
میری بیٹی کا عدالت میں خلع کا معاملہ چل رہا اور شوہر بھی خلع دینے کے لئے تیا ر ہے لیکن سوال یہ ہے کہ نکاح کے موقع پر ہم نے دولہا والوں کو کچھ سامان جیسے کپڑے انگوٹھی لفافے وغیرہ دئے تھے اسی طرح انہوں نے بھی ہمیں دئے تھے تو کیا ہم وہ واپس لے سکتے ہیں ؟
اور شوہر نے مہر کی رقم دے دی ہے تو کیا شوہر خلع کی صورت میں وہ رقم لے سکتا ہے ؟
صورت مسئولہ میں فریقین نے ایک دوسرے کو جو کچھ بطور تحفہ دیا تھا، اس کی واپسی کے مطالبہ کا فریقین کو شرعا حق نہیں ہے ،البتہ اگر بغیر مطالبہ کے مذکورہ اشیاء ایک دوسرے کو واپس کر دیں ،تو لینے کی اجازت ہوگی ۔
رہی بات مہر کی ،تو خلع کے موقع پر مہر کے عوض میں خلع ہونے کی صورت میں مہر واپس کرنا بیوی کی ذمہ داری ہوگی ،البتہ اگر خلع لینے کی وجہ شوہر کی جانب سے ظلم وزیادتی ہو، تو اس صورت میں شوہر کے لئے مہر واپس لینا مکروہ ہے ۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے :
"وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «العائد في هبته كالكلب يعود في قيئه ليس لنا مثل السوء» . رواه البخاري"
ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اپنے ہبہ (تحفہ) کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے، اور ہمارے لیے بری مثال مناسب نہیں۔
(كتاب البيوع ،باب العطايا،ج:2،/ص: 909،ط:المكتب الإسلامي ،بيروت)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"أما العوارض المانعة من الرجوع فأنواع..... (ومنها العوض) ، كذا في البدائع.(ومنها) أن يتغير الموهوب بأن كان حنطة فطحنها أو دقيقا فخبزه أو سويقا فلته بسمن أو كان لبنا فاتخذه جبنا أو سمنا أو أقطا هكذا في التتارخانية. (ومنها الزوجية) سواء كان أحد الزوجين مسلما أو كافرا، كذا في الاختيار شرح المختار."
(الباب الخامس في الرجوع في الهبة وفيما يمنع عن الرجوع ما لا يمنع، ج: 4، ص: 385، ط: المکتبة الحديبية کوئٹه)
فتاوی شامی میں ہے :
"(وكره) تحريما (أخذ شيء) ويلحق به الإبراء عما لها عليه (إن نشز وإن نشزت لا) ولو منه نشوز أيضا ولو بأكثر مما أعطاها على الأوجه فتح، وصحح الشمني كراهة الزيادة، وتعبير الملتقى لا بأس به يفيد أنها تنزيهية وبه يحصل التوفيق»
(قوله: ولو منه نشوز أيضا) لأن قوله تعالى - {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229]- يدل على الإباحة إذا كان النشوز من الجانبين بعبارة النص، وإذا كان من جانبها فقط بدلالته بالأولى (قوله: وبه يحصل التوفيق) أي بين ما رجحه في الفتح من نفي كراهة أخذ الأكثر وهو رواية الجامع الصغير، وبين ما رجحه الشمني من إثباتها وهو رواية الأصل، فيحمل الأول على نفي التحريمية والثاني على إثبات التنزيهية، وهذا التوفيق مصرح به في الفتح، فإنه ذكر أن المسألة مختلفة بين الصحابة وذكر النصوص من الجانبين ثم حقق ثم قال: وعلى هذا يظهر كون رواية الجامع أوجه، نعم يكون أخذ الزيادة خلاف الأولى، والمنع محمول على الأولى. اهـ. ومشى عليه في البحر أيضا."
(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج :3 ، ص :445،ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100709
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن