بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1448ھ 03 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

خلع کے مطالبے پر تین طلاقیں دینے کا حکم


سوال

آٹھ ماہ قبل میری بیوی کے ساتھ میری لڑائی ہوئی، جس میں میرے دانت بھی ٹوٹ گئے۔ بعد ازاں معاملہ عدالت میں چلا گیا۔ وہاں میری بیوی نے یہ شرط رکھی کہ میں اسے خلع دوں۔ چنانچہ میں نے عدالت میں خلع کے کاغذات پر دستخط کر دیے، اور ان کے مطالبے پر عدالت ہی میں تین طلاقیں بھی دے دیں۔

اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں خلع واقع ہو چکی ہے یا نہیں؟ نیز اگر خلع واقع ہو چکی ہے تو کیا دوبارہ نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ بچوں کا مطالبہ ہے کہ ہم دوبارہ نکاح کر لیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں جب سائل نے عدالت میں بیوی کے مطالبےپرتین طلاقیں دے دیں اور خلع نامے پر دستخط بھی کر دیے،  تو شرعاً تین طلاقیں واقع ہو گئیں،میاں بیوی کا نکاح ختم ہو گیا، اور رجوع کی گنجائش نہیں رہی، کیونکہ بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ شوہر پر حرام ہو گئی ہے، نیز دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، البتہ اگر مطلقہ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے کہیں اور نکاح کرے اور دوسرے شوہر سے ازدواجی تعلق قائم ہوجائے، اس کے بعد اگر دوسرا شوہر طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہوجائے تو اس کی عدت (عدت طلاق یا عدت وفات) گزار کر مطلقہ کا پہلے شوہر سے نکاح کرنا جائز ہوگا، اس کے علاوہ دوبارہ نکاح کی صورت نہیں ہے۔

قرآن کریم میں ارشادباری تعالی  ہے:

"الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۔۔۔ فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىَ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ"(البقرة:(229.230

’’ وہ طلاق دو مرتبہ (کی )ہے ، پھر خواہ رکھ لینا قاعدے کے موافق، خواہ چھوڑدینا خوش عنوانی کے ساتھ ...  پھر اگر کوئی (تیسری) طلاق دے دے عورت کو تو پھر وہ اس کے لئے حلال نہ رہے گی اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ (عدت کے بعد) نکاح کرے۔‘‘  )ترجمہ از بیان القرآن)

حدیث مبارک میں ہے:

"عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى الله عليه وسلم أتحل للأول قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول."

(صحيح البخاری ،كتاب الطلاق،باب من أجاز طلاق الثلاث، ج: 2، ص: 3000، ط: رحمانية)

ترجمہ: ’’ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، عورت نے دوسری جگہ نکاح کیا اور دوسرے شوہر نے بھی طلاق دے دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگئی ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! یہاں تک کہ دوسرا شوہر بھی اس کی لذت چکھ لے جیساکہ پہلے شوہر نے چکھی ہے۔‘‘

فتاوی عالمگیری میں ہے :

"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز."

(کتاب الطلاق، الباب السادس، فصل فیما تحل به الطلقة، ج: 1، ص: 473، ط: رشیدیة)

بدائع الصنائع میں ہے :

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."

(كتاب الطلاق، فصل في حكم الطلاق البائن، ج: 3 ،ص: 187 ، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101194

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں