بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1442ھ 29 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

کھیرا جانور کی قربانی کا حکم


سوال

کھیرا  جانور  کی  قربانی کا کیا حکم ہے،  جس کے دو دانت نہیں ہوں؟

جواب

شریعتِ مطہرہ میں قربانی کے جانور  کی قربانی درست ہونے کے لیے ان جانوروں کی کم سے کم عمر مقرر ہے، یعنی بکرا ، بکری  وغیرہ  کی عمر ایک  سال، گائے ، بھینس وغیرہ کی دو سال، اور اونٹ ، اونٹنی کی عمر پانچ سال پوری  ہونا ضروری ہے، دنبہ اور بھیڑ وغیرہ اگر چھ  ماہ  کا ہوجائے، لیکن وہ صحت اور فربہ ہونے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی بھی درست ہوگی۔ 

اور قربانی کے جانور میں اصل عمر ہے، دانت عمر پوری ہونے کی علامت ہیں، لہٰذا اگر جانور کی عمر مکمل ہو تو اگرچہ دانت نہ آئے ہوں اس کی قربانی جائز ہے،  البتہ دانت آنے سے پہلے عمر مکمل ہونے کے حوالہ سے ہر شخص یا بیوپاری کی بات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ 

جانور اگر گھر کا پلا ہوا ہے اور عمر پوری ہے یا بیچنے والا ایسا دیانت دار، سچا اور تعلق والا ہے کہ اس کی بات پر یقین حاصل ہو تو قربانی جائز ہے، اگرچہ دانت پورے نہ ہوں۔ عام شخص یا بیوپاری کی بات پر اعتماد نہ کیا جائے جب تک کہ مطلوبہ دانت نہ آجائیں؛ اس لیے کہ عمومًا  عمر مکمل ہونے سے پہلے مطلوبہ دانت نہیں آتے۔

لہٰذا اگر یقینی طور پر  کسی جانور کی قربانی کی عمر مکمل ہے تو اس کی قربانی درست ہے،  اور اگر مذکورہ جانور  واقعتاً کھیرا ہے یعنی دو سال سے کم عمر کا ہے تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"(وأما سنه) فلايجوز شيء مما ذكرنا من الإبل والبقر والغنم عن الأضحية إلا الثني من كل جنس وإلا الجذع من الضأن خاصة إذا كان عظيما، وأما معاني هذه الأسماء فقد ذكر القدوري أن الفقهاء قالوا: الجذع من الغنم ابن ستة أشهر والثني ابن سنة والجذع من البقر ابن سنة والثني منه ابن سنتين والجذع من الإبل ابن أربع سنين والثني ابن خمس، وتقدير هذه الأسنان بما قلنا يمنع النقصان، ولايمنع الزيادة، حتى لو ضحى بأقل من ذلك شيئا لا يجوز، ولو ضحى بأكثر من ذلك شيئًا يجوز ويكون أفضل، ولايجوز في الأضحية حمل ولا جدي ولا عجول ولا فصيل".

(كتاب الأضحية، الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، ج:5، ص:297، ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200762

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں