
ایک لڑکی کا شوہر شادی کے بعد بیرونِ ملک چلا گیا اور 14 سال تک وہیں رہا۔ کچھ عرصے بعد لڑکی اپنے والدین کے گھر چلی گئی۔ اب 14 سال بعد لڑکی نے خلع لے لیا ہے۔ اب لڑکی کا مطالبہ ہے کہ اسے 14 سال کا خرچہ دیا جائے۔ تو شریعت کی رو سے اس مطالبے کی کیا حیثیت ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بیوی کا اگر عدالت کی طرف سے کوئی خرچہ مقرر نہیں تھا، نہ ہی میاں بیوی نے باہمی رضامندی سے ناچاقی کے درمیان کا کوئی خرچہ طے کیا تھا، تو اب خلع لینے کے بعد لڑکی جو گزشتہ چودہ سالوں کے نان و نفقہ کے مطالبہ کر رہی ہے، اس مطالبے کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں ہے، اور وہ نان و نفقہ کی حق دار نہیں ہے۔
البتہ اگر عورت نے شوہر سے یا اس کی رضامندی سے بذریعہ عدالت خلع لی ہے، اور وہ شوہر ہی کے گھر یا شوہر کی اجازت سے اپنے والدین کے گھر عدت گزار رہی ہے،تو اپنی عدت کے خرچہ کا مطالبہ کر سکتی ہے، اور شوہر پر وہ ادا کرنا لازم ہو گا۔
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"وأصل المسألة أن النفقة لاتصير دينًا إلا بقضاء القاضي أو التراضي عندنا."
(کتاب النكاح، باب النفقة، 5/ 184، ط: دارالمعرفة)
العقود الدریہ فی تنقیح فتاویٰ الحامدیہ میں ہے:
"(سئل) في رجل فرض على نفسه برضاه لزوجته وابنه الصغير منها في كل يوم كذا لنفقتهما ومضى لذلك عدة أشهر دفع منها بعضها وامتنع من دفع الباقي بلا وجه شرعي فهل يلزمه الباقي؟
(الجواب) : نعم لأن النفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا كما في التنوير (أقول) هذا مسلم بالنظر إلى نفقة الزوجة فإنها لا تسقط بمضي المدة بعد فرضها وأما بالنظر إلى نفقة الصغير فهو مبني على ما مر قبل صفحة عن الزيلعي من أنه كالزوجة وقد علمت ما فيه."
(كتاب الطلاق، باب النفقة، 1/ 74، ط: دار المعرفة)
فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:
"وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله، والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه بخلاف ما لو امتنعت عن التمكن في بيت الزوج لأن الاحتباس قائم حتى، ولو كان المنزل ملكها فمنعته من الدخول عليها لا نفقة لها إلا أن تكون سألته أن يحولها إلى منزله أو يكتري لها منزلا، وإذا تركت النشوز فلها النفقة."
(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، 1/ 545، ط: دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711100551
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن