بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خلع کے بعد عدت کے دوران نفقہ اور سکنی کا حکم


سوال

میری شادی کا یہ تیسرا سال ہے، پہلے دو سال صحیح گزرے، اب تیسرے سال میں مسائل شروع ہو گئے ہیں، جس کی تفصیل یہ ہے کہ میری بیوی نے دو ماہ کا حمل قصداً ضائع کیا،  میں اس کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا، ڈاکٹر نے دوائیں دیں اور کہا کہ اس کے ٹھیک ہونے میں تین چار ماہ لگیں گے اور جب دوبارہ ماہواری آئے گی تو کچھ تکلیف ہوگی، برداشت سے کام لینا ہو گا، چناں چہ جب میری بیوی کو ماہواری آئی تو اس نے کہا مجھے گولی دے دیں، میں نے کہا ابھی گولی استعمال نہ کریں، ایسا نہ ہو کوئی اور مسئلہ بن جائے، ڈاکٹر کے پاس چلے جائیں گے، اس نے اس بات پر ضد پکڑ لی اور والد کو فون کیا کہ یہ لوگ میرا علاج نہیں کر رہے ہیں، میں یہاں نہیں رہ سکتی، اس کے والد ہمارے گھر آئے اور لڑائی جھگڑا کر کے اپنی بیٹی کو لے گئے۔

ہم نے اس کے بعد ان سے کئی دفعہ معافی بھی مانگی، جرگے کیے، لیکن وہ اپنی بیٹی کو ہمارے گھر بھیجنے پر راضی نہیں ہوئے، اس لیے میں نے مجبوراً عدالت سے رجوع کیا، عدالت نے ان کو بھی بلایا، مجھ سے پوچھا آپ اپنی بیوی کو چھوڑنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا نہیں، میں اپنا گھر بسانا چاہتا ہوں، لیکن لڑکی نے کہا میں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، اس پر عدالت نے کہا ٹھیک ہے، آپ ان کا مہر واپس کر کے خلع لے لیں، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، پھر لڑکی کے وکیل نے کہا کہ خلع کے بعد عدت کا نان نفقہ بھی یہ لوگ دیں گے، چنانچہ عدالت نے مجھ سے کہا کہ آپ تین ماہ کے ایک لاکھ بیس ہزار روپے جمع کرادیں، ہم خلع کا فیصلہ کر لیتے ہیں، میں نے کہا میں چھ سات ماہ سے بے روز گار ہوں، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ 

میں خلع پر دل سے راضی  نہیں ہوں، لیکن اگر لڑکی میرے ساتھ رہنے کے لیے تیار نہیں ہوتی اور عدالت خلع کا فیصلہ کرتی ہے اور میں بھی بادل ناخواستہ اس پر راضی ہو جاتا ہوں، تو سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح خلع کے بعد عدت کا نفقہ میرے اوپر لازم ہو گا یا نہیں؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ عورت عدت کہاں گزارے گی؟

جواب

واضح رہے کہ عدت کا نفقہ بھی شوہر کے ذمہ ضروری ہے، چاہے عدتِ طلاق ہو یا عدتِ وفات، اسی طرح چاہے طلاق رجعی ہو یا بائن، بہر صورت شوہر کے ذمہ لازم ہے کہ بیوی کو عدت گزارنے کے لیے مناسب جگہ فراہم کرے، نیز نفقہ میں شوہر کی مالی حیثیت کے مطابق کھانے پینے، کپڑے اور رہائش کا اعتبار ہے۔  صورتِ مسئولہ میں اگر عدالت خلع کا فیصلہ کردے اور آپ اسے قبول کرلیں تو عدت کے دوران نفقہ کا حکم یہ ہے کہ اگر بیوی شوہر کے گھر عدت گزارے یا اگر شوہر کے گھر عدت گزارنا مشکل ہو تو شوہر کی اجازت سے کہیں اور عدت گزارے، تو عدت کا نفقہ شوہر پر لازم ہوگا،لیکن  اگر شوہر کے گھر عدت نہ گزارے اور نہ ہی شوہر اسے میکے میں عدت گزارنے کا کہے بلکہ وہ اپنی مرضی سے میکے میں عدت گزارے تو اس کا نفقہ شوہر پر لازم نہیں ہوگا، 

باقی اگر  شوہر خلع دیتے ہوئے یہ شرط عائد کردے کہ میں عدت کا نفقہ نہیں دوں گا، یعنی عدت کے نفقہ کے عوض خلع دینے پر راضی ہو تو  نفقہ شوہر پر لازم نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

 "(إلا نفقة العدة) وسكناها فلايسقطان (إلا إذا نص عليها) فتسقط النفقة لا السكنى."

(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:3، ص:453، ط: دار الفکر)

البحر الرائق ميں ہے:

"وأما ‌نفقة ‌العدة فلم تدخل تحت العموم لأنها لم تكن واجبة قبل ‌الخلع لتسقط به، وإنما تسقط بالتنصيص قال البزازي اختلعت بمهرها، ونفقة عدتها تصح."

(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:4، ص:97، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا تقع البراءة عن ‌نفقة ‌العدة في ‌الخلع والمبارأة والطلاق بمال إلا بالشرط في قولهم."

(كتاب الطلاق، الباب الثامن، الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به، ج:1، ص:489، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) تجب (لمطلقة الرجعي والبائن، والفرقة بلا معصية كخيار عتق، وبلوغ وتفريق بعدم كفاءة النفقة والسكنى والكسوة)

وفي المجتبى: نفقة العدة كنفقة النكاح. وفي الذخيرة: وتسقط بالنشوز وتعود بالعود، وأطلق فشمل الحامل وغيرها والبائن بثلاث أو أقل كما في الخانية."

(باب النفقة، مطلب في نفقة المطلقة، ج:3، ص:609، ط: دار الفكر)

المحیط البرہانی میں ہے:

"والمعنى في ذلك أن النفقة إنما تجب ‌عوضاً عن الاحتباس في بيت الزوج، فإذا كان الفوات لمعنى من جهة الزوج أمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً، أما إذا كان الفوات بمعنى من جهة الزوجة لا يمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً وبدونه لا يمكن إيجاب النفقة وهو نظير ما قلنا في الغاصب. إذا غصب المستأجر من يد المستأجر لا يجب الأخذ على المستأجر بهذا إن فات التمكن من الانتفاع لا من جهة المستأجر كذا ههنا."

(کتاب النفقات، ‌‌الفصل الأول في نفقة الزوجات، ج:3، ص:519، ط: دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144602101464

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں