
میں نے اپنی بیٹی کی شادی نومبر 2024 میں کی تھی،لیکن جون 2025 تک اس کے شوہر نے ازدواجی تعلق قائم نہیں کیا،اس وجہ سے ہم نے اس کے سسرال والوں کو صورتِ حال سے آگاہ کیا،لیکن انہوں سے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا،بلکہ انہوں نے علیحدگی پر زور دیا،ویلفئیر تنظیم کی جانب سے طبی معائنہ جات کروائے گئے،اور رپورٹس کی روشنی میں آخرکار ہم نے علیحدگی پر رضامندی ظاہر کردی، کیوں کہ طبی طور پر اسے صحت کے مسائل لاحق ہیں۔
میری بیٹی کو شادی سے پہلے اپنے شوہر کی نااہلی کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا،شادی کے بعد شوہر کے بارے میں معلوم ہونے پر میری بیٹی نے اس کے ساتھ رہنے پر اپنی رضامندی ظاہر نہیں کی،میری بیٹی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے،جس کے باعث اس کی صحت خراب ہوگئی ہے،ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اس کی بیماری کی وجہ سے یہی مسائل ہیں،وہ پچھلے چھ ،سات ماہ سے ہمارے ساتھ اپنے والدین کے گھر رہ رہی ہے،اس کے شوہر نے اجازت دے کر اسے ہمارے گھر چھوڑا۔اور اب خلع پر دونوں کااتفاق ہوچکا ہے،انہوں نے جہیز کا بعض سامان بھی واپس کردیا ہے۔
اب دریافت طلب امور یہ ہیں کہ :
1: خلع کے بعد عدت کی مدت کتنی ہوتی ہے؟
2: کیا ہم گزشتہ سات ماہ کے نان ونفقہ کا کلیم کرسکتے ہیں؟
3:کیا عدت کے دنوں /مہینوں کے دوران نان ونفقہ کا کلیم کیا جاسکتاہے؟
4:میری بیٹی نے دو ماہ کی اپنی تنخواہ اسی ہزار (80000) ساس کو دی تھی ،دیتے ہوئے کہا تھاکہ رکھ لو کام آئیں گے،اوریہ دوماہ کی تنخواہ بطور گفٹ (ہبہ) دی تھی ،قرض کے طور پر نہیں دی تھی؟
5:کیا ہم میری بیٹی کا وہ سوناجو مہر کے علاوہ تھا اوراس کے شوہر اوراس کے خاندان کی طرف سے قبضہ سمیت تحفے میں دیا گیا تھاکاکلیم کرسکتے ہیں؟
وضاحت: شوہر نے باقاعدہ طور پر اب تک میری بیٹی کو خلع نہیں دی، تاہم خلع پر دونوں فریق باہمی طور پر رضامند ہو چکے ہیں۔
1. صورت مسئولہ میں خلع کی عدت وہی ہے جو طلاق کی عدت ہے یعنی عورت کو ماہواری آتی ہو اس کی عدت تین ماہواریاں ہے۔
2. گزشتہ سات مہینوں کا خرچہ شوہر پر لازم نہیں، عورت شوہر سے اس کا مطالبہ نہیں کرسکتی۔
3. اگر بیوی شوہر کے گھر عدت گزارے یا اگر شوہر کے گھر عدت گزارنا مشکل ہو تو شوہر کی اجازت سے کہیں اور عدت گزارے، تو عدت کا نفقہ شوہر پر لازم ہوگا،لیکن اگر شوہر کے گھر عدت نہ گزارے اور نہ ہی شوہر اسے میکے میں عدت گزارنے کا کہے بلکہ وہ اپنی مرضی سے میکے میں عدت گزارے تو اس کا نفقہ شوہر پر لازم نہیں ہوگا، باقی اگر شوہر خلع دیتے ہوئے یہ شرط عائد کردے کہ میں عدت کا نفقہ نہیں دوں گا، یعنی عدت کے نفقہ کے عوض خلع دینے پر راضی ہو تو نفقہ شوہر پر لازم نہیں ہوگا۔
4. اگر واقعتاً سائل کی بیٹی نے اپنی دو ماہ کی تنخواہ جو کہ اسی ہزار (80,000) روپے بنتی ہے، اپنی ساس کو بطورِ گفٹ (ہبہ) دی تھی اور وہ رقم قرض کے طور پر نہیں دی تھی، تو ایسی صورت میں شرعاً ساس اس رقم کی مکمل مالک بن چکی تھی۔ لہٰذا اب سائل کی بیٹی یا اس کے گھر والوں کو ان دو ماہ کی تنخواہ (اسی ہزار روپے) کی واپسی کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
" وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ۚ."(سورۃ البقرۃ: 228)
ترجمہ:’’ اور طلاق دی ہوئی عورتیں اپنے آپ کو (نکاح) سے روکے رکھیں تین حیض تک۔‘‘(از : بیان القرآن)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"وأصل المسألة أن النفقة لاتصير دينًا إلا بقضاء القاضي أو التراضي عندنا."
(کتاب النكاح، باب النفقة، ج:5، ص:184، ط: دارالمعرفة، بیروت)
تنقیح الحامدیہ میں ہے:
"سئل) في رجل فرض على نفسه برضاه لزوجته وابنه الصغير منها في كل يوم كذا لنفقتهما، ومضى لذلك عدة أشهر دفع منها بعضها وامتنع من دفع الباقي بلا وجه شرعي، فهل يلزمه الباقي؟
(الجواب): نعم؛ لأن النفقة لاتصير دينًا إلا بالقضاء أو الرضا، كما في التنوير (أقول:) هذا مسلم بالنظر إلى نفقة الزوجة فإنها لاتسقط بمضي المدة بعد فرضها، وأما بالنظر إلى نفقة الصغير فهو مبني على ما مر قبل صفحة عن الزيلعي من أنه كالزوجة وقد علمت ما فيه."
(كتاب النکاح، باب النفقة، ج:1، ص:74، ط: دار المعرفة)
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) تجب (لمطلقة الرجعي والبائن، والفرقة بلا معصية كخيار عتق، وبلوغ وتفريق بعدم كفاءة النفقة والسكنى والكسوة)
وفي المجتبى: نفقة العدة كنفقة النكاح. وفي الذخيرة: وتسقط بالنشوز وتعود بالعود، وأطلق فشمل الحامل وغيرها والبائن بثلاث أو أقل كما في الخانية."
(باب النفقة، مطلب في نفقة المطلقة، ج:3، ص:609، ط:دار الفكر)
المحیط البرہانی میں ہے:
"والمعنى في ذلك أن النفقة إنما تجب عوضاً عن الاحتباس في بيت الزوج، فإذا كان الفوات لمعنى من جهة الزوج أمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً، أما إذا كان الفوات بمعنى من جهة الزوجة لا يمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً وبدونه لا يمكن إيجاب النفقة وهو نظير ما قلنا في الغاصب. إذا غصب المستأجر من يد المستأجر لا يجب الأخذ على المستأجر بهذا إن فات التمكن من الانتفاع لا من جهة المستأجر كذا ههنا."
(کتاب النفقات، الفصل الأول في نفقة الزوجات، ج:3، ص:519، ط:دار الکتب العلمیة)
البحرالرائق میں ہے:
"وأما نفقة العدة فلم تدخل تحت العموم لأنها لم تكن واجبة قبل الخلع لتسقط به، وإنما تسقط بالتنصيص قال البزازي اختلعت بمهرها، ونفقة عدتها تصح."
(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:4، ص:97، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية."
(کتاب الھبة،الباب الثانی فیما یجوز من الھبة وما لا یجوز،ج:4،ص:378، ط: رشیدیه)
"(وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) فله الرجوع والفسخ."
(کتاب الھبة، ج:5، ص:688، ط:دارالفکر بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100552
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن