بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1447ھ 08 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے


سوال

خون نکلنے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟خون کتنا ہو تو وضوٹوٹ جاتا ہے ؛ کیونکہ  اکثر ایسا ہوتا ہے کہ  معلوم نہیں ہوتاکہ خون نکلا ہےیا نہیں ۔

جواب

خون اتنی مقدارمیں نکلے کہ نکل کر بہہ جائے تواس سے وضوٹوٹ جائے گا۔اسی طرح جسم کے کسی حصہ سے خون نکلااور اسے پونچھ دیاگیااوراس پونچھے گئے خون کی مقداراتنی تھی کہ چھوڑدینے کی صورت میں وہ اپنی جگہ سے بہہ جاتاتوبھی وضوٹوٹ جائے گا،اور اگرپونچھے  گئے خون کی مقداراتنی کم تھی کہ اگرنہ پونچھاجاتاتوبھی نہ بہتاتووضونہیں ٹوٹے گا،اور خون اگر مسوڑھوں سے نکلے تو پھر دیکھا جائے گا اگر مسوڑھوں سے خون اتنا نکلے کہ تھوک کے برابر ہو یا تھوک پر غالب ہوجائے تو وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں،خون غالب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تھوک کا رنگ سرخی مائل ہوجائے۔اور اگر کسی کے مسوڑھوں سے مسلسل خون آتا رہتا ہے اور اتنی دیر بھی نہیں رکتا جس میں   فرض نماز ادا کی جاسکے  تو ایسا شخص  شرعی معذور ہے، اوریہ اسی حالت میں وضو کرکے نماز ادا کر سکتا ہے، چاہے نماز ادا کرنے کے دوران بھی خون نکلتا ہو اور ایسی صورت میں نماز اور وضو فاسد نہیں ہوگا ۔

فتاوی شامی میں ہے: 

"(وينقضه) خروج منه كل خارج (نجس) بالفتح ويكسر (منه) أي من المتوضئ الحي معتادا أو لا، من السبيلين أو لا (إلى ما يطهر) بالبناء للمفعول: أي يلحقه حكم التطهير.ثم المراد بالخروج من السبيلين مجرد الظهور وفي غيرهما عين السيلان ولو بالقوة، لما قالوا: لو مسح الدم كلما خرج ولو تركه لسال نقض وإلا لا، كما لو سال في باطن عين أو جرح أو ذكر ولم يخرج."

(کتاب الطهارۃ،ج: 1،ص: 134، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے :

"(و) ينقضه (دم) مائع من جوف أو فم (غلب على بزاق) حكما للغالب (أو ساواه) احتياطا (لا) ينقضه (المغلوب بالبزاق) والقيح كالدم والاختلاط بالمخاط كالبزاق(قوله: غلب على بزاق) بالزاي والسين والصاد كما في شرح المنية، وعلامة كون الدم غالبا أو مساويا أن يكون البزاق أحمر، وعلامة كونه مغلوبا أن يكون أصفر بحر ط".

(کتاب الطهارۃ،سنن الوضوء،ج:1،ص:139،سعید)

فقط اللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101957

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں