بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خلع کی صورت میں مہر کی واپسی، شوہر کے مال کے مطالبے کی شرعی حدود اور خلع کا شرعی طریقہ


سوال

ایک شخص کی شادی 11/9/2019 کو ہوئی۔ مہر کے طور پر 5 مرلہ زمین مقرر کی گئی، جس کی مالیت تین لاکھ روپے تھی، نیز تین تولہ سونا بطورِ گفٹ نکاح نامہ میں درج ہے۔
شادی کے بعد تقریباً دو سال تک میاں بیوی اکٹھے رہے، مگر ہم بستری نہیں ہوئی۔ بعد ازاں لڑکی اپنے والدین کے گھر چلی گئی اور گزشتہ تقریباً چار سال سے وہیں مقیم ہے، حالانکہ لڑکے اور اس کے والدین نے متعدد مرتبہ اسے واپس لانے کی کوشش کی، مگر اس نے انکار کر دیا۔

اب لڑکی خلع کا مطالبہ کر رہی ہے اور لڑکے والے بھی خلع دینے پر آمادہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ خلع کی صورت میں لڑکی پر کتنا مہر واپس کرنا لازم ہوگا؟ لڑکا خلع کے بدلے کیا لے سکتا ہے،؟اور خلع کا شرعی طریقہ کیا ہے؟

جواب

 شریعت میں طلاق ناپسندیدہ ہے، اس لیے زوجین کو چاہیے کہ وہ حتی الامکان گھر بسانے کی کوشش کریں، اورزوجین ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں۔ اگر  باہم حل نہ ہو رہا ہو تو خاندان کے بڑے اور معزز لوگوں سے بات چیت کرکے مسئلے کا حل نکالا جائے واضح رہے کہ شریعت میں طلاق ناپسندیدہ  چیز ہے، اس لیے زوجین کو چاہیے کہ وہ حتیٰ الامکان گھر بسانے کی کوشش کریں اور ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری کریں۔ اگر باہم مسئلہ حل نہ ہو رہا ہو تو خاندان کے بڑے اور معزز افراد سے بات چیت کر کے اس کا حل نکالا جائے، یعنی جہاں تک ممکن ہو رشتے کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے۔

لیکن اگر نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے اور میاں بیوی دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کی حدود قائم نہیں رکھ سکیں گے، تو اس صورت میں جدائی کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ فریقین بیٹھیں، لڑکی مطالبہ کرے کہ:’’میں حقِ مہر یا کسی طے شدہ مال کے عوض اپنے شوہر سے خلع چاہتی ہوں‘‘اور شوہر اس مطالبے کو قبول کرتے ہوئے کہے:’’میں حقِ مہر یا مال وغیرہ کے عوض اپنی بیوی کو خلع دیتا ہوں‘‘۔اس پر دو مردوں کو گواہ بنا لیا جائے اور معاملے کو تحریری صورت میں قلم بند کر کے فریقین اور گواہان اس پر دستخط کر دیں۔ اس طرح خلع واقع ہونے سے عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی۔ اس کے بعد وہ عدت گزارے گی، یعنی تین حیض مکمل (بشرطیکہ حاملہ نہ ہو)، اگر حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے، اور اگر حاملہ ہو تو ولادت تک۔ عدت پوری ہونے کے بعد وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے عقدِ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

نیز  اگر زیادتی لڑکی کی طرف سے ہو تو لڑکے والے خلع کی صورت میں، اگر مہر ادا کر چکے ہوں، مہر کے بقدر مطالبہ کر سکتے ہیں، اور اگر مہر ادا نہ کیا ہو تو مہر معاف کرنے کے عوض خلع دے سکتے ہیں۔ مہر سے زائد  لینا شرعاً ناپسندیدہ (مکروہ) ہے۔

اور اگر زیادتی لڑکے والوں کی طرف سے ہو تو ان کے لیے طلاق کے بدلے کسی قسم کا مالی مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں۔

المبسوط للسرخسی  میں ہے:

"(قال): ‌والخلع ‌جائز ‌عند ‌السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد."

( كتاب الطلاق، باب الخلع، ج : 6 ، ص : 173، ط : دار المعرفة)

الاختيار لتعليل المختار میں ہے:

"قال: (وهو أن تفتدي المرأة نفسها بمال ليخلعها به، فإذا فعلا لزمها المال ووقعت تطليقة بائنة) والأصل في جوازه قوله تعالى: {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229] ، وإنما تقع تطليقة بائنة لقوله عليه الصلاة والسلام: «الخلع تطليقة بائنة».

قال: (ويكره أن يأخذ منها شيئا إن كان هو الناشز) قال تعالى: {وإن أردتم استبدال زوج مكان زوج وآتيتم إحداهن قنطارا فلا تأخذوا منه شيئا} [النساء: 20] فحملناه على الكراهية عملا بالنص الأول، وقيل هي نهي توبيخ لا تحريم، (وإن كانت هي الناشزة كره له أن يأخذ أكثر مما أعطاها) لما روي «أن جميلة بنت عبد الله بن أبي ابن سلول، وقيل حبيبة بنت سهل كانت تحت ثابت بن قيس بن شماس، فأتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله لا أنا ولا هو، فأرسل رسول الله إلى ثابت، فقال: قد أعطيتها حديقة، فقال لها: " أتردين عليه حديقته وتملكين أمرك؟ فقالت نعم وزيادة، قال: أما الزيادة فلا، فقال عليه الصلاة والسلام: يا ثابت خذ منها ما أعطيتها ولا تزدد وخل سبيلها. ففعل وأخذ الحديقة، فنزل قوله تعالى: {ولا يحل لكم أن تأخذوا مما آتيتموهن شيئا} [البقرة: 229] إلى قوله: {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229] » .

(وإن أخذ منها أكثر مما أعطاها حل له) بمطلق الآية.

قال: (وكذلك إن طلقها على مال فقبلت وقع الطلاق بائنا) لما قلنا، (ويلزمها المال بالتزامها) ولأنه ما رضي بالطلاق إلا ليسلم له المال المسمى، وقد ورد الشرع به فيلزمها."

(کتاب الطلاق، ‌‌باب الخلع، ج : 3، ص : 156 ،157، ط : دار الكتب العلمية)

مجمع الانہر فی شرح ملتقى الابحر میں ہے:

"(‌ولا ‌بأس ‌به) ‌أي ‌بالخلع (عند الحاجة) بل هو مشروع بالكتاب والسنة وإجماع الأمة عند ضرورة عدم قبول الصلح وفي شرح الطحاوي إذا وقع بينهما اختلاف فالسنة أن يجتمع أهل الرجل والمرأة ليصلحا بينهما فإن لم يصلحا جاز له الطلاق والخلع وفيه إشارة إلى أن عدم الخلع أولى (وكره) [له أي للزوج أخذ شيء من المهر وإن قل لقوله تعالى {فلا تأخذوا منه شيئا} [النساء: 20] إن نشز الزوج وكره أخذ أكثر مما أعطاها من المهر إن نشزت] تحريما وقيل تنزيها (له) أي للزوج (أخذ شيء) من المهر وإن قل لقوله تعالى {فلا تأخذوا منه شيئا} [النساء: 20] (إن نشز) الزوج أي كرهها وباشر أنواع الأذى.

(و) كره (أخذ أكثر مما أعطاها) من المهر (إن نشزت) المرأة فلا يكره أخذ ما قبضته منه هذا على رواية الأصل وعلى رواية الجامع لم يكره أن يأخذ أكثر مما أعطاها لكن اللائق بحال المسلم أن يأخذ ناقصا من المهر حتى لا يخلو الوطء عن المال."

(كتاب الوقف، باب الخلع، ج : 1، ص : 730، ط : دار إحياء التراث العربي)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144707100013

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں