیقی میں لوگوں کی دیانت کا معیار بلند تھا، اس دور میں اگر کوئی شخص ایک مجلس میں اپنی بیوی کو کہتا کہ تمہیں طلاق ہے،تمہیں طلاق ہے،تمہیں طلاق ہے،اور وہ بعد والی دو طلاقوں سے تاکید کی نیت بیان کرتا تھا تو اس کی بات کو تسلیم کرکے ایک طلاق کا فیصلہ دیا جاتا تھا، دور فاروقی میں جب دیانت کے معیار میں کمی آگئی اور لوگ کثرت کے ساتھ اکٹھی تین طلاقیں دینے لگے اور تین طلاقیں دے کر ایک طلاق کی نیت کا دعوی کرنے لگے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نےتاکید کی نیت والی بات قبول کرنے سے منع فرما دیا،اور اس پر تمام صحابہ کا اجماع ہوگیا،چناچہ یہی مذہب جمہور صحابہ،تابعین اورائمہ اربعہ کا ہے ۔

اور اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تین طلاقیں ایک ہوتیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے تین ہونے کا فیصلہ کیسے صادر فرماسکتے تھے؟ نیز تین طلاقوں کے ایک ہونے کی روایات حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سے مروی ہیں جبکہ ان کا فتوی اس کے برخلاف تین طلاقوں کے تین طلاق ہونے کا تھا، تو اگر دور نبوی میں تین طلاقوں کے ایک طلاق ہونے کا یہ مطلب ہوتا کہ ایک مجلس میں کوئی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے اس کے باوجود اسے ایک شمار کیا جائے تو حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی روایت کے خلاف کیسے فتوی دیتے؟

مؤطا امام مالک میں ہے:

"حدثنا مالك؛ أنه بلغه، أن رجلا قال لابن عباس: إني طلقت امرأتي مائة ، فماذا ترى؟ قال ابن عباس: طلقت ثلاثا، وسبع وتسعون اتخذت بها آيات الله لعبا هزوا."

(كتاب الطلاق، باب ما جاء في البتة، ج:1، ص:605، ط:مؤسسة الرسالة  بيروت)

ترجمہ:”امام مالک نے ہمیں حدیث سنائی کہ ان تک یہ بات پہنچی کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے اپنی بیوی کو سَو طلاقیں دے دی ہیں، آپ کیا رائے رکھتے ہیں؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:تم نے تین طلاقیں دی ہیں، اور باقی ستانوے طلاقوں کے ذریعے تم نے اللہ کی آیات کو مذاق اور کھیل بنا لیا ہے۔“

صحیح مسلم میں ہے:

"عن ابن عباس، قال: كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأبي بكر، وسنتين من خلافة عمر، طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر بن الخطاب: إن الناس قد استعجلوا في أمر قد كانت لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليهم، فأمضاه عليهم."

(کتاب الطلاق،باب طلاق الثلاث،ج:2،ص:1099،ط:مطبعہ عیسی البابی الحلبی)

فتح الباری شرح صحیح البخاری میں ہے:

"الخامس دعوى أنه ورد في صورة خاصة فقال بن سريج وغيره يشبه أن يكون ورد في تكرير اللفظ كأن يقول أنت طالق أنت طالق أنت طالق وكانوا أولا على سلامة صدورهم يقبل منهم أنهم أرادوا التأكيد فلما كثر الناس في زمن عمر وكثر فيهم الخداع ونحوه مما يمنع قبول من ادعى التأكيد حمل عمر اللفظ على ظاهر التكرار فأمضاه عليهم وهذا الجواب ارتضاه القرطبي وقواه بقول عمر إن الناس استعجلوا في أمر كانت لهم فيه أناة وكذا قال النووي إن هذا أصح الأجوبة الخ."

(کتاب الطلاق،باب من جوز الطلاق الثلاث،ج:9،ص:364،ط:دار المعرفۃ)

سنن نسائی میں ہے:

"أخبرنا سليمان بن داود، عن ابن وهب، قال: أخبرني مخرمة، عن أبيه، قال: سمعت محمود بن لبيد، قال: أخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا، فقام غضبانا ثم قال: أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم؟ حتى قام رجل وقال: يا رسول الله، ألا أقتله؟"

(کتاب الطلاق،الثلاث المجموعة وما فیه من التغلیظ،ج:6،ص:142،ط:مکتب المطبوعات الإسلامیة-حلب)

شرح معانی الآثار میں ہے:

"حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال: ثنا أبو حذيفة قال: ثنا سفيان، عن الأعمش، عن مالك بن الحارث قال: جاء رجل إلى ابن عباس فقال: إن عمي طلق امرأته ثلاثا، فقال: إن عمك عصى الله فأتمه الله وأطاع الشيطان فلم يجعل له مخرجا. فقلت: كيف ترى في رجل يحلها له؟ فقال:من يخادع الله يخادعه."

(کتاب الطلاق،باب الرجل یطلق امرأته ثلاثا معا،ج:3،ص:57،ط:دار عالم الکتب)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704102047

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں