بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خواتین کے ملبوسات شرٹس، پینٹس وغیرہ بنانے والی فیکٹری کی آمدنی کا شرعی حکم


سوال

ایک ساتھی کی فیکٹری میں عورتوں کے کپڑے تیار ہوتے ہیں اور ان کپڑوں کو یورپین ممالک  میں فروخت کیا جاتا ہے۔

SHIRT MODELS
قمیص

OUTERWEAR MODELS
وہ لباس جو عام کپڑوں کے اوپر پہنا جاتا ہے، جیسے جیکٹ یا سویٹر۔

BLOUSE MODELS
خواتین کا اوپری لباس، عام طور پر شلوار، ساڑھی یا اسکرٹ کے ساتھ پہنا جاتا ہے۔

PANTS MODELS
پینٹس

JACKET MODELS
جیکٹ

KNITWEAR MODELS
وہ لباس یا کپڑا جو بُنائی کے طریقے سے تیار کیا جاتا ہے، یعنی دھاگے کو ایک دوسرے میں گھما کر بنایا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ لباس گرمی کے لیے پہنے جاتے ہیں، مثلاً سویٹر، ٹوپی، اسکارف۔

T-SHIRT MODELS
یہ وہ قمیص ہے جو عام طور پر آسان، آرام دہ اور روزمرہ پہننے کے لیے استعمال ہوتی ہے، اور آستین عموماً کندھوں تک یا نصف آستین تک ہوتی ہے۔ مردوں، خواتین اور بچوں سب کے لیے مختلف ڈیزائن میں ہوتی ہے۔

VEST MODELS
یہ اندرونی لباس ہے جو عام طور پر قمیص یا شرٹ کے نیچے پہنا جاتا ہے۔ مردوں اور خواتین دونوں کے لیے مختلف ڈیزائن کے بنیان ہوتے ہیں۔

SKIRT MODELS
یہ خواتین کا وہ لباس ہے جو کمر سے نیچے تک پہنا جائے، عام طور پر گھٹنے یا ٹخنے تک لمبا ہوتا ہے۔

SHORTS MODELS
مختصر پتلون کے مختلف ڈیزائن یا اقسام۔

NIGHTOUT COLLECTION
رات کا لباس، وہ ملبوسات جو خاص طور پر شام، رات کی محفل یا پارٹی کے لیے پہنے جاتے ہیں، جیسے خواتین کی شام کی ڈریس۔

یہ کپڑے عام طور پر خواتین پہنتی ہیں۔ باپردہ عورتیں ان پر جلباب اوڑھ کر باہر نکلتی ہیں یا اپنے گھروں میں خاوند کے سامنے پہنتی ہیں، جب کہ بے پردہ عورتیں جلباب کے بغیر انہیں باہر استعمال کرتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ایسی فیکٹری کی آمدنی حلال ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ ملبوسات  بنانا شرعاً جائز ہے،  اور ان کی آمدن حلال ہے۔ البتہ  ستر و حجاب کے اعتبار سے ان ملبوسات کے استعمال کے احکام مختلف  ہیں۔

غمز عیون البصائر میں ہے:

الثانية: الأمور بمقاصدها،  كما علمت في التروك.

و ذكر قاضي خان في فتاواه:إن بيع العصير ممن يتخذه خمرًا إن قصد به التجارة فلايحرم و إن قصد به لأجل التخمير حرم و كذا غرس الكرم على هذا (انتهى)

(غمز عيون البصائر، الفن الأول، القاعدة الثانية، 1/ 97 ط: دار الكتب العلمية)

و فیہ ایضا:

"قوله: ‌الأصل ‌في ‌الأشياء الإباحة إلخ ذكر العلامة قاسم بن قطلوبغا في بعض تعاليقه أنّ المختار أن الأصل الإباحة عند جمهور أصحابنا."

(غمز عيون البصائر، الفن الأول، القاعدة الثالثة 1/ 223 ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

(قوله: و جاز) أي عنده لا عندهما بيع عصير عنب أي معصوره المستخرج منه فلايكره بيع العنب و الكرم منه بلا خلاف."

(كتاب الحظر و الإباحة، فصل في البيوع 6/ 391 ط: سعيد)

فقط  واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100012

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں