بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خروج ریح کے بعد تری محسوس ہونے کی صورت میں وضو کا حکم


سوال

میں گیس کا مریض ہوں میری ہوا خارج ہوتی ہےتوبسا اوقات اس مقام پر کچھ تری محسوس ہوتی ہے یا انڈروئیر میں ایک خفیف سا نشان نظر آتا ہے، اور نشان سے بو بھی آتی ہے اور نشان بقدر سکہ ایک درہم سے کم کم ہوتا ہے،  تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیااس کو دھونا چاہیے؟میں باشرع ہوں اور اپنے آفس میں نماز بھی پڑھاتا ہوں تو میرے لیے کیا حکم ہے؟کیا میں ہر نماز کے وضو سے پہلے اس نشان کو دیکھ کر دھو لیا کروں؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں ہوا خارج ہونے کے بعد جب سائل کو یقینی طور پر معلوم ہو جائے کہ ہوا کے ساتھ کوئی نجس رطوبت بھی خارج ہوئی ہےیا انڈروئیر میں نجس رطوبت کا نشان موجود ہواور اس کی مقدار  ایک درہم سے زائدہو،  تو وضو کرنے سےپہلے استنجاء کرنا اور اس نشان کو دھونا ضروری ہوگا۔

تاہم چونکہ سائل امامت بھی کراتا ہے، اس لیےجب  کبھی نجس رطوبت کے خارج ہونے کا یقینی علم ہو جائے یا اس کا واضح نشان موجود ہو، اور اس کی مقدار  ایک درہم سے کم ہو،تو اسے دھو کر نماز پڑھائے، نشان دھوئے بغیرنماز پڑھنا اور امامت کرانا مکروہ ہوگا۔

المحیط البرہانی میں ہے: 

" الغائط يوجب الوضوء قل أو كثر، وكذلك البول، وكذلك الريح الخارج من الدبر."

(كتاب الطهارات، ج:1، ص:49، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں  ہے:

"(و) خروج غير نجس مثل (ريح أو دودة ۔۔۔

"(قوله: مثل ريح) فإنها تنقض لأنها منبعثة عن محل النجاسة لا لأن عينها نجسة؛ لأن الصحيح أن عينهاطاهرة، حتى لو لبس سراويل مبتلة أو ابتل من أليتيه الموضع الذي تمر به الريح فخرج الريح لا يتنجس، وهو قول العامة. وما نقل عن الحلواني من أنه كان لا يصلى بسراويله فورع منه بحر"

(‌‌كتاب الطهارة، سنن الوضوء، ج:1، ص:135، ط:سعید)

وفیه ایضاً:

"(وعفا) الشارع (عن قدر درهم) وإن كره تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل ۔۔۔ (وهو مثقال) عشرون قيراطا (في) نجس (كثيف) له جرم (وعرض مقعر الكف) وهو داخل مفاصل أصابع اليد (في رقيق من مغلظة كعذرة) آدمي، وكذا كل ما خرج منه موجبا لوضوء أو غسل مغلظ"

(‌‌كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج:1، ص:316 تا 318، ط:سعید)

وفیه ایضاً:

"إزالة نجس عن سبيل فلا يسن من ريح وحصاة ونوم وفصد (وهو سنة) مؤكدة مطلقا، وما قيل من افتراضه لنحو حيض ومجاوزة مخرج فتسامح (وأركانه) أربعة شخص (مستنج، و) شيء (مستنجى به) كماء وحجر (و) نجس (خارج) من أحد السبيلين، وكذا لو أصابه من خارج وإن قام من موضعه

(قوله: فلا يسن من ريح) لأن عينها طاهرة، وإنما نقضت لانبعاثها عن موضع النجاسة اهـ ح؛ ولأن بخروج الريح لا يكون على السبيل شيء فلا يسن منه بل هو بدعة كما في المجتبى بحر." 

(‌‌كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج:1، ص:335، ط:سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(وأما) بيان ما يستنجى منه فالاستنجاء مسنون من كل نجس يخرج من السبيلين له عين مرئية كالغائط، والبول، والمني، والودي، والمذي، والدم؛ لأن الاستنجاء للتطهير بتقليل النجاسة، وإذا كان النجس الخارج من السبيلين عينا مرئية تقع الحاجة ‌إلى ‌التطهير بالتقليل، ولا استنجاء في الريح؛ لأنها ليست بعين مرئية."

(كتاب الطهارة، ج:1، ص:19، ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707102335

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں