
خواجہ کی دیگ گھمانا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ اللہ تعالی کے نام کی نذر ونیاز کرنا جائز ہے اور غیر اللہ کے نام کی نذر ونیاز ناجائز ہے۔غیر اللہ کے نام نذر و نیاز شرک کی ایک قسم ہے۔ قرآنِ کریم میں شرک کو ظلمِ عظیم کہا گیا ہے، اس کے علاوہ بھی قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر شرک کے عظیم اور کبیرہ گناہ ہونے کاذکرہے، اللہ پاک فرماتے ہیں کہ وہ شرک (اور کفر) کے علاوہ ہر گناہ معاف فرمادیں گے، لیکن شرک کو معاف نہیں فرمائیں گے، یعنی اگر شرک سے توبہ کیے بغیر کوئی انسان مرجاتا ہے، تو اس کی نجات کی کوئی صورت نہیں ہے۔ نیز احادیث شریف میں بھی شرک کی سخت مذمت آئی ہے۔ سنن ابن ماجہ کی ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ شرک کرنے والے سے میں بری ہوں۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں خواجہ کی دیگ گھمانے کا مطلب اگریہی ہے کہ خواجہ معین الدین چشتی کے نام پر دیگ بنانا ہے، اور یہ بھی غیر اللہ کے نام کی نذر ونیاز ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔
وفي سنن ابن ماجه لأبی عبد الله محمد بن يزيد القزويني:
" عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "قال الله عز وجل: أنا أغنى الشركاء عن الشرك، فمن عمل لي عملًا أشرك فيه غيري، فأنا منه بريء، وهو للذي أشرك."
(أبواب الزهد، باب الرياء والسمعة،ج:۵،ص:۲۹۰،رقم:۴۲۰۲،ط: دار الرسالة العالمية)
المعجم الکبیر للطبراني میں ہے:
"عن محمد بن سهل بن أبي حثمة، عن أبيه قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر يقول: «اجتنبوا الكبائر السبع» ، فسكت الناس فلم يتكلم أحد، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «ألا تسألوني عنهن؟ الشرك بالله، وقتل النفس، والفرار من الزحف، وأكل مال اليتيم، وأكل الربا، وقذف المحصنة، والتعرب بعد الهجرة ."
(ج:۶،ص:۱۰۳،رقم:۵۶۳۶،ط : مكتبة ابن تيمية – القاهرة)
فتاوی شامی میں ہے:
" واعلم أن النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها إلى ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو بالإجماع باطل وحرام ما لم يقصدوا صرفها لفقراء الأنام وقد ابتلي الناس بذلك، ولا سيما في هذه الأعصار وقد بسطه العلامة قاسم في شرح درر البحار ... الخ" . . ."(قوله: تقربًا إليهم) كأن يقول يا سيدي فلان إن رد غائبي أو عوفي مريضي أو قضيت حاجتي فلك من الذهب أو الفضة أو من الطعام أو الشمع أو الزيت، كذا بحر (قوله: باطل وحرام) لوجوه: منها أنه نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لا يجوز لأنه عبادة والعبادة لا تكون لمخلوق. ومنها أن المنذور له ميت والميت لايملك.
ومنه أنه إن ظن أن الميت يتصرف في الأمور دون الله تعالى واعتقاده ذلك كفر، اللهم إلا إن قال يا الله إني نذرت لك إن شفيت مريضي أو رددت غائبي أو قضيت حاجتي أن أطعم الفقراء الذين بباب السيدة نفيسة أو الإمام الشافعي أو الإمام الليث أو اشترى حصرا لمساجدهم أو زيتا لوقودها أو دراهم لمن يقوم بشعائرها إلى غير ذلك مما يكون فيه نفع للفقراء والنذر لله عز وجل ... الخ"
(کتاب الصوم، مطلب في النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام،ج:۲،ص:۴۳۹،ط:سعید)
فیه أیضا:
" وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم ... الخ"
(کتاب الصلاۃ ، باب صلاة الجنازة،فروع فی الجنائز ،ج:۲،ص:۱۸۹،ط:سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144707101631
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن