بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

کیا آنکھیں بند کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں؟


سوال

کیا آنکھیں بند کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں؛ تاکہ ہماری توجہ نماز میں رہے؟

جواب

آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے،البتہ اگر آنکھیں بند کرلینے سے خشوع اور عاجزی زیادہ ہوتی ہے تو مکروہ نہیں، تاہم آنکھیں کھلی رکھ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے؛ کیوں کہ (حالتِ قیام میں) سجدہ کی جگہ کو دیکھنا مسنون ہے، اور رکوع میں پاؤں کی انگلیوں کو دیکھنا، سجدے میں ناک کی نوک کی طرف اور جلسہ و تشہد میں گود میں نگاہ رکھنا مستحب ہے، اور آنکھیں بند کرنے سے یہ سنت ترک ہوجاتی ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (2 / 343):

"ويكره أن يغمض عينيه في الصلاة ؛ لما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن تغميض العين في الصلاة ؛ ولأن السنة أن يرمي ببصره إلى موضع سجوده وفي التغميض ترك هذه السنة ؛ ولأن كل عضو وطرف ذو حظ من هذه العبادة فكذا العين".

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144202200349

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں