
زیر نظر مسئلہ میرے چھوٹے بھائی کا ہے، جس کا نکاح ہوا، اور ڈیڑھ سال بعد رخصتی ہوئی ،رخصتی کے بعد تقریبا دو سال شادی رہی، اور اس سارے عرصے میں لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ تقریبا چھ ماہ کا عرصہ رہی( شوہر کی جاب ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے)۔
اب کچھ وجوہات کی بنا پر مثلا :لڑکی کا سسرال کے ماحول سے مناسبت نہ ہونا، حد درجہ آزادانہ طبیعت کی وجہ سے شوہر کے ساتھ آدھی رات گئے تک باہر رہنا، سسرال والوں کی روک ٹوک کی وجہ سے سسرال سے الگ ہو کر میکے چلے جانا، بھائی کا گھر والوں بہن بھائیوں سے بھی قطع تعلق کروا دینا، پھر جاب نہ ہونے کی وجہ سے بھائی کا غلط صحبت نشہ میں پڑ جانا، اور اس کے سسرال والوں کا بیماری کی حالت میں اس کو لا وارثوں کی طرح اسپتال چھوڑ جانا، اور گھر والوں کو فون پر مطلع کرنا ،غرض پس منظر میں کئی ایسے حالات پیش آئے ،کہ تقریبا چار ماہ سے شوہر بیوی کا آپس میں کوئی رابطہ نہیں رہا۔
اب بیوی کی طرف سے خلع کا مطالبہ ہے، اور شوہر بھی خلع دینے پر راضی ہے ،لہذا اس ضمن میں کچھ باتیں وضاحت طلب ہیں،جو کہ درج ذیل ہیں :
1۔ زوجین کے درمیان خلع کی صورت میں کیا لڑکے کو حق مہر کی رقم ادا کرنی ہوگی؟ مکمل یا کچھ حصہ یا بغیر حق مہر کی ادائیگی کے خلع ہو جائے گا ؟
2۔ خلع کی صورت میں نکاح اور شادی کے موقع پر سونے چاندی کے جو زیورات بری کی صورت میں، اور جو قیمتی کپڑے، تحائف ،اور لڑکے اور اس کے گھر والوں کی طرف سے جو تحائف وقتا فوقتا شادی ،نکاح اور عید کے موقع پر دیے گئے ان کا کیا حکم ہے؟آیا ان کی واپسی کا مطالبہ درست ہے؟
واضح رہے کہ صرف جیولری اور نکاح، بارات ولیمے کے سامان کی قیمت کئی لاکھ روپے پر مشتمل ہے۔
3۔لڑکے کی طرف سے جو قیمتی تحائف لڑکی کو دیے گئے، جیسے موبائل فونز ، لیپ ٹاپ، سونے کی انگوٹھی اور دیگر چیزیں کیا ان کی واپسی کا مطالبہ درست ہے؟
4۔لڑکے کو لڑکی والوں کی طرف سے نکاح پر 25 ہزار اور شادی کے موقع پر 30 ہزار تیاری کے لیے جو رقم دی گئی ،اگر لڑکی والے اس کی واپسی کا مطالبہ کریں، تو کیا حکم ہے؟ وہ سارے کپڑے لڑکی کی ملکیت میں ہے جو سسرال سے جاتے وقت تمام سامان کے ساتھ وہ بھی لے گئی تھی ؟
5۔لڑکے نے باہر ملک جاب کے دوران سامان کی صورت میں سسرال والوں کو جو کچھ دیا تو کیا لڑکے والے سسرال سے اس کا مطالبہ کر سکتے ہیں؟
6۔ہمارے بھائی کے پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات وغیرہ سسرال والوں کے پاس ہیں ،اور وہ کہہ رہے ہیں ،کہ پہلے خلع کے کاغذات پر دستخط کرو ،اس کے بعد ہم وہ کاغذات دیں گے ،تو کیا صرف دستخط سے بھی خلع ہوجائے گا؟
1۔خلع کے شرعا معتبر ہونے کے لئے بیوی کی جانب سے اپنے مہر کے عوض خلع کا مطالبہ کرنا اور شوہر کی جانب سے اس مطالبہ کو تسلیم کرنا شرعا ضروری ہوتا ہے ۔
لہذا صورت مسئولہ میں بیوی کے مطالبہ خلع کو اگر شوہر (سائل کا بھائی) قبول کرلیتا ہے ،تو خلع ہوجائے گا،اور بیوی اگر مہر وصول کرچکی ہو ،تو وہ واپس کرنا ضرور ی ہوگا ،البتہ اگر شوہر نے مہر اب تک ادا ہی نہ کیا ہو ،تو اس کی ادائیگی ذمہ سے ساقط ہوجائے گی ۔
2 تا 5۔ فریقین نے ایک دوسرے کو اب تک جو کچھ بطور تحفہ دیا تھا،یا سسرال والوں نے جو کچھ دیا تھا ،تو شرعا اس کی واپسی کے مطالبہ کا کسی کو بھی حق نہیں ہوگا ،البتہ اگر بغیر مطالبہ کے مذکورہ اشیاء ایک دوسرے کو واپس کر دیں ،تو دینے ،لینے کی اجازت ہوگی ۔تاہم سسرال والوں کی جانب سے بری میں جوسونا دیا گیا تھا ،اگر صراحت کے ساتھ بطور تحفہ دیا ہو ،تو دلہن سونے کی شرعا مالک ہوگی ،اور اگر صراحت کے ساتھ محض استعمال کے لئے دیا ہو ،تو سونا واپس کرنا دلہن کے لئے ضروری ہوگا ،اور اگر دیتے وقت کسی بات کی وضاحت نہیں کی گئی تھی ،تو لڑکے والوں کے گھرانے کے عرف و رواج کا اعتبار ہوگا ،یعنی طلاق کی صورت میں اگر سونا واپس لیا جاتا ہو ،تو واپس لیا جائے گا ،البتہ لڑکے والوں کے گھرانہ میں اگر کوئی عرف نہ ہو ،تو عرف عام کا اعتبار کرتے ہوئے دلہن سونے کی مالک شمار ہوگی ،سسرال والوں کو واپسی کےمطالبہ کا شرعا حق نہیں ہوگا۔
6۔سائل کا بھائی چونکہ خلع دینے پر آمادہ ہے ،لہذا خلع نامہ پر دستخط کرنے سے خلع ہوجائے گا۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے :
"وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «العائد في هبته كالكلب يعود في قيئه ليس لنا مثل السوء» . رواه البخاري"
ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اپنے ہبہ (تحفہ) کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے، اور ہمارے لیے بری مثال مناسب نہیں۔
(كتاب البيوع ،باب العطايا،ج:2،/ص: 909،ط:المكتب الإسلامي ،بيروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية".
(كتاب الطلاق،الباب الثامن في الخلع،ج:1،ص:488،ط:رشیدیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قال) الزوج (خالعتك فقبلت) المرأة ولم يذكرا مالا (طلقت) لوجود الإيجاب والقبول (وبرئ عن) المهر (المؤجل لو) كان (عليه وإلا) يكن عليه من المؤجل شيء (ردت) عليه (ما ساق إليها من المهر المعجل) لما مر أنه معاوضة فتعتبر بقدر الإمكان".
(كتاب الطلاق،مطلب في خلع الصغيرة، ج:3،ص:459،ط:سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
"فالخلع لا يخلو أما إن كان بغير بدل.وأما إن كان ببدل فإن كان بغير بدل بأن قال: خالعتك، ونوى الطلاق فحكمه أنه يقع الطلاق، ولا يسقط شيء من المهر، وإن كان ببدل فإن كان البدل هو المهر بأن خلعها على المهر فحكمه أن المهر إن كان غير مقبوض أنه يسقط المهر عن الزوج، وتسقط عنه النفقة الماضية، وإن كان مقبوضا فعليها أن ترده على الزوج".
(کتاب الطلاق،فصل فی حکم الخلع، ج:3، ص: 151،ط:رشیدیة)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"أما العوارض المانعة من الرجوع فأنواع..... (ومنها العوض) ، كذا في البدائع.(ومنها) أن يتغير الموهوب بأن كان حنطة فطحنها أو دقيقا فخبزه أو سويقا فلته بسمن أو كان لبنا فاتخذه جبنا أو سمنا أو أقطا هكذا في التتارخانية. (ومنها الزوجية) سواء كان أحد الزوجين مسلما أو كافرا، كذا في الاختيار شرح المختار".
(الباب الخامس في الرجوع في الهبة وفيما يمنع عن الرجوع ما لا يمنع، ج: 4، ص: 385، ط: المکتبة الحبیبیة،کوئٹه)
رد المحتار علي الدر المختار میں ہے:
"(وما لم ينص عليه حمل على العرف)."
(باب الربا، ج: 6، ص: 176، ط: دار الفكر)
حاشیہ ابن العابدين میں ہے:
"لأن المفتى به اعتبار العرف فحيث تغير العرف فالفتوى على العرف الحادث فافهم."
(كتاب الأيمان، ج: 3، ص: 748، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101615
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن