
کسی کو خون یا گردہ یا کوئی اور عضو دینے سے حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ دودھ کے ذریعے حرمتِ رضاعت کا ثبوت شریعتِ مطہرہ کے نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہے، فقہائے کرام نے واضح فرمایا ہے کہ رضاعت کا تعلق عورت کے دودھ سے ہے، جو بچے کی غذا، نشوونما اور گوشت و ہڈی کی افزائش کا سبب بنتا ہے، اسی بنیاد پر اس سے حرمت قائم ہوتی ہے، اس کے برخلاف خون نہ تو رضاعت کے معنی میں داخل ہے، نہ وہ بچے کی غذائی نشوونما کے اس سبب کو پورا کرتا ہے، جس پر حرمت کی حکمت مبنی ہے، بلکہ خون چڑھانا محض علاج و معالجہ کی ایک صورت ہے، جب کہ رضاعت کی مدت کے بعد تودودھ سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں کسی کو خون دینے یا جسم کا کوئی اور عضو دینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"باب الرضاع (هو) لغة بفتح وكسر: مص الثدي. وشرعا (مص من ثدي آدمية) ولو بكرا أو ميتة أو آيسة، وألحق بالمص الوجور والسعوط (في وقت مخصوص)."
(باب الرضاع، ج:3، ص:209، ط: سعید)
فتح القدیر میں ہے:
"(قوله ولأن الحرمة وإن كانت لشبهة البعضية) جواب سؤال هو أن الحرمة بالرضاع لاختلاط البعضية بسبب النشوء الكائن عنه وذلك لا يتحقق بأدنى شيء."أجاب بأن ذلك حكمة؛ لأنه خفي والأحكام لا تتعلق بها لخفائها بل الظاهر المنضبط وهو فعل الارتضاع، فلو قال: الظاهر لا بد من كونه مظنة للحكمة ومطلقه ليس مظنة النشوء فلا يتعلق التحريم به."
(كتاب الرضاع، ج:3، ص:441، ط: سعید)
فتاوی دارالعلوم زکریا میں ہے:
”خون دینے سے حرمت رضاعت کا حکم:
سوال: بہت سی مرتبہ علاج و معالجہ کے طور پر ایک شخص کا خون دوسرے آدمی کے جسم میں چڑھایا جاتا ہے، کیا ایسی صورت میں ایک دوسرے کے نسب اور حرمت پر کچھ فرق پڑے گا یا نہیں؟ جب کہ فقہاء دودھ کی وجہ سے حرمت اور ثبوت نسب کے قائل ہیں۔
الجواب : بصورت مسئولہ علاج و معالجہ کے طور پر خون چڑھانے سے حرمت ثابت نہ ہوگی ، اس لیے کہ دودھ کی وجہ سے حرمت کا پیدا ہو جانا خلاف قیاس نص سے ثابت ہے، اس لیے اس پر دوسری چیزوں کو قیاس نہیں کیا جاسکتا، نیز شیر خوار بچے کو دودھ دینا بطور غذا اور نشو و نما کے ہے نہ کہ بطور دوا علاج کے، جب کہ خون چڑھانا دوا و علاج کے طور پر ہے، اس وجہ سے مدت رضاعت یعنی دو سال گزرنے کے بعد حرمت ثابت نہیں ہوتی، اور مدت رضاعت کے بعد اگر دوا کے طور پر عورت کا دودھ استعمال کرے تب بھی حرمت پیدا نہیں ہوتی ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن أم سلمة أنه صلى الله عليه وسلم قال "لا يحرم من الرضاع إلا ما فتق الأمعاء في الشدي وكان قبل الفطام وقال الترمذي حديث حسن صحيح. وفي سنن أبي داؤد من حديث ابن مسعود يرفعه "لا يحرم من الرضاع إلا ما أنبت اللحم وأنشر العظم يروى بالراء المهملة أي أحياه ، ومنه قوله تعالى : ثم إذا شاء أنشره . (فتح القدير : ٤٤٥/٣ ، كتاب الرضاع، دار الفكر)."
(رضاعت کا بیان، ج:4، ص:407، ط:زمزم پبلیشرز)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101332
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن