بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خواتین کے لیے آرٹیفیشل زیورات پہننے کا حکم کیا غرارہ، شرارہ اور لہنگا شرعی لباس میں شمار ہوتے ہیں؟ کیا عورت پر بے پردہ عورتوں سے پردہ کرنا لازم ہے؟


سوال

1۔ خواتین جو سونے اور چاندی کے علاوہ آرٹیفیشل و عام زیورات بھی پہنتی ہیں، تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا ان کے پہنے ہونے کی حالت میں وضو ہوجاتا ہے یا نہیں؟

2۔ آج کل خواتین جو لباس پہنتی ہیں، ان میں کبھی اس طرح کے پائنچے ہوتے ہیں جو زیادہ کھلے ہوتے ہیں۔ اگر اس میں بے پردگی نہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ تشبہ بالغیر میں شامل ہوتا ہے؟ غرارہ، شرارہ، لہنگاکیا یہ شرعی لباس ہیں؟

3۔ کیا بے پردہ عورتوں، فاسق و فاجر عورتوں سے پردہ کرنا عورتوں پر لازم ہے؟ اور کیا ایسی بے پردہ، بے حیا، فاسق و فاجر عورتوں کو سلام کیا جا سکتا ہے؟

جواب

1۔خواتین  کےلیےہردھات کا زیور ( لوہا، اسٹیل، تانبا، پلاسٹک، کانچ  وارٹیفیشل )استعمال کرنا جائز ہے،البتہ انگوٹھی  سونے اور چاندی کے علاوہ دھات کی پہننے کی اجازت نہیں ، کیوں کہ احادیثِ مبارکہ میں انگوٹھی کےحوالہ سے سونے اور چاندی کی صراحت مذکورہ ہے۔اور تانبے  کی انگوٹھی پہننے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شدید نکیر کرتے ہوئے فرمایا: کیا ہوا کہ تم میں سے بتوں کی بو آرہی ہے!  اور خالص لوہے کی انگوٹھی دیکھ کر ارشاد فرمایا:مجھے کیا ہواکہ تم پر جہنمیوں کا زیور دیکھ رہاہوں!سونے وچاندی کے علاوہ زیورات پہنے ہونے کی صورت میں بھی وضو ہوجاتاہے،البتہ انگوٹھی کے پیچے اگر  پانی  نہ پہنچتاہو،اسے ہلانا ضروری ہوگا،انگوٹھی خواہ سونے یا چاندی ہی کیو ں نہ پہنی ہو۔

2۔شریعتِ مطہرہ نےلباس کے معاملہ میں مرد وخواتین کو کسی خاص وضع قطع کا پابند نہیں کیا، البتہ کچھ حدود وقیود رکھی ہیں جن سے تجاوز کی اجازت نہیں، ان حدود میں رہتے ہوئے کسی بھی وضع کو اختیار کرنے کی اجازت ہے۔حدودقیود درج ذیل ہیں:

1۔لباس اتنا چھوٹا، باریک یا چست نہ ہو کہ جسم کے جن اعضاء کا چھپانا واجب ہے وہ ظاہرہوں یا ان کی ساخت ظاہر ہو۔

2۔لباس میں عورت مرد کی، یا مرد عورت کی مشابہت اختیار نہ کرے۔

3۔کفار وفساق کی نقالی اور مشابہت نہ ہو۔

لہذا اگر عورت کھلے پائنچے والےکپڑےپہننا،یاغرارہ ،شرارہ یا لہنگا پہننا جائز ہے،اور یہ تشبہ بالغیر میں داخل نہیں ۔

3۔ وہ عورت جس سے یہ اندیشہ ہو کہ وہ پردہ دار عورت کے محاسن اجنبی مردوں کے سامنے بیان کرے گی، ایسی عورت کے سامنے بے پردہ ہونے سے اجتناب بہتر ہے؛ تاکہ فتنہ کا باعث نہ ہو۔

وہ عورت جس سے یہ اندیشہ نہ ہو  یا کوئی عورت جو صرف پردہ نہ کرتی ہو اس سے پردہ کرنے کا حکم نہیں ہے اور نہ ہی ان کو سلام کرنا منع ہے۔

فتاوٰی ہندیہ میں ہے:

"وفي الخجندي التختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء جميعا."

(كتاب الكراهية، الباب العاشر في استعمال الذهب والفضة، 335/5، ط: رشيدية)

وفیه ایضًا:

"ولا بأس للنساء بتعليق الخرز في شعورهن من صفر أو نحاس أو شبة أو حديد ونحوها للزينة والسوار منها."

(كتاب الكراهية، االباب العشرون في الزينة واتخاذ الخادم للخدمة، 359/5، ط: رشيدية)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"أجمع الفقهاء على جواز اتخاذ المرأة أنواع حلي الذهب والفضة جميعا كالطوق، والعقد، والخاتم، والسوار، والخلخال، والتعاويذ، والدملج، والقلائد، والمخانق، وكل ما يتخذ في العنق، وكل ما يعتدن لبسه."

(حرف الحاء، حلي، حلية الذهب والفضة للنساء، 111/18، ط: دارالسلاسل)

وفیه ایضًا:

"واتفق الفقهاء على كراهة خاتم الحديد والصفر والشبه (وهو ضرب من النحاس) والقصدير للرجل والمرأة."

(حرف الحاء، حلي، الحلي من غيرالذهب والفضة، 113/18، ط: دارالسلاسل)

المحیط البرہانی میں ہے:

"وسئل نجم الدين النسفي رحمه الله عن امرأة تغتسل من الجنابة، هل تتكلف لإيصال الماء إلى ثقب القرط؟ قال: إن كان القرط فيه، وتعلم أنه لايصل الماء إليه من غير تحريك فلا بد من التحريك، كما في الخاتم، وإن لم يكن القرط فيه، إن كان لايصل الماء إليه لاتكلف، وكذلك إن انضم ذلك بعد نزع القرط وصار بحيث لايدخل القرط فيه إلا بتكلف لاتتكلف أيضاً، وإن كان بحيث لو أمرَّت الماء عليه دخله، ولو عدلت لم يدخله أمرت الماء عليه حتى يدخله، ولاتتكلف إدخال شيء فيه سوى الماء من خشب أو نحوه لإيصال الماء إليه".

(کتاب الطہارۃ،ج:1،ص:69،ط:دار إحیاء التراث العربي)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"اتفق الفقهاء على أنه يجب على المرأة أن تلبس من الملابس ما يغطي جميع ‌عورتها."

(‌‌لباس المرأة،‌‌الحكم التكليفي، ج: 35، ص: 192، ط:دارالسلاسل الكويت)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا ينبغي للمرأة الصالحة أن تنظر إليها المرأة الفاجرة؛ لأنها تصفها عند الرجال فلا تضع جلبابها، ولا خمارها عندها، ولا يحل أيضا لامرأة مؤمنة أن تكشف عورتها عند أمة مشركة أو كتابية إلا أن تكون أمة لها، كذا في السراج الوهاج."

(كتاب الكراهية، الباب الثامن فيما يحل للرجل النظر إليه وما لا يحل له، ج: 5، ص: 327، ط: دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100857

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں