بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا ایک آدمی کے قول سے رضاعت ثابت ہوتی ہے؟


سوال

زید اور زینب  آپس میں کزن ہیں،والدین ان دونوں کا آپس میں نکاح کرانا چاہتے ہیں،لیکن زید کا والد کہتا ہے کہ ان دونوں کو اپنی دادی (جس کی عمر ساٹھ سال ہے) نے دودھ پلایا ہے،جبکہ زید اور زینب کی مائیں کہتی ہیں کہ ان دونوں کو دادی نے دودھ نہیں پلایا ہے،بلکہ ہمارے کسی بھی بچے کو دادی نے دودھ نہیں پلایا ہے۔تو کیا اب زید اور زینب کا آپس میں نکاح درست ہے یا نہیں؟

اور اگر زید اور زینب کے کسی اور بہن بھائی کو دادی نے دودھ پلایا ہو،تو اس کا بھی حکم شرعی بتایا جاۓ کہ اس صورت میں زید اور زینب کا آپس میں نکاح درست ہوگا یا نہیں؟جبکہ دادی کے دودھ پلانے کا قول صرف ایک شخص کا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ ثبوت رضاعت کے لیے شرعا دو عادل مرد،یا ایک مرد اور دو عادل خواتین کی شہادت ضروری ہے،صرف ایک مرد،یاایک مرد ایک عورت کی شہادت سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔

لہذا صورت مسئولہ میں صرف زید کے والد کے قول سے شرعا رضاعت ثابت نہیں ہوگی،پس زید  کے والد کے پاس اگر اپنے دعوی پر گواہ موجود ہوں،اس صورت میں رضاعت ثابت ہوجاۓ گی،اور زید و زینب کا آپس میں نکاح جائز نہیں ہوگا،البتہ اگر زید کے والد کے پاس گواہ نہ ہوں،اس صورت میں زید کے والد کا دعوی شرعا معتبر نہیں ہوگا،اور زید وزینب کا آپس میں نکاح حلال ہوگا،تاہم اگر مذکورہ صورت میں دونوں گھرانوں  کوزید کے والد کے سچے ہونے کا غالب گمان ہو،تو پھر اس نکاح سے اجتناب کرنا چاہیے۔

اگر دادی نے زید اور زینب کے کسی اور بہن بھائی کو دودھ پلایا ہو،تب بھی زید اور زینب کا آپس میں نکاح درست ہوگا۔

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

"(و) الرضاع (حجته حجة المال) وهي شهادة عدلين أو عدل وعدلتان".

(كتاب النكاح، باب الرضاع، ج:3، ص:224، ط:ایچ ایم سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإن كان المخبر واحدا ووقع في قلبه أنه صادق فالأولى أن يتنزه ويأخذ بالثقة وجد الإخبار قبل العقد أو بعده ولا يجب عليه ذلك كذا في المحيط".

(کتاب الرضاع، ج:1، ص:347، ط:دار الفکر بیروت)

وفیه أیضا:

"وتحل أخت أخيه رضاعا كما تحل نسبا مثل الأخ لأب إذا كانت له أخت من أمه يحل لأخيه من أبيه أن يتزوجها كذا في الكافي".

(کتاب الرضاع، ج:1، ص:343، ط:دار الفکر بیروت)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711101767

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں