بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خروج ریح کے وہم کی وجہ سے وضو کا حکم


سوال

میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو دورانِ وضو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہوا خارج ہو گئی ہے، پھر میں دوبارہ وضو شروع کرتا ہوں، اور پھر دورانِ وضو یا وضو کے آخر میں یہی احساس دوبارہ ہوتا ہے۔ جتنی مرتبہ بھی وضو دہراتا ہوں، ہر مرتبہ یہی لگتا ہے کہ ہوا خارج ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ سے مجھ سے کئی مرتبہ جماعت کی نماز چھوٹ جاتی ہے۔ مجھے اطمینان نہیں ہوتا، یہ گمان ہوتا ہے کہ ہوا خارج ہو گئی ہے۔ بعض اوقات میں سوچتا ہوں کہ یہ سب وسوسہ اور شک ہے اور مجھے اسے چھوڑ دینا چاہیے، لیکن پھر دل میں خیال آتا ہے کہ اگر یہ محض شک یا وہم نہ ہو تو کیا ہوگا؟

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے پیشاب کرنے کے بعد قطرے آتے ہیں۔ اور جب بھی مجھ پر غسل فرض ہوتا ہے تو جیسا کہ علماء فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ چالیس قدم چل لیا جائے، یا تھوڑی دیر سو لیا جائے، یا ایک بار پیشاب کر لیا جائے، تو میں جب ایک مرتبہ پیشاب کر کے غسل کے لیے بیٹھتا ہوں تو مجھے بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ منی نکل رہی ہے۔ کبھی کھانسنے پر، کبھی انگلیوں سے زور دینے پر، کبھی جمائی لینے پر، کبھی بیت الخلاء (toilet) جانے پر، اور کبھی کوئی وزنی سامان اٹھانے پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ منی نکل گئی ہے۔ بار بار غسل کرنے کی وجہ سے ایک دو گھنٹے گزر جاتے ہیں، اور مجھے مسلسل یہی محسوس ہوتا رہتا ہے کہ منی نکل رہی ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے جو کیفیت بیان کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل وسوسہ اور وہم میں مبتلا ہے، لہٰذا جب تک ہوا خارج ہونے کا یقین نہ ہو، ان وسوسوں کو اہمیت نہ دی جائے، بلکہ سائل اپنا وضو جاری رکھے، وضو مکمل کرے اور نماز میں شریک ہو جائے۔ وضو مکمل ہونے کے بعد کسی قسم کا وسوسہ نہ کرے، کیونکہ جب تک وضو ٹوٹنے کا یقین نہ ہو، شرعاً سائل کا وضو برقرار سمجھا جائے گا۔

غسل کے حوالے سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ جب غسل فرض ہو تو سب سے پہلے کچھ دیر چہل قدمی کی جائے، پھر پیشاب کر کے استنجاء کیا جائے۔ جب تک منی کے قطرے آنے کا امکان ہو، اس وقت تک انتظار کیا جائے، اور آلۂ تناسل کو دبایا جائے تاکہ باقی ماندہ منی کے قطرے نکل جائیں۔ اس کے بعد آلۂ تناسل اور جسم کے جن حصوں پر منی لگی ہو، انہیں دھویا جائے، پھر مسنون طریقے کے مطابق غسل شروع کیا جائے۔ اس کے بعد کسی قسم کے وسوسے یا خیالات میں نہ پڑا جائے۔

اسی طرح اگر وزنی سامان اٹھانے کی وجہ سے سائل کو یہ شک ہو کہ منی نکل گئی ہے تو شلوار کو چیک کر لیا جائے۔ اگر شلوار پر کسی قسم کا کوئی اثر موجود نہ ہو تو بلاوجہ شبہات میں مبتلا نہ ہوا جائے۔ اور اگر منی نکل گئی ہو تو اگر وہ بلا شہوت نکلی ہو تو اس سے غسل لازم نہیں ہوگا، صرف وضو ٹوٹ جائے گا۔

اس کےساتھ ساتھ سائل کثرت سےشیطانی وساوس سےحفاظت کےلیےاس دعاکاوردکرے:"أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم، من همزه ‌ونفخه ونفثه."

صحيح مسلم میں ہے:

" قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « إذا وجد أحدكم فى بطنه شيئًا فأشكل عليه أخرج منه شىء أم لا، فلايخرجن من المسجد حتى يسمع صوتًا أو يجد ريحًا»."

(‌‌باب الدليل على أن من تيقن الطهارة ثم شك في الحدث فله أن يصلي بطهارته تلك، ج:1، ص:190، ط:دار الطباعة العامرة)

“آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جب تم میں سے کوئی اپنے پیٹ میں کوئی چیز محسوس کرے، اور اس پر اسے شک ہو جائے کہ اس سے کچھ خارج ہوا ہے یا نہیں، تو وہ مسجد سے نہ نکلے جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے یا بدبو محسوس نہ کر لے۔”

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"لو اغتسل من الجنابة قبل أن يبول أو ينام وصلى ثم خرج بقية المني فعليه أن يغتسل عندهما خلافا لأبي يوسف - رحمه الله تعالى - ولكن لا يعيد تلك الصلاة في قولهم جميعا. كذا في الذخيرة ولو خرج بعد ما بال أو نام أو مشى لا يجب عليه الغسل اتفاقا. كذا في التبيين."

(کتاب الطھارۃ، باب اوّل، فصل ثان، ج:1، ص:14، ط:دار الفکر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله: بشهوة) متعلق بقوله منفصل، احترز به عما لو انفصل بضرب أو حمل ثقيل على ظهره، فلا غسل عندنا".

(کتاب الطھارۃ، ج:1، ص:160، ط:سعید)

وفيه أیضاً:

"فإن ‌الشك والاحتمال لا يوجب الحكم بالنقض، إذ اليقين لا يزول بالشك."

(کتاب الطھارۃ، سنن الوضوء، ج:1، ص148، ط:سعید)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

”جب ہو انکلنے کا یقین نہیں ہے تو صرف وہم ہوتے رہنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔  اس کی پرواہ نہیں کرنی  چاہیے۔ہاں بادی کاعلاج کرے اور ریاح پیدا کرنے والی چیزوں سے پرہیز کرے ۔“

(کتاب الطہارات، ج:4، ص:28، ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707102106

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں