
میری بیوی مجھ سے طلاق لینا چاہتی ہے،جس کا میں پہلے یہاں سے فتوی لےچکاہوں۔اب سوال یہ ہے کہ1:کہ میری بیوی اگر مجھ سے خلع لیتی ہےیا میں اس کو طلاق دیتاہوں،تو میرا ایک بیٹا ہے،جس کی عمر دس سال ہے،وہ طلاق یا خلع کے بعد کس کے پاس رہےگا؟
2:میری جب شادی ہورہی تھی،اس وقت میری بیوی اپنے ساتھ کچھ سونا لائی تھی اور ایک پلاٹ اس کے والد نے اس کو دیاتھا،تو کیا خلع یا طلاق کی صورت میں وہ اس سونے اور پلاٹ کی حقدار ہوگی یا نہیں؟
1۔طلاق یا خلع کی صورت میں دس سالہ بیٹے کو سائل اپنے زیرتربیت رکھنے کا شرعاً حقدار ہوگا؛کیوں کہ بیٹے کی عمر سات سال مکمل ہونے تک ماں اسے اپنی پرورش میں رکھنے کی حقدار ہوتی ہے،اس کے بعد والد کا حق ہوتاہے،البتہ سائل اگر بیٹے کو اس کی والدہ کے پاس چھوڑنے پر تیار ہو،تو اس کا اسے حق ہوگا۔
بیٹا خواہ والد کے پاس رہے،یا والدہ کے پاس رہے،بہرصورت کسی ایک فریق کے لیے دوسرے فریق کو روکنے اور ملنے نہ دینے کا حق نہیں ہوگا۔
2:سائل کی بیوی اپنے جہیز میں جو کچھ لےکر آئی تھی،وہ سب اسی کی ملکیت ہے،لہذا جہیز میں آیا سونا اور پلاٹ روکنے کا سائل کو شرعاً حق نہیں ہوگا۔
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
"والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين."
(كتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، ج:1، ص:542، ط:دار الفكر)
وفیہ ایضاً:
"الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي."
(کتاب الطلاق، الباب السادس عشر فی الحضانة، ج: 1، ص: 543، ط: دار الفكر)
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:
"لكل من الحاضن والمحضون حق في الحضانة، فهي حق الحاضن بمعنى أنه لو امتنع عن الحضانة لا يجبر عليها، لأنها غير واجبة عليه، ولو أسقط حقه فيها سقط، وإذا أراد العود وكان أهلا لها عاد إليه حقه عند الجمهور، لأنه حق يتجدد بتجدد الزمان."
(حرف الحاء،حضانة،حق الحضانة، ج: 17، ص: 301، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت)
فتاوی شامی میں ہے:
"كل أحد يعلم الجهاز للمرأة إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها."
( کتاب النکاح، باب المهر، ج: 3، ص: 158، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101774
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن