بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خصالِ باطنیہ کا مرکز دل ہے یا دماغ؟


سوال

خصالِ باطنیہ کا مرکز دل ہے یا دماغ؟ سائنس کے مطابق تو سب کچھ دماغ  کے اختیار میں ہے جب  کہ آج کل دنیا میں ہر سال تقریباً 3500 دل بدلتے ہیں، اس کے باوجود  MRI کی مشین میں کسی کی کوئی خصلت باطنی نہیں بدلی،  اور جب کبھی کسی سے یادکرنے، سوچنے، فیصلہ کرنے اور تصور کرنے جیسے اعمال کروائے جاتے ہیں تو ہمیشہ حرکت اور سرگرمی دماغ میں دیکھی جاتی ہے ، تو مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ قرآن اور حدیث میں دل کے بارے میں جو آیا ہے تو دل کا تعلق ہم سے اور ہمارے جذبات اور خصال باطنیہ سے کس طرح سے ہے؟ جواب عنایت فرمائیں ۔

جواب

خصال باطنیہ حسنہ اور قبیحہ کا منبع دل ہے یا دماغ!  اس سلسلے میں ہمارے نزدیک وہی بات راجح ہے جو بے شمار آیات واحادیث سے ثابت ہے یعنی ان کا اصل منبع اور سر چشمہ دل ہے نہ کہ دماغ ،  ہاں دل اور دماغ کا آپس میں ربط اور تعلق ہے ۔
 ملحوظ رہے کہ قرآن پاک کا ہدف نہ ہی طبّی دقائق اور باریکیاں بیان کرنا ہے اور نہ سائنسی پیچیدگیوں کا حل تلاش کرنا ہے، بلکہ یہ اصلاحِ خلق  کے لیے اللہ تعالیٰ کا نازل فرمودہ کلام ہے جو اللہ نے بنی نوعِ انسان کی رشد و ہدایت اور صلاح وفلاح  کے لیے عام فہم اور سادہ اندا ز میں نازل فرمایا ہے۔قلب (بمعنی لطیفۂ ربانیہ، مدرکہ  ) کے ادنیٰ سرے تک بھی سائنس کی رسائی نہیں تو اس کی حقیقت کی معرفت بڑی دور کی بات ہے،نیز  سائنس کے نام پر پیش کی جانے والی ہر بات حتمی سچائی نہیں ہوتی، آۓدن سائنسی اصولوں کا بننا اور کچھ عرصےبعد  ان اصولوں کا غیر معتبر ہوجانا اس کی بیّن  دلیل ہے، اس لئے سائنس کے تمام نظریات کو حتمی حقیقت سمجھ کر وحی الٰہی کے ذریعے ملنے والی معلومات کو ان کی کسوٹی پر جانچنے کی روش کسی طرح  درست نہیں،ایک مسلمان کو اپنا اعتماد اوایقان قرآن وسنت کے بیانات پر ہی رکھنا چاہئے اور سائنس کے کسی موقف کو حرفِ آخر سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔
باقی  قرآن وحدیث میں جہاں قلب(دل) کو ذہانت اور غور و فکر کا منبع قرار دیا ہے وہاں قلب سے مراد جوہر نورانی اور لطیفۂ ربانی ہے، جس کا قلبِ جسمانی سے ویسا ہی تعلق ہے جیسے اعراض کا اجسام سے یا صفات کا موصوف سے تعلق ہوتا ہے ،پھر اس قلب (بمعنی جوہر نورانی) کو کبھی عقل سے بھی تعبیر کرتے ہیں،جب کہ  اس کے برعکس سائنس دانوں نےقلب (دل) کو اس کے ظاہری معنی پر محمول کرکے دل کو محض خون پمپ کرنے کا ایک آلہ  قرار دیا ہے۔ 

تفصیل کے لیے دیکھیں: اسلام اور عقلیت اور الانتباہات المفیدہ : از حضرت اقدس تھانوی رحمہ  اللہ تعالیٰ “علم وادراک کا سر چشمہ دل ہے یا دماغ”  حضرت تھانوی (رح) کی مذکورہ دونوں کتابوں کا مطالعہ  اس سلسلے میں  بہت مفید ہوگا۔

قرآنِ مجید میں باری تعالی کا ارشاد ہے:

"‌لَهُمْ ‌قُلُوبٌ ‌لا ‌يَفْقَهُونَ ‌بِها"(الاعراف:179)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن عامر قال: سمعت النعمان بن بشير يقول: «ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله ألا وهي القلب»."

(كتاب الإيمان، باب فضل من استبرأ لدينه، ج:1، ص:20، ط:دار طوق النجاة)

ترجمه:سنو جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے اگر وہ ٹھیک رہتا ہے تو پورا جسم ٹھیک رہتا ہے اور اگر وہ خراب ہوجاتا ہے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے،سنو وہ ٹکڑا "دل" ہے۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"وقوله عز وجل: إن في ذلك لذكرى أي لعبرة ‌لمن ‌كان ‌له ‌قلب أي لب يعي به وقال مجاهد: عقل أو ألقى السمع وهو شهيد أي استمع الكلام فوعاه وتعقله بعقله وتفهمه بلبه."

(سوره:ق، ج:7، ص:382، ط: دارالكتب العلمية)

تفسیر کبیر میں ہے:

"والقلب قد يجعل كناية عن العقل قال تعالى: إن في ذلك لذكرى لمن كان له قلب أو ألقى السمع وهو شهيد [ق: 37]."

(سورة البقرة، ج:5، ص:322، ط:دار إحياء التراث العربي)

وفیه ایضاً:

"أن القلب قد يجعل كناية عن الخاطر والتدبر كقوله تعالى: إن في ذلك لذكرى ‌لمن ‌كان ‌له ‌قلب."

(سورة الحج، ج:23، ص:233، ط:دار إحياء التراث العربي)

مختار الصحاح میں ہے:

"(‌القلب) الفؤاد. وقد يعبر به عن ‌العقل. قال الفراء في قوله تعالى: {لمن كان له قلب} [ق: 37] أي عقل. و (المنقلب) يكون مكانا ومصدرا كالمنصرف. و (قلب) القوم صرفهم وبابه ضرب. وقلبت النخلة نزعت قلبها. و (قلب) النخلة بفتح القاف وضمها وكسرها لبها."

(ق،ل،ب ،ص:258، ط:المكتبة العصرية)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144604101633

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں