
اگر پلاسٹک سرجری کروانا اور دانتوں پر کام کروانا محض خوبصورتی کے لۓ جائز نہیں، تو پھر میک اپ کرنا کیسے جائز ہے۔ وہ بھی تو محض حسن کے لیے ہوتا ہے؟
محض خوبصورتی کے لیے سرجری کروانا یا دانتوں کے درمیان فاصلہ کروانا اس لیے جائز نہیں کہ یہ تغییرِ خلقِ اللہ (یعنی اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی خلقت میں تبدیلی) کے زمرے میں آتا ہے، جو شرعاً ناجائز ہے۔عام طور پر کریم وغیرہ کے ذریعے کیا جانے والا میک اپ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ فطری ساخت میں مستقل تبدیلی کا باعث نہیں بنتا، اس لیے وہ جائز ہے۔ البتہ ایسا میک اَپ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی فطری تخلیق میں حقیقی اور مستقل تغیر لازم آئے، مثلاً اپنے فطری اور خلقی بالوں کے ساتھ دوسرے انسانوں کے بال ملانا وغیرہ، تو ایسا میک اپ بھی شرعاً ناجائز ہے۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن عبد الله. قال:لعن الله الواشمات والمستوشمات، والنامصات والمتنمصات، والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله."
(کتاب اللباس والزینة، باب تحریم فعل الواصلة والمستوصلة إلخ، ج:2، ص:212، ط:رحمانیة)
ترجمہ:”سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے: جسم گودنے والی اور گدوانے والیوں پر اورچہرےکے بال صاف کرنے والی اور کروانے والیوں پر اورخوبصورتی کے لیے دانتوں کےدرمیان کشادگی کرنے والیوں پر (تاکہ کم سِن معلوم ہوں) اللہ کی خلقت کو بدلنے والیوں پر۔“
آپ کے مسائل اور ان کاحل میں ہے:
”عورتوں کے لئے کس قسم کا میک اَپ جائز ہے؟
سوال: ہماری خواتین اس بات پر بحث کرتی ہیں کہ انسان اپنی خوبصورتی کے لئے میک اَپ کرسکتا ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ مذہبِ اسلام کی رُو سے خواتین کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ بحیثیت مسلمان میک اَپ کریں جس میں سرخی، پاوٴڈر، نیل پالش شامل ہے؟ کیا اس حالت میں محفلِ وعظ میں شرکت کرنا، قرآن خوانی اور نماز وغیرہ پڑھنا صحیح ہے؟
جواب: عورت کے لئے ایسا میک اَپ کرنا جس سے اللہ تعالیٰ کی فطری تخلیق میں تغیر کرنے کی کوشش ہو، جائز نہیں۔ مثلاً: اپنے فطری اور خلقی بالوں کے ساتھ دُوسرے انسانوں کے بالوں کو ملانا، ہاں انسانوں کے علاوہ دُوسرے مصنوعی بالوں کو ملانا جائز ہے، اس کے علاوہ میک اَپ فطری تخلیق میں تغیر کرنے کے مترادف نہ ہو، وہ اس صورت میں جائز ہے جبکہ اس میک اَپ کے ساتھ عورت غیرمحرَم مردوں کے سامنے نہ جائے، چنانچہ اس قسم کے میک اَپ میں سرخی، پاوٴڈر شامل ہے۔ ہاں! البتہ ناخن پالش سے احتراز کیا جائے کیونکہ ناخن پالش دُور کئے بغیر نہ وضو ہوتا ہے اور نہ ہی غسل، ناخن پالش کو ہر وضو کے لئے ہٹانا کارِ مشکل ہے، اور جب ناخن پالش کو ہٹائے بغیر وضو یا غسل صحیح نہ ہوگا تو نماز بھی نہ ہوگی، اس لئے ناخن پالش کی لعنت سے احتراز لازم ہے۔“
(کتاب الطہارت، ناخن پالش کی بلا، ج:3، ص:153، ط: مکتبہ لدھیانوی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100591
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن