بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خنزیر کے اجزاء پر مشتمل دوائی کا استعمال


سوال

میری والدہ ڈپریشن کی مریضہ ہے ،اب الحمد للہ  اس کا علاج مکمل ہوچکا ہے ،لیکن ایک گولی Centrum Tablet  کا استعمال نہیں کرتی تو مرض میں زیادتی ہوتی ہے،دل دھڑکتا ہے اور بہت زیادہ ڈرتی  رہتی ہے اور سوچیں بڑھ جاتی ہیں ،مذکورہ گولی میں خنزیر کے اجزاء شامل ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا بامر مجبوری اس گولی کا استعمال جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی حرام چیز کو بطورِ دوا استعمال کرنا بھی حرام ہے، الا یہ کہ مسلمان  ماہر دین دار طبیب یہ کہہ دے کہ   اس بیماری کا علاج کسی بھی حلال چیز سے ممکن نہیں ہے اور یہ غالب گمان ہو جائے کہ  شفا حرام چیز میں ہی منحصر ہے، اور کوئی متبادل موجود نہیں ہےتو مجبوراً بطورِ دوا و علاج بقدرِ ضرورت حرام اشیاء کے استعمال کی گنجائش ہوتی ہے ورنہ نہیں۔

لہذاصورتِ مسئولہ میں سائل کو چاہیے کہ والدہ کی مذکورہ بیماری کے لیے متبادل حلال ادویہ تلاش کرے ، کسی دیندار ماہر طبیب سے ڈپریشن کا علاج کروائے ، اور حتی الامکان اگر واقعۃً مذکورہ گولی میں خنزیر کے اجزاء شامل ہیں تو اس کے استعمال سے اجتناب کرے۔

اوراگر واقعۃً مذکورہ بیماری کے لیےکوئی متبادل حلال دوا موجود  نہیں ہےاور نہ تلاش کرنے کے باوجوداس سے متعلق کوئی حلال اجزاء والی دوائی  مل سکی ہے  تو خنزیر کے اجزاء پر مشتمل دوائی کوبطورِ علاج  استعمال کرنے کی گنجائش ہوگی۔اور اگراس بیماری سے متعلق کوئی متبادل حلال دوائی مل جائے تو پھر اس دوا کا استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"اختلف في التداوي بالمحرم، وظاهر المذهب المنع كما في رضاع البحر، لكن نقل المصنف ثمة وهنا عن الحاوي: وقيل: يرخص إذا علم فيه الشفاء ولم يعلم دواء آخر كما رخص الخمر للعطشان، وعليه الفتوى.

مطلب في التداوي بالمحرم (قوله اختلف في التداوي بالمحرم) ففي النهاية عن الذخيرة يجوز إن علم فيه شفاء ولم يعلم دواء آخر. وفي الخانية في معنى قوله عليه الصلاة والسلام «إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم» كما رواه البخاري أن ما فيه شفاء لا بأس به كما يحل الخمر للعطشان في الضرورة، وكذا اختاره صاحب الهداية في التجنيس فقال: لو رعف فكتب الفاتحة بالدم على جبهته وأنفه جاز للاستشفاء، وبالبول أيضا إن علم فيه شفاء لا بأس به، لكن لم ينقل وهذا؛ لأن الحرمة ساقطة عند الاستشفاء كحل الخمر والميتة للعطشان والجائع. اهـ من البحر. وأفاد سيدي عبد الغني أنه لا يظهر الاختلاف في كلامهم لاتفاقهم على الجواز للضرورة، واشتراط صاحب النهاية العلم لا ينافيه اشتراط من بعده الشفاء ولذا قال والدي في شرح الدرر: إن قوله لا للتداوي محمول على المظنون وإلا فجوازه باليقيني اتفاق كما صرح به في المصفى. اهـ.

أقول: وهو ظاهر موافق لما مر في الاستدلال، لقول الإمام: لكن قد علمت أن قول الأطباء لا يحصل به العلم. والظاهر أن التجربة يحصل بها غلبة الظن دون اليقين إلا أن يريدوا بالعلم غلبة الظن وهو شائع في كلامهم تأمل".

(کتاب الطھارۃ،باب المیاہ،ج:1،ص:210،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100232

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں