بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

امام ابرہیم حربی رحمہ اللہ کے قول: ’’مجھے جب بھی بخار ہوا ، میں نے کبھی اپنی ماں ، بہن ، بیوی یا بیٹیوں کے سامنے اس تکلیف کا اظہار نہیں کیا‘‘ کی تخریج


سوال

کیا یہ ابراہیم الحربی رحمہ اللّٰہ کا قول ہے ؟ رہنمائی فرمائیں:

’’  مجھے جب بھی بخار ہوا ، میں نے کبھی اپنی ماں ، بہن ، بیوی یا بیٹیوں کے سامنے اس تکلیف کا اظہار نہیں کیا،  مَرد وہی ہے جو غم کو اپنی ذات تک محدود رکھے، اہل و عیال کو غمگین نہ کرے‘‘۔

جواب

ابراہیم بن اسحاق حربی رحمہ اللہ کا یہ قول ، تاریخ بغداد میں  مذکور ہے۔ملاحظہ فرمائیں:

حدثنا عبد العزيز بن علي الوراق، حدثنا علي بن عبد الله بن جهضم الهمذاني، حدثنا الخالدي، حدثنا أحمد بن عبد الله بن خالد بن ماهان- ويعرف بابن أسد- قال: سمعت إبراهيم بن إسحاق يقول:... ولا أحدث نفسي أني أصلحها، وما شكوت إلى أمي، ولا إلى إخوتي، ولا إلي امرأتي، ولا إلي بناتي قط حمى وجدتها. الرجل هو الذي يدخل غمه على نفسه ولا يغم عياله".

(تاريخ بغداد للخظيب: ترجمة  إبراهيم بن إسحاق بن إبراهيم بن بشير بن عبد الله بن ديسم، أبو إسحاق الحربي(6/ 30) ، رقم الترجمة (3059)،ط. دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى، 1417 هـ)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144503101740

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں