بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خلع لينے كے بعد دوباره نكاح كرنے كی شرعی حيثيت


سوال

میں اپنے شوہر سے خلع لینا چاہتی ہوں ، اسلام میں خلع کی حیثیت تو ایک طلاقِ بائن کی ہے ،یہ تین طلاق کے برابر نہیں ہوتا ،اب پوچھنا یہ ہے کہ عورت اس ایک طلاق ( جو کہ خلع  صورت میں ہوتی ہے) کے بعد دوسری شادی کرسکتی ہے؟ کیا یہ شریعت  میں جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شرعی شرائط کے مطابق  باہمی رضامندی سے خلع ہوجانے کی صورت میں  ایک طلاقِ بائن واقع  ہوجاتی ہے، اور میاں بیوی کا رشتہ نکاح ختم ہوجاتا ہے ، عدت (اگر عورت حاملہ ہو تو عدت بچے کی پیدائش ہے اور اگر حاملہ نہ ہو تو عدت تین مکمل ماہواریاں ہیں ) گزارنے کے بعد عورت نکاح کرنے کے سلسلے میں آزاد ہوگی،اگر چاہے تو سابقہ شوہر سے بھی  نکاح کرے اور چاہے تو کسی اور مرد سے نکاح کرے ،البتہ اگر یہ عورت سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو عدت گزارنا لازم نہيں ہوگا    ،  دونوں    باہمی رضامندی سے  میاں بیوی کے طور پر ایک ساتھ رہنا چاہیں ، تو دورانِ عدت بھی اور عدت گزرجانے کے بعد بھی شرعی گواہان     کی موجودگی میں   نیا مہر  مقرر کرکے دوبارہ عقدِ نکاح کر کے ساتھ  رہ سکتے ہیں، اور آئندہ کے لیے  اس شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا۔اگر اس شوہر نے آئندہ مزید دو طلاقیں  دے دیں  تو پھر رجوع  کی گنجائش باقی نہیں رہے گی،اور مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی اور عورت حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی۔

البتہ اگر یہ عورت ، خلع لینے کے بعد   سابقہ شوہر کے علاوہ کسی اور  شخص سے نکاح کرنا چاہے تو اس صورت میں عدت گزارنا لازم ہوگا،  عدت گزار کر نکاح کرسکتی ہے ، اور  اس صورت میں شوہر کو مکمل تین طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا ۔

نیز یہ بات واضح رہے کہ عدالت سے خلع لینے کی صورت میں شوہر کی رضامندی ضروری ہوگی، چاہے شوہر پہلے کہہ دے کہ عدالت سے خلع لے لو یا یا بعد میں عدالت کے فیصلے پر رضامندی ظاہر کردے،لیکن اگر شوہر خلع پر رضامند نہ ہوا تو پھر یک طرفہ خلع شرعاً واقع نہیں ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) حكمه أن (الواقع به) ولو بلا مال (وبالطلاق) الصريح (على مال طلاق بائن)."

(کتاب الطلاق، باب الخلع،ج:3، ص:444،ط: سعید)

بدائع الصنائع  میں ہے:

"فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضاً حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولا يجري اللعان بينهما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمةً غليظةً حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائناً - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية". 

( کتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق البائن، ج: 3، ص: 187 ، ط: دار الکتب العلمية) 

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711100279

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں