
گزارش ہے کہ 8 سال پہلے اپنی ضمانت پر کسی کو کسی سے قرض لے کر دیا تھا، میں ضامن ہوں، تو کیا میں قرض دار ہوں؟ دوسرا جس کو قرض دیا تھا اس کا نقصان ہو گیا ہے، اب اس نے ایک جائیداد دی ہے کہ اس کو بیچ کر قرض پورا کرو،لیکن جائیداد بک نہیں رہی۔ کوئی حل فرما دیں۔دوسرا: اللّٰہم اکفنی۔۔۔ اللّٰہم إنی أعوذ بک من الہم۔۔۔ اور دیگر اذکار و درود شریف کا ورد بھی کرتا ہوں کہ یہ ذمہ داری یا قرض مجھ سے اتر جائے، 8 سال ہو گئے ہیں پڑھ پڑھ کر تھک گیا ہوں، مگر مشکل حل نہیں ہو رہی۔کیا میں دعا میں یہ کہوں کہ:”اے اللہ! مجھ سے یہ قرض اتروا دے۔“یا”مجھ سے یہ ذمہ داری پوری فرما دے۔“کیونکہ میں تو ضامن ہوں۔
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے مقروض شخص کی طرف سے اس کے قرض کے ادا کرنے کی ضمانت لے لے،تو شریعت کی اصطلاح میں اس معاملہ کوعقدِ کفالت کہاجاتا ہے،جس کا حکم یہ ہے کہ قرض خواہ کو جس طرح اصل مقروض سے مطالبہ کا حق حاصل ہوتا ہے،ایسے ہی ضمانت لینے والے شخص سے بھی مطالبہ کا حق حاصل ہوتاہے،تاہم اگر ضمانت لینے والے شخص نے مقروض کی اجازت اور حکم سے ضمانت لی ہوتو اس صورت میں وہ قرض ادا کرنے کے بعد اس سے اتنی رقم کا مطالبہ بھی کرسکتا ہے،بصورتِ دیگر یعنی اگر مقروض کی اجازت اور حکم کے بغیراس کی طرف سے ضمانت لی ہو،تو اس صورت میں ضامن شخص، اصل مقروض سے مطالبہ کا حق نہیں رکھتا،نیز یہ بھی واضح رہے کہ قرض دینے والاجب بھی چاہے اپنی رقم کے مطالبے کاحق رکھتا ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں قرض دینے والا جس طرح قرض لینے والے سے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرسکتا ہے ، بالکل اسی طرح سائل سے بھی وہ قرضہ کی واپسی کا مطالبہ کا شرعا حق رکھتا ہے، تاہم سائل قرض دار نہیں ہے بلکہ قرض کی ادائیگی کا ضامن ہے۔ چناں چہ سائل کو چاہیے کہ وہ اللہ رب العزت کی رحمت سے ناامید اور مایوس نہ ہو،صلاۃ الحاجات اور درود شریف و مسنون دعاؤں کے ورد اہتمام کے ساتھ جاری رکھے اور اپنی مشکل کے حل کے لیے اللہ تعالی کے حضور عاجزی اور انکساری کے ساتھ دعاء کی قبولیت کی امید کے ساتھ یہ دعاء مانگے کہ،:”یا اللہ مجھےاس ذمہ داری سےعافیت کے ساتھ بآسانی بری الذمہ فرمادیں۔“نیز دعا مانگنے کی توفیق پر ہمیشہ اللہ تعالی کا شکر گزار رہے، تاہم دعا کی قبولیت میں اگر تاخیر ہو تو یہ بات ذہن میں رکھےکہ اس تاخیر میں میرے لیے ہی بہتری ہے،اور اسی طرح اگر دعا قبول نہ ہو تو یہ بھی جان لے کہ اس دعا کو اس کی آخرت کے لئے ذخیرہ کردیا گیا ہے،یا اس دعا کی قبولیت کے بدلے میرے اوپر آنے والی کوئی اور مصیبت دور کردی گئی ہے۔اورساتھ ہی قرض دینے والے کےعلم میں سارا معاملہ لائے اور اس کو اعتماد میں لے کر جائیداد کے فروخت ہوتے ہی آپ کا تمام قرضہ واپس کردیاجائے گا اور اس سے تب تک قرض کی ادائیگی کے لیے مزیدمہلت حاصل کرلے۔
حوالہ جات:
قرآن کریم میں ہے:
"قُلْ يَا عِبَادِىَ الَّـذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓى اَنْفُسِهِـمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْـمَةِ اللّـٰهِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُـوْبَ جَـمِيْعًا ۚ اِنَّهُ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِـيْمُ." (سورۃالزمر:53)
ترجمہ :”آپ کہہ دیجئےکہ اےمیرےبندو! جنہوں نےاپنےاورپرزیادتیاں کی ہیں کہ تم خداکی رحمت سےناامیدمت ہوبالیقین خداتعالی تمام گزشتہ گناہوں کومعاف فرمادےگا،واقعی وہ بڑابخشنےوالابڑی رحمت والاہے۔“ (بیان القرآن)
حدیث شریف میں ہے:
"عن أنس بن مالك : عن النبي صلى الله عليه و سلم، قال: الدعاء مخ العبادة."
(سنن الترمذی، أبواب الدعوات، باب ما جاء في فضل الدعاء ، رقم الحدیث:3371، ج:4، ص:454، ط:داراحیاء التراث العربی)
ترجمہ:”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعا عبادت کا مغز (حاصل ونچوڑ) ہے۔“
"عن أبي سعيد، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " ما من مسلم يدعو بدعوة ليس فيها إثم، ولا قطيعة رحم، إلا أعطاه الله بها إحدى ثلاث: إما أن تعجل له دعوته، وإما أن يدخرها له في الآخرة، وإما أن يصرف عنه من السوء مثلها " قالوا: إذا نكثر، قال: " الله أكثر."
(مسند الإمام أحمد بن حنبل،ص:213،ج:17، رقم : 11133،ط: مؤسسة الرسالة)
ترجمہ:”حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب کوئی مسلمان دعا کرتا ہے ،جس دعامیں گناہ یا قطع رحمی کی بات نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ تین باتوں میں سے ایک اسے ضرور عطا فرماتا ہے۔(1)یا دعا کے مطابق اس کی خواہش پوری کردی جاتی ہے۔(2)یا اس کی دعا کو آخرت کے لئے ذخیرہ اجر بنا دیتا ہے۔(3)یا دعا کے برابر اس سے کوئی مصیبت ٹال دیتا ہے۔‘‘صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے(یہ سن کر)عرض کیا’’تب تو ہم کثرت سے دعا کریں گے۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اللہ کے خزانے بہت زیادہ ہیں۔“
"عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: « لا يزال يستجاب للعبد ما لم يدع بإثم، أو قطيعة رحم، ما لم يستعجل قيل: يا رسول الله ما الاستعجال؟ قال: يقول: قد دعوت وقد دعوت، فلم أر يستجيب لي فيستحسر عند ذلك، ويدع الدعاء."
(صحيح مسلم،كتاب العلم،باب بيان أنه يستجاب للداعي ما لم يعجل، 87/8، ط:دار الطباعة العامرة - تركيا)
ترجمہ:”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جب تک کوئی بندہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور قبولیت کے معاملے میں جلد بازی نہ کرے، اس کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے۔ عرض کی گئی: اللہ کے رسول! جلد بازی کرنا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کہے: میں نے دعا کی اور میں نے دعا کی اور مجھے نظر نہیں آتا کہ وہ میرے حق میں قبول کرے گا، پھر اس مرحلے میں (مایوس ہو کر) تھک جائے اور دعا کرنا چھوڑ دے۔“
اللباب فی شرح الکتاب میں ہے:
"إذا كان دينا صحيحا، مثل أن يقول: تكفلت عنه بألف، أو بما لك عليه، أو بما يدركك في هذا البيع، والمكفول له بالخيار: إن شاء طالب الذي عليه الأصل، وإن شاء طالب كفيله.
وفي شرحه: (إذا كان) المكفول به (دينا صحيحا) وهو: الذي لا يسقط إلا بأداء أو الإبراء، واحترز به عن بدل الكتابة، وسيأتي، وذلك (مثل أن يقول: تكفلت عنه بألف) مثال المعلوم، ومثال المجهول قوله: (أو بمالك عليه، أو بما يدركك في هذا البيع) ويسمى هذا ضمان الدرك (والمكفول له بالخيار) في المطالبة: (إن شاء طالب الذي عليه الأصل) ويسمى الأصيل، (وإن شاء طالب كفيله) ؛ لأن الكفالة ضم ذمة إلى ذمة في المطالبة، كما مر."
(كتاب الكفالة،155/2، ط:المكتبة العلمية، بيروت - لبنان)
تبیین الحقائق میں ہے:
"الكفالة بالمال نوعان كفالة بالديون فتجوز مطلقا."
(كتاب الكفالة،الكفالة بالنفس وإن تعددت،147/4، ط:دار الكتاب الإسلامي)
مبسوط سرخسی میں ہے:
"والتكفيل أخذ الكفيل بالنفس وكان بين علي وابن عمرو رضي الله عنهما خصومة فكفلت أم كلثوم رضي الله عنها بنفس علي رضي الله عنه وكفل حمزة ابن عمر والأسلمي في تهمة رجل فاستصوبه عمر رضي الله عنه وأن ابن مسعود رضي الله عنه لما استناب أصحاب ابن النواحة كفلهم عشائرهم ونفاهم إلى الشام والمعنى فيه أنه التزم تسليم ما هو مستحق على الأصل فتصح كالكفالة بالمال.....إذا كان كفل بالمال - والديون تقضى بأمثالها وهو موجود في يد الكفيل - فلا حاجة إلى إثبات الولاية له في مال الأصيل فيؤمر بالأداء من مال نفسه ثم يؤمر بالرجوع عليه."
(كتاب الكفالة،163/19، ط:دار المعرفة - بيروت، لبنان)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707101030
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن