بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کھیس (گائے یا بھینس کے بچے کی پیدائش کے بعد حاصل ہونے والا پیلا دودھ ) کا حکم


سوال

کھیس(وہ  گاڑھا دودھ جو گائے یا بھینس وغیرہ کے بچہ پیدا ہونے  کے بعد ان سے دوہا جاتا ہے )کے کھانے کا کیاحکم ہے ؟ بعض علمائے کرام اس کے کھانے کو ناجائز کہتے ہیں،ان کی دلیل یہ ہے کہ اس میں خون کی آمیزش ہوتی ہے، اسی طرح وہ بہشتی زیور کا حوالہ  بھی  دیتے ہیں جب کہ بندہ کو تلاش بسیار کے باوجود بہشتی زیور میں اس کے بارے میں کچھ نہیں ملا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا کھیس میں خون کی آمیزش ہوتی ہے؟جس کی وجہ سے اس کے کھانے  کو نا جائز  کہا جائے ؟نیزبہشتی زیور  میں یہ مسئلہ اگر  مل جائے  تو اس پر بھی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  گائے یا بھینس کے بچے کی پیدائش کے بعد جو دودھ نکالا  جاتا ہے ، جسے کھیس کہتے ہیں ، اس کا استعمال کرنا جائز ہے۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ اس میں خون کی آمیزش ہوتی ہے ، لہذا اس کا استعمال جائز نہیں ، یہ بات درست نہیں ہے۔

بہشتی زیور  میں اس  حوالے سے  ہمیں  صراحت نہیں ملی۔

سنن بیہقی الکبریٰ میں ہے:

"عن أبي إسحاق قال: سمعت قرظة يحدث، عن كثير بن شهاب قال: سألت عمر بن الخطاب رضي الله عنه عن الجبن فقال: إن الجبن من اللبن واللبأ، فكلوا واذكروا اسم الله عليه، ولا تغرنكم أعداء الله."

ترجمہ:ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے قرظہ کو بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کثیر بن شہاب سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے پنیر (جبن) کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا بے شک پنیر دودھ اور لبأ (ابتدائی گاڑھا دودھ) سے بنتا ہے، پس اسے کھاؤ اور اس پر اللہ کا نام لو، اور تمہیں اللہ کے دشمن دھوکے میں نہ ڈالیں۔

(باب أكل الجبن      ج:19، ص:593 ،ط:مركز هجر للبحوث والدراسات العربية والإسلامية)

لسان العرب میں ہے:

"اللبأ. أبو حاتم: ألبأت الشاة ولدها أي قامت حتى ترضع لبأها، وقد التبأناها أي احتلبنا لبأها، واستلبأها ولدها أي شرب لبأها. : وألبأه بريقهأي صب ريقه في فيه كما يصب ‌اللبأ في فم الصبي، وهو أول ما يحلب عند الولادة. ولبأ القوم يلبؤهم لبأ إذا صنع لهم ‌اللبأ. ولبأ"

(فصل فى اللام ج:1، ص:150،ط:دار صادر بيروت)

ردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے :

"لبن المأكول حلال."

(كتاب الاشربة، ج: 6، ص: 456، ط: سعيد)

مجمع الانهرمیں ہے:

"واعلم  أن الأصل في الأشياء كلها سوى الفروج الإباحة قال الله تعالى {هو الذي خلق لكم ما في الأرض جميعا} [البقرة: 29] وقال {كلوا مما في الأرض حلالا طيبا} [البقرة: 168] وإنما تثبت الحرمة بعارض نص مطلق أو خبر مروي فما لم يوجد شيء من الدلائل المحرمة فهي على الإباحة."

(كتاب الاشربة ج: 4، ص: 244، ط: دار الکتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100346

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں