بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خلع کی عدت کن فقہاء کے نزدیک ایک حیض ہے، اگر کوئی عورت خلع کے ایک حیض بعد نکاح کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟


سوال

تفسیرمعالم العرفان میں صوفی عبدالحمید  ؒنے سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر:229   ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾   کی تفسیر میں لکھاہے کہ بعض فقہاء  کے نزدیک خلع کی عدت ایک حیض ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس بعض فقہاءسے کون مراد ہے؟ اگر کوئی شخص خلع یافتہ عورت سے ایک حیض کے بعد نکاح کرے، تو اس نکاح کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ خلع یافتہ عورت کی عدت مطلقہ بائنہ کی عدت کی طرح ہے،اسی موقف کو حضرت صوفی صاحبؒ نے مذکورہ آیت کی تفسیر میں صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ"البتہ یہ طلاق بائن کاقائم مقام ہوتاہےاورطلا ق کی طرح اس میں بھی عورت کوعدت گزارنی ہوتی ہے(سورۃ البقرہ،آیت:229)" جس طرح طلاقِ بائن کی عدت تین حیض ہے، بعینہٖ خلع یافتہ عورت کی عدت بھی تین حیض ہی ہے، لہٰذا جس طرح طلاقِ بائن کے بعد عورت ایک حیض کے بعد نکاح نہیں کرسکتی، اسی طرح خلع کے بعد بھی عورت محض ایک حیض گزار کر نکاح نہیں کرسکتی، اگر کسی عورت نے خلع کے بعد صرف ایک حیض گزار کر نکاح کرلیا تو وہ گنہگار ہوگی، اور شرعاً یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔

تفسیر معالم العرفان کے مذکورہ مقام پر "بعض فقہاء" سے مراد امام احمد بن حنبل، امام اسحاق، اور امام ابن المنذر رحمہم اللہ ہیں،  یہ امام احمد رحمہ اللہ کا ایک قول ہے، جبکہ امام احمدؒ کا دوسرا قول، نیز جمہور فقہاءؒ کا موقف یہ ہے کہ خلع کی عدت تین حیض ہے،   مزید یہ کہ اپنے اختیار کردہ مذہب  کو چھوڑ کر کسی دوسرے مذہب پر عمل کرنا  درست نہیں۔

حدیث میں ہے:

" -حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان، عن سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، وعن أبي معشر، عن إبراهيم، قالا: «عدة المختلعة، عدة المطلقة»."

(مصنف إبن أبي شيبه، كتاب الطلاق، ماقالوا في عدة الطلاق ماھي، رقم حديث:18452، ج:4،ص:119، ط:مكتبة الرشد رياض)

الموسوعۃ الفقہیۃ ميں هے:

‌‌"عدة المختلعة:

44 - ذهب الحنفية والمالكية والشافعية والحنابلة في المذهب إلى أن عدة المختلعة عدة المطلقة، وهو قول سعيد بن المسيب وسالم بن عبد الله وسليمان بن يسار وعمر بن عبد العزيز والحسن والشعبي والنخعي والزهري وغيرهم، واستدلوا بقوله تعالى {والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء} (2) ولأن الخلع فرقة بين الزوجين في الحياة بعد الدخول، فكانت العدة ثلاثة قروء كعدة المطلقة.

وفي قول عن أحمد: أن عدتها حيضة، وهو المروي عن عثمان بن عفان وابن عمر وابن عباس رضي الله عنهم وأبان بن عثمان وإسحاق وابن المنذر، واستدلوا بما روي عن ابن عباس رضي الله عنهما أن امرأة ثابت بن قيس اختلعت منه، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم عدتها حيضة (1) كما أن عثمان رضي الله عنه قضى به (2) ."

(حرف العين، عدة المختلعة، ج:29، ص:337،ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت)

احکام القرآن  للجصاص میں ہے:

"ونكاح المعتدة لا تلحقه إجازة عند أحد; وتحريم ‌نكاح ‌المعتدة منصوص عليه في الكتاب في قوله تعالى: ولا تعزموا عقدة النكاح حتى يبلغ الكتاب أجله".

(سورة آل عمران، ج:2، ص:208، ط:دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا".

(کتاب النکاح، باب العدّۃ، مطلب عدة المنكوحة فاسدا والموطوءة بشبهة ، ج:3، ص:516، ط: سعید)

تبیین الحقائق میں ہے:

"(اعلم) أنه لا يجوز ‌نكاح ‌المعتدة من غيره على أي وجه لزمتها العدة لقوله تعالى: ولا تعزموا عقدة النكاح حتى يبلغ الكتاب أجله".

(کتاب النکاح، فصل في المحرمات، ج:2، ص:108، ط:دار الكتب الاسلامي)

فتاویٰ دارالعلوم دیوبندمیں ہے:

"سوال(1030)عدت خلع کیاہے،کسی عورت نے خلع کے ایک مہینہ بعدنکاح کرلیا،جائزہے،یانہیں؟

الجواب: خلع کی عدت وہی ہے جوطلاق کی یعنی تین حیض کامل اوربصورت نہ آنے حیض کے تین ماہ ،پس خلع کے ایک مہینہ بعدجونکاح ہوا وہ باطل ہوا۔"

(کتاب الطلاق، باب پانزدہم،عدت سے معلق احکام ومسائل، ج:دہم(10)، ص:185، ط:دار الاشاعت )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704102046

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں