بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خنزیر کی کھال کے بنے جیکٹ اور اس پر لگے لوہے کے بٹن بیچنے کا حکم


سوال

ہم پرانے جیکٹس جو ہوتے ہیں، امپورٹ یو ایس اے سے یا جرمن سے تو اس کا کام کرتے ہیں، گودام میں تو اس میں کبھی کبھار خنزیر کا جیکٹ آتا ہے ،جس کے ہم جیکٹ تو نہیں بیچتے، لیکن اس میں لگے ہوئے جو لوہے کے بٹن اور لوہے کا زپ ہوتا ہے، کیا ہم وہ بٹن اور زپ اس میں سے کاٹ کے بیچ سکتے ہیں اور جیکٹ کو پھینک  دیتے ہیں جو کہ پھر بعد میں کچرے میں بکتا ہے یعنی سستے ریٹ پہ 12 روپے کلو یا 13 روپے کلو میں کچرے میں اس کا کپڑا جیکٹ جو ہوتا ہے لیدر وہ بکتا ہے تو ہم یہ کر سکتے ہیں یا پورا جیکٹ بٹن زپ سمیت ہی کاٹ کے پھینکنا پڑے گا ؟

جواب

واضح رہے کہ خنزیر اپنے تمام اجزاء کے ساتھ حرام اور نجس العین ہے،اس کے کسی بھی جزء سے کسی بھی قسم کا  فائدہ اٹھانا شرعاً جائز نہیں ہے، لہذا صورت ِ مسئولہ میں  خنزیر کی کھال کے بنے ہوئے جیکٹ پھینک کر اس کو کچرے کی مد میں سستے  داموں بیچنا بھی شرعاً جائز نہیں ہے اس سے اجتناب کرنا چاہیے  ،البتہ جیکٹ پر لگے  لوہے کی زپ اور بٹن کو اس میں سے کاٹ کر بیچنا شرعاً جائز ہے ،اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس کی آمدنی بھی حلال ہوگی۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

"إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ". (البقرة : 173)

ترجمہ : "اللہ نے تو تم پر صرف حرام کیا ہے مردار کو اور خون کو ( جو بہتا ہو ) اور خنزیر کے گوشت کو (اس طرح کے سب اجزاء کو بھی ) اور ایسے جانور کو جو بقصد تقرب) غیر اللہ کیلئے نامزد کر دیا ہو۔" (ازبیان القرآن)

دوسری جگہ فرمایا:

{حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ }[المائدة:3]

ترجمہ : "تم پر حرام کیے گئے ہیں مردار  اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جو جانور کہ غیر اللہ کے نامزد کردیا گیا ہو ۔"

فتاوی شامی میں ہے :

"(وبعده) أي الدبغ (يباع) إلا ‌جلد ‌إنسان وخنزير وحية  

(قوله إلا ‌جلد ‌إنسان إلخ) فلا يباع وإن دبغ لكرامته، وفي الباقي لإهانته ولعدم عمل الدباغة فيه كما مر في محله."

(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:5، ص:73، سعيد)

المحیط البرہانی میں ہے :

"ولا يجوز بيع ‌شعر ‌الخنزير؛ لأن الخنزير عينه نجس بجميع أجزائه منع الشرع عن الانتفاع به إهانة لعينه واستقباحاً لذاته، وفي البيع إعزاز له إلا أن رخص للخراز الانتفاع به من حيث الخرز؛ لأجل الضرورة مستثناة عن قواعد الشرع، وعن أبي يوسف أنه كره الانتفاع به للخرازين؛ لأنه نجس ولا ضرورة في الانتفاع به؛ لأن الخرز يحصل بغيره، وعن بعض السلف أنه لا يلبس مكعباً ولا خفاً أخرز من ‌شعر ‌الخنزير."

(کتاب البیع، ج:6، ص:350، ط:دار الکتب العلمیة)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144706100105

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں