
ہمارا سوال ادارے کی طرف سے ہے کہ ہم ایک سروس دینے والی کمپنی میں جس میں ہمارے پاس کوئی بھی شخص آ سکتا ہے، اس آنے والے شخص کی ڈیمانڈ ہم سے یہ ہے کہ ہم ان کے نام پر ایک کتاب لکھ کر شائع کریں، بعض اوقات وہ کچھ ہدایت یا مواد فراہم کرتے ہیں اور بعض اوقات یہ بھی نہیں دیتے ،ہمارا کام ان کی طرف سے کتاب لکھ کر شائع کروانا ہے، اس کے اخراجات اٹھانا ہمارے ذمے ہیں یا بعض اوقات اس کے اخراجات کو ادا کرنے پر وہ شخص خود بھی تیار ہو جاتا ہے،اس میں ہمارا نام نہیں آتا کہ یہ کتاب ہم نے لکھی ہے، کیا ہمارا یہ کام کر کے اس کے بدلے پیسے لینایا اجرت لینا جائز ہے ؟مزید یہ کہ اس کے( اگر جائز نہیں )کیا صورت ہو سکتی ہے جس سے جائز ہو جائے؟
واضح رہے کہ کسی شخص کی جانب سے کوئی تحریر یا کتاب اس کی علمی اور تعلیمی صلاحیتوں کی سند اور مظہر ہوتا ہے، کتاب مصنف کی اپنی قابلیت کا ظہور ہوتی ہے، کسی اور کی لکھی ہوئی محنت اور تحریر کو اپنی طرف منسوب کرنا اور اسے اپنے نام سے شائع کرنا شرعاً اور اخلاقاً جھوٹ دھوکہ دہی اور ناجائز عمل ہے، نیز ایسی صورت میں اس سے حصل ہونے والی کمائی بھی کراہت سےخالی نہیں ہے، کیونکہ جائز مضمون پر مشتمل تحریر اور کتاب لکھنا اگرچہ گناہ نہیں بلکہ ایک مباح عمل ہے، جس کی اجرت حلال ہے، لیکن دھوکہ دہی اور جھوٹ کے کام میں جان بوجھ کر معاونت کی وجہ سے اس میں کراہت آجائے گی ،لہذا اس سے احتراز ضروری ہے، البتہ اگر کتاب اور تحریر کے لکھنے میں جزوی طور پر معاونت لی جائے یا تمام یا کم از کم اکثرمواد کی فراہمی مصنف کی جانب سے ہو اور اس مواد کی ترتیب میں ادارے کی جانب سے معاونت شامل ہو اور پھر اسے مرتب کرنے کے بعد اس شخص کے سامنے رکھا جائے پھر وہ تمام مواد و مضامین اور ترتیب سے اتفاق کرے، تو پھر اس کے نام سے وہ کتاب شائع کرنا جائز ہوگا، اور اس پر حاصل ہونے والی آمدنی بھی بلا کرا ہت حلال ہوگی۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا."
(کتاب الاجارۃ،فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة،ج:4،ص:189،ط:دار الکتب العلمیۃ)
المو سوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ میں ہے:
"اتفق الفقهاء على أن الغش حرام سواء أكان بالقول أم بالفعل، وسواء أكان بكتمان العيب في المعقود عليه أو الثمن أم بالكذب والخديعة، وسواء أكان في المعاملات أم في غيرها من المشورة والنصيحة."
(غش،الحكم التكليفي،ج:31،ص:219،ط:مطابع دار الصفوة مصر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144610101831
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن