بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خطبہ جمعہ میں لقمہ دینے کا حکم


سوال

خطبہ جمعہ میں لقمہ دینا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں خطبہ میں لقمہ دینا جائز نہیں، کیوں کہ خطبہ میں کوئی متعین مضمون پڑھنا ضروری نہیں، لہذا اگر کسی نے خطبہ میں کچھ غلط پڑھا یا رک گیا تو وہ کچھ اور بھی پڑھ سکتا ہے لہذا لقمہ دینے کی ضرورت نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وكفت تحميدة أو تهليلة أو تسبيحة) للخطبة المفروضة مع الكراهة وقالا: لا بد من ذكر طويل وأقله قدر التشهد الواجب (بنيتها."

(كتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة،  ج:2، ص:148، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم  


فتویٰ نمبر : 144702100366

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں