بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1448ھ 17 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

خلع نامے پر دستخط سے طلاق کا وقوع اور تجدیدِ نکاح کا حکم


سوال

میاں بیوی کے درمیان ناچاقیاں ہوئیں، شوہر آسٹریلیا میں رہتا ہے، جبکہ بیوی اپنے سسرال میں رہتی ہے، شوہر نان و نفقہ ادا نہیں کر رہا تھا اور نہ ہی اپنی بیوی کو آسٹریلیا بلا رہا تھا، جس کے بعد لڑکی کے والد نے خلع کی دستاویز بنا کر لڑکے کو بھیج دی اور اس پر لڑکی بھی راضی تھی، خلع نامہ پڑھنے کے بعد شوہر نے اس پر دستخط کر کے لڑکی والوں کو واپس بھیج دی، خلع نامہ کا خلاصہ یہ ہے کہ "بیوی کی جانب سے عدت کی رقم کی معافی کے عوض خلع کا مطالبہ کیا گیا، اور اس پیشکش کو شوہر نے قبول کرکے دستخط کر دیے کہ میں نے اس کے خلع کو قبول کر لیا اور اس سے طلاقِ بائن دے کر اپنی زوجیت کے تعلق سے الگ کر دیا ہے"۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس پیپر پر دستخط کرنے سے خلع اور طلاق واقع ہو گئی؟ نیز عدت کب سے شروع ہوئی؟

اب شوہر دوبارہ اپنی سابقہ بیوی کو اپنانا چاہتا ہے اور اپنے اس دستخط پر شرمندہ ہے، نیز شوہر کا کہنا ہے کہ میں نے مجبورا دستخط کیے، تو کیا اب رجوع یا تجدیدِ نکاح کی کوئی گنجائش ہے؟

وضاحت: اکراہِ ملجی (دستخط نہ کرنے کی صورت میں قتل کرنے، کسی عضو کے تلف کرنے، پولیس وغیرہ کی دھمکی دینے ) کی صورت نہیں تھی، اور نہ ہی کسی کی طرف سے کوئی دباؤ تھا۔ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں میاں بیوی دونوں خلع پر راضی تھے، تو اس صورت میں جب شوہر نے رضامندی سے خلع نامہ پر دستخط کر دیے تو اس سے بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی، شوہر کا یہ کہنا کہ "میں نے مجبوری میں دستخط کر دیے"، شرعا معتبر نہیں، لہذا دونوں کا نکاح ختم ہو چکا ہے، اب تجدید نکاح کے بغیر تعلقات قائم کرنا یا رجوع کرنا جائز نہیں ہے، اس کی بیوی عدتِ طلاق (اگر حمل ہو تو وضع حمل تک، ورنہ اگر ماہواری آتی ہو تو مکمل تین ماہواریوں تک، ورنہ تین ماہ کی مدت) گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، اور یہ عدت خلع نامہ پر شوہر کے دستخط کرنے کے دن سے شمار ہوگی۔

تاہم اگر بیوی مذکورہ شخص سے دوبارہ نکاح کرنا چاہے، تو اس صورت میں دورانِ عدت یا عدت گزرنے کے بعد دونوں از سرِ نو دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ تجدید نکاح کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں، بشرط یہ کہ شوہر نے مذکورہ طلاقِ بائن کے علاوہ کبھی کوئی طلاق نہ دی ہو اور مجموعی طور پر تین طلاقیں نہ ہوئی ہوں، تجدیدِ نکاح کی صورت میں شوہر کو باقی ماندہ طلاقوں کا اختیار ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء... والعدة لمن لم تحض لصغر أو كبر أو بلغت بالسن ولم تحض ثلاثة أشهر... وعدة الحامل أن تضع حملها كذا في الكافي".

(کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر، ج:1، ص:528/526، ط:دارالفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب".

(كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:3، ص:409، ط:دار الفكر)

و فيه أيضا:

"(و) حكمه أن (الواقع به) ولو بلا مال (وبالطلاق) الصريح (على مال طلاق بائن)".

(كتاب الطلاق، باب الخلع، ج:3، ص:444، ط:دار الفكر)

فقط و الله أعلم


فتویٰ نمبر : 144802102320

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں