
گھر میں بچہ ہر جگہ پیشاب کرتا ہے ، قالین پر بھی پیشاب کیا، اور قالین خشک ہوگیا، اس کے بعد کوئی نمازی آکر اس جگہ بیٹھ گیا، اس کے مطابق یہ جگہ صحیح صاف ہے، جب کہ وہاں بچے نے پیشاب کیا ہے، جوکہ قالین میں سوکھ چکا ہے، تو کیا مذکورہ شخص کی ان کپڑوں میں نماز ہوجائےگی؟ وہ کپڑے پاک ہیں یا ناپاک ہوچکے ہیں؟ بچے کی عمر دو سال سے کم ہے۔
واضح رہے کہ اگر کوئی چیز ناپاک ہوجائے تواس کے ساتھ ملنے والی پاک چیز اس وقت ناپاک ہوتی ہے جب ناپاکی کا اثر اس پاک چیز تک پہنچ جائے، نیز بچوں کا پیشاب بھی بڑوں کے پیشاب کی طرح ناپاک اور نجاستِ غلیظہ ہے، اس سے بچنا اور بدن یا کپڑے پر درہم کی مقدار سے زیادہ لگنے کی صورت میں دھونا ضروری ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں بچے نے قالین پر جس جگہ پیشاب کیا اور وہ قالین میں خشک ہو گیا، پھر کوئی شخص اسی جگہ پر بیٹھ گیا تو اگر اس پیشاب کا اثر بیٹھنے والے کے کپڑوں تک پہنچ گیا تھایعنی کپڑوں میں پیشاب کا رنگ یا اس کی بو یا اس کی رطوبت سرایت کرگئی تھی تو کپڑےکے جتنے حصے پر پیشاب کا اثر آیا ہو وہ نا پاک ہوگیا ہے، مثلاً بیٹھنے والے کے جسم سے پسینہ نکلا اور اس پسینے کی وجہ سے پیشاب کا اثر کپڑوں تک پہنچ گیا یا کسی اور وجہ سے اثر پہنچ گیا تو کپڑوں کااتنا حصہ ناپاک ہوگیا ہے۔
اور اگر ایسی خشک قالین پر بیٹھنے سے پیشاب کا اثر کپڑوں تک نہیں پہنچا تھا تو ایسی صورت میں کپڑے ناپاک نہیں ہوئے ہیں، کپڑے بدستور پاک ہیں ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"نام أو مشى على نجاسة، إن ظهر عينها تنجس وإلا لا.(الدر)
وفي الرد: (قوله: نام) أي: فعرق، وقوله: أو مشى: أي: وقدمه مبتلة. (قوله: على نجاسة) أي: يابسة لما في متن الملتقى لو وضع ثوبا رطبا على ما طين بطين نجس جاف لا ينجس، قال الشارح: لأن بالجفاف تنجذب رطوبة الثوب من غير عكس بخلاف ما إذا كان الطين رطبا. اهـ. (قوله: إن ظهر عينها) المراد بالعين ما يشمل الأثر؛ لأنه دليل على وجودها لو عبر به كما في نور الإيضاح لكان أولى. (قوله: تنجس) أي: فيعتبر فيه القدر المانع كما مر في محله."
(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، فصل الاستنجاء، ج:1، ص:345، ط: سعيد)
" (لف ثوب نجس رطب في ثوب طاهر يابس فظهرت رطوبته على ثوب طاهر) كذا النسخ. وعبارة الكنز: على الثوب الطاهر (لكن لا يسيل لو عصر لا يتنجس) قدمناه قبيل كتاب الصلاة (كما لو نشر الثوب المبلول على حبل نجس يابس) أو غسل رجله ومشى على أرض نجسة أو قام على فراش نجس فعرق ولم يظهر أثره لا يتنجس خانية.
(قوله لف ثوب نجس رطب) أي مبتل بماء ولم يظهر في الثوب الطاهر أثر النجاسة، بخلاف المبلول بنحو البول لأن النداوة حينئذ عين النجاسة، وبخلاف ما إذا ظهر في الثوب الطاهر أثر النجاسة من لون أو طعم أو ريح فإنه يتنجس كما حققه شارح المنية وجرى عليه الشارح أول الكتاب. "
(كتاب الخنثى، مسائل شتى، ج:6، ص:733، ط: سعيد)
خزانۃ المفتین میں ہے:
" إذا نام الرجلُ على فراشٍ أصابه منيٌّ ويبس فعَرِق الرجل وابتلَّ الفراش من عرقه إن لم يظهر أثر البلل في جسده لا يتنجس بدنه، وإن كان العرق كثيراً حتى ابتلّ الفراش ثم أصاب بللُ الفراش جسدَه فظهر أثره في جسده يتنجَّس بدنُه."
(كتاب الطهارة، فصل في بيان النجاسات، ص:212، ط: جامعة الملك السعودية)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
" إذا نام الرجل على فراش فأصابه مني ويبس فعرق الرجل وابتل الفراش من عرقه إن لم يظهر أثر البلل في بدنه لا يتنجس وإن كان العرق كثيرا حتى ابتل الفراش ثم أصاب بلل الفراش جسده فظهر أثره في جسده يتنجس بدنه كذا في فتاوى قاضي خان. "
(كتاب الطهارة، الباب السابع، الفصل الثاني، ج:1، ص:47، ط: رشيدية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144708100223
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن