
1: کیا خواتین کے لیے یوٹیوب پر کھلے یا ڈھانپے چہرے کے ساتھ آنے اور اسلامی لیکچر دینے کی اجازت ہے؟ اگر خواتین یوٹیوب پر ڈھانپے ہوئے جسم، ڈھانپے ہوئے چہرے، ڈھکے ہوئے ہاتھ، ڈھکی ہوئی آنکھیں اور وائس چینجر سافٹ ویئر استعمال کرکے آتی ہیں (حتیٰ کہ آواز کی پردہ بھی ہوتی ہے تاکہ کوئی اسے نہ سن سکے) تو کیا اسے آن لائن آکر اسلامی لیکچر دینے کی اجازت ہوگی؟
2: نیز کیا خواتین کے لیے واٹس ایپ اسٹیٹس یا پروفائل پکچر یا فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی تصویر لگانا( بند یا کھلے چہرے والی) جائز ہے یا حرام؟
3: یوٹیوب فیس بک یا اس طرح کے دوسرے پلیٹ فارمز پر سائنس ٹیکنالوجی اور کاروبار سے متعلق یا دیگر مفید عنوانات پر پوڈ کاسٹ میں مردوں اور عورتوں (چاہے ڈھکے ہوئے چہروں پر بھی) کے لیے آنا جائز ہے؟
4: خواتین کہتی ہیں کہ اگر وہ پڑھی لکھی ہیں لیکن فی الحال نوجوانی میں نوکری نہیں کریں اور شادی شدہ زندگی گزاریں تو جب وہ 50 یا 60 کی عمر میں ہوں گی اور کوئی مالی مسئلہ آئے گا تو وہ فوری طور پر نوکری کیسے کر پائیں گی؟ کیونکہ اس وقت ان کے پاس نوکری کرنے کا اتنا تجربہ نہیں ہوگا جتنا جوانی یا 30 سال کی عمر میں ہے۔ اس لیے انہیں اب نوجوانی کے حالات میں بھی نوکری کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ جب مستقبل میں غیر معمولی حالات آئیں گے تو وہ تیار ہوں گی۔ کیاایسی صورت میں نوکری کرنے کو حلال یا حرام قرار دیا جائے گا ؟مستقبل کے مسائل کے اندیشوں کے پیش نظر نوکری کرنا درست ہو گا یا نہیں؟
5: خواتین کو انتہائی ضرورت کے وقت نوکری کی اجازت دی جاتی ہے، برائے مہربانی بتائیں کہ ضرورت کا کیا مطلب ہے؟جب ان خواتین کو ملازمت کرنے کی اجازت دی جاتی ہے جن کے شوہر 50000 یا 1 لاکھ یا اس سے زیادہ کما رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ یہ بہت کم ہے، تو درحقیقت تنخواہ کی وہ رقم کیا ہے جس سے کم خواتین کو نوکری کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ کیونکہ آج لاکھوں کمانا بھی بہت سے لوگوں کے لیے کم ہے تو یہ کیسے طے کیا جائے کہ کب اجازت ہے اور کب نہیں؟
1تا 3:بصورتِ مسئولہ مرد و خواتین کا اپنی تصاویر یا ویڈیوز بناکر یوٹیوب، فیس بک،واٹس ایپ یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پراپلوڈ کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے،نیز عورت کا سوشل میڈیا پر اسلامی لیکچر دینا،واٹس ایپ پروفائل یا اسٹیٹس پر اپنی تصاویر یا ویڈیوز لگانا یا کسی عورت کا مرد کے ساتھ پوڈ کاسٹ بنانا (خواہ عورت مکمل پردہ کے ساتھ ہو اور وہ ویڈیو وغیرہ کسی دینی دنیاوی مفید عنوان یا عظیم مقصد کے لیے ہی کیوں نہ ہو)یہ سب امور شریعت کی رو سےجائز نہیں ہیں،اِس میں بلاضرورت جاندار ذی روح کی تصویر سازی،ویڈیو گرافی ، موسیقی و بے پردگی ،نامحرم مرد و عورت کا بلاضرورت ملنا جُلنا اور بات چیت کرنا،عورت کی آوازکا بلاضرورت نشرکرنا اور فتنہ انگیزی سمیت کئی ایک خرابیاں و بُرائیاں جاتی ہیں، مذکورہ مفاسد اور درج ذیل تفصیل کے پیشِ نظر اِس سے اجتناب کرنا بہر صورت لازم ہے۔
موجودہ دور میں معاشرہ کی اصلاح فلاح کے لیے سوشل میڈیا ویب سائٹس اور اپلیکیشنز کا سہارا لینے والے مردو عورت کو تصویر سازی کے ناجائز و حرام کام کا ضرور بالضرور ارتکاب کرنا پڑتا ہے،جو کسی شرعی ضرورت میں داخل نہ ہونے کی وجہ سے حرام اور احادیث نبوی ﷺ کی رو سےسخت وعید کا موجب اور گناہ کبیرہ ہے۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أشد الناس عذاباً يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله»."
(مشكاة المصابيح، باب التصاویر، ج:2، ص:385، ط: قدیمي)
ترجمہ:” حضرت عائشہ ؓ ، رسول کریمﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:" قیامت کے دن سب لوگوں سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔“
صحیح مسلم میں ہے:
"عن نافع، أن ابن عمر أخبره، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " الذين يصنعون الصور يعذبون يوم القيامة، يقال لهم: أحيوا ما خلقتم."
(كتاب اللباس والزينة،باب لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة،ج:3، ص:1669، ط:دار إحياء التراث العربي)
ترجمہ:” سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ تصویریں بناتے ہیں ان کو قیامت میں عذاب ہو گا، ان سے کہا جائے گا زندہ کرو ان کو جن کو تم نے بنایا۔“
لہذا مسلمان مرد ہو یا عورت سوشل میڈیا پر ہر ایک کا عملی کردار تصویر سازی و ویڈیو گرافی پر منحصر ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں ہے، بلکہ مذکورہ سوشل میڈیا ایپلیکشنز اور ویب سائٹس میں فیس بک اور اِس جیسی دیگر سوشل میڈیا اپلیکشنز اور ویب سائٹس کااصلاً استعمال کرنا ہی جائز نہیں ہے،کیوں کہ اِن کا جائز و درست استعمال تقریباً ناممکن ہے، چہ جائیکہ اُس پر کانٹینٹ بنا کراپلوڈ کرنے کی فکراور تگ و دو کی جائے۔ اور جن اپیلیکشنز(مثلاً واٹس ایپ وغیرہ) کا درست استعمال ممکن ہو اُن پر بھی اپنی یا جاندار کی تصاویر اور ویڈیوز لگانا جائز نہیں ہے۔اور بعض اپیلیکشنز (مثلاً یوٹیوب وغیرہ) پر اگرجاندار کی تصاویر اور موسیقی وغیرہ سے پاک صاف شرعی دائرہ میں ویڈیوز وغیرہ اپلوڈ کی جائیں، تب بھی اِن ویڈیوز پر انتظامیہ کی طرف سے چلائے جانے والے غیرشرعی اور بے ھودہ مناظر پر مشتمل ایڈز(اشتہارات) کو روکنا محال ہے۔لہذاکوئی بھی مسلمان خواہ مرد ہو یا عورت اِن غیرشرعی اور ناجائز امور کا ارتکاب کر کے یعنی خود کو گناہ و معاصی میں مبتلاء کرکے اسلام کی تبلیغ اور نشر و اشاعت اور قوم و ملت کو دینی و دنیاوی فائدہ پہنچانے کا مُکلف نہیں ہوسکتا، کسی بھی جائز کام لیے ناجائز طریقہ اختیار کرنا شریعت کے مزاج و احکام کے بالکل متصادم ہے،اس بارے میں محدث العصرحضرت مولانا محمدیوسف بنوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
” ہم لوگ (مسلمان) اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ جس طرح بھی ممکن ہو لوگوں کو پکا مسلمان بناکر چھوڑیں گے، ہاں! اس بات کے مکلف ضرور ہیں کہ تبلیغِ دین کے لیے جتنے جائز ذرائع اور وسائل ہمارے بس میں ہیں، ان کو اختیار کرکے اپنی پوری کوشش صرف کردیں، اسلام نے جہاں ہمیں تبلیغ کا حکم دیا ہے، وہاں تبلیغ کے باوقار طریقے اور آداب بھی بتائے ہیں، ہم ان آداب اور طریقوں کے دائرے میں رہ کر تبلیغ کے مکلف ہیں، اگر ان جائز ذرائع اور تبلیغ کے ان آداب کے ساتھ ہم اپنی تبلیغی کوششوں میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ عین مراد ہے، لیکن اگر بالفرض ان جائز ذرائع سے ہمیں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوتی تو ہم اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ناجائز ذرائع اختیار کرکے لوگوں کو دین کی دعوت دیں اور تبلیغ کے آداب کو پسِ پشت ڈال کر جس جائز وناجائز طریقے سے ممکن ہو، لوگوں کو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کریں، اگر جائز وسائل کے ذریعے اور آدابِ تبلیغ کے ساتھ ہم ایک شخص کو دین کا پابند بنادیں گے تو ہماری تبلیغ کامیاب ہے اور اگر ناجائز ذرائع اختیار کرکے ہم سو آدمیوں کو بھی اپنا ہم نوا بنالیں تو اس کامیابی کی اللہ کے یہاں کوئی قیمت نہیں، کیوں کہ دین کے احکام کو پامال کر کے جو تبلیغ کی جائے گی وہ دین کی نہیں کسی اور چیز کی تبلیغ ہوگی۔“
( از محدث العصر مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ،بحوالہ نقوشِ رفتگاں، ص:104ط: مکتبۂ معارف القرآن)
سابق مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”تصویرکشی اور تصویر سازی کسی جان دار کی کسی حال میں جائز نہیں ہے، صرف غیرذی روح بے جان چیزوں کی تصاویر بناسکتے ہیں۔“
(جواہر الفقہ (جدید)،تصویر کے شرعی احکام، ج:7، ص:231، ط:مکتبہ دارالعلوم)
احسن الفتاوی میں ہے:
”اصلاح وتبلیغ کی نیت سے معصیت کاارتکاب ہر کز جائز نہیں، جب ارشاد وتبلیغ سے مقصد اللہ تعالی کی رضا ہے تو اس مقصد کی تحصیل کے لیے اس کی معصیت کا کیا مطلب؟“
(متفرقات الحظر والاباحہ، ج8:، ص190، ط:سعید)
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
”آپ کے ذہن میں رہنا چاہیے کہ دینِ اسلام دینِ ہدایت ہے، جس کی دعوت وتبلیغ کے لیے اللہ تعالی نے حضرات انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرات صحابہ کرام نے، حضرات تابعین نے ائمہ دین نے علمائے امت نے اس فریضے کو ہمیشہ انجام دیا، ہدایت پھیلانے کا کام انہی حضرات کے نقش قدم پر چل کر ہوسکتاہے، ان کے راستے سے ہٹ کر نہیں ہوسکتا، تبلیغ دین کے لیے ایسے ذرائع اختیار کرنے کی اجازت ہےجو بذات خود مباح اور جائز ہوں، حرام اور ناجائز ذرائع اختیار کرکےہدایت پھیلانے کا کام نہیں ہوسکتا، کیوں کہ ناجائز ذرائع خود شر ہیں، شر کے ذریعہ شر تو پھیل سکتاہے،شر کے ذریعہ خیر اور ہدایت کو پھیلانے کا تصور غلط ہے۔“
( ج:8، ص:431، ط:مکتبہ لدھیانوی)
امداد الفتاوی میں ہے:
”سوال : میں نے اپنے گھر میں عرصہ سے تجوید بقدر احتیاج سکھائی ہے، اللہ کا شکرہے باقاعدہ پڑھنے لگی ہیں، جن لوگوں کو اِس اَمر کی اِطلاع ہے وہ کبھی آکر یوں کہتے ہیں کہ ہم سننا چاہتے ہیں، اور ہیں معتمد لوگ ، تو پردہ میں سنوا دینا جائز ہے یا نہیں ؟ اگرچہ ایسا کیا نہیں، بعد علم جیسا ہوگا ویسا کروں گا۔
الجواب : ہرگز جائز نہیں۔لأنه اسماع صوت المرأة بلاضرورة شرعية( کیونکہ یہ عورت کی آواز کو بغیر شرعی ضرورت کے سنانا ہے)۔“
( امداد الفتاوی، ج:4، ص:200، ط: دارالعلوم کراچی)
شرح النووی على مسلم میں ہے:
"قال أصحابنا وغيرهم من العلماء: تصوير صورة الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث وسواء صنعه بما يمتهن أو بغيره فصنعته حرام بكل حال."
(كتاب اللباس و الزينة، باب تحريم تصوير صورة الحيوان، ج:14، ص:81، ط:دار إحياء التراث العربي)
فتاوی شامی میں ہے:
"وصوتها على الراجح وذراعيها على المرجوح.
(قوله: وصوتها) معطوف على المستثنى يعني أنه ليس بعورة ح (قوله: على الراجح) عبارة البحر عن الحلية أنه الأشبه. وفي النهر وهو الذي ينبغي اعتماده. ومقابله ما في النوازل: نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرأة أحب. قال عليه الصلاة والسلام: «التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء» فلايحسن أن يسمعها الرجل. اهـ. وفي الكافي: ولاتلبي جهرًا لأن صوتها عورة، ومشى عليه في المحيط في باب الأذان بحر. قال في الفتح: وعلى هذا لو قيل إذا جهرت بالقراءة في الصلاة فسدت كان متجها، ولهذا منعها عليه الصلاة والسلام من التسبيح بالصوت لإعلام الإمام بسهوه إلى التصفيق اهـ وأقره البرهان الحلبي في شرح المنية الكبير، وكذا في الإمداد؛ ثم نقل عن خط العلامة المقدسي: ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ. قلت: ويشير إلى هذا تعبير النوازل بالنغمة."
(کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، ج:1، ص:406، ط:سعید)
4-5:صورتِ مسئولہ میں خواتین کا مستقبل میں مالی تنگی کے محض اندیشوں کے پیش نظر یا اپنا معیارِ زندگی بلند کرنے کی خاطر گھر سے باھر جاکر ملازمت کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، کیوں کہ شریعت مطہرہ نے مسلمان عورت پر عمر کے کسی بھی حصہ میں اصالۃًکسبِ معاش کی ذمہ داری نہیں ڈالی ہے،بلکہ عورتوں کی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے مردوں کو کسبِ معاش کا مکلف بنایا ہے، چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
"الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ"(سورۃ النساء:34)
ترجمہ: مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس سبب سے کہ اللہ تعالی نے بعضوں کو بعضوں پر فضیلت دی ہے اور اس سبب سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں۔(بیان القرآن)
لہذا عورت کے نان نفقہ اور مالی اخراجات اُس کے سرپرست (والد،شوھر یا بیٹے) کے ذمہ ہے،مذکورہ افراد کے ہوتے ہوئے عورت کا مستقبل میں مالی تنگی کے اندیشوں یا اپنا معیارِ زندگی کو بلند کرنے کی غرض ، یا نوکری کا شوق پورا کرنے کی نیت سے ملازمت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ نیز اس میں عورت کا بلاضرورت گھر سے باھر نکلنے کا پہلو بھی پایا جاتا ہے، جسے شریعت نے ناپسندیدہ قرار دیا ہے، نماز جیسی اہم عبادت کے لیے حکم یہ ہے کہ عورتیں اپنے گھروں میں ہی ادا کریں، تو مذکورہ وجوہات کی بنیاد پر عورت کا اِس پُرفتن دور میں گھر سے باھر نکلنا کیسے جائز ہوسکتا ہے....؟ البتہ کسی عورت کوواقعی معاشی بدحالی اور نان نفقہ کی تنگی کا سامناہو کہ کوئی کمانے والا موجود نہ ہو، مثلاً عورت بیوہ ہو اور گھر میں رہتے ہوئے ذریعہ معاش کا انتظام نہ ہوپائے، یا اُس عورت کے نان نفقہ کامُکلف و ذمہ دار (باپ شوھر یا بیٹا وغیرہ)اُس کی ذمہ داری اُٹھانے سے قاصر ہو تو اس قسم کے شدید مجبوری میں گھر سے باھر نکل کر ملازمت کرنے کی گنجائش عورت کو دی گئی ہے، لیکن اس میں بھی یہ ضروری ہے کہ عورت مکمل پردے کے ساتھ گھر سے نکلے، بناؤسنگھار اور زیب و زینت سے اجتناب کرے، کسی نا محرم سے بلاضرورت بات چیت نہ ہو، ایسا ذریعہ معاش اختیار نہ کرے جس میں کسی نامحرم کے ساتھ تنہائی حاصل ہوتی ہو یاوہ کاروبار و ملازمت ہی سِرے سے ناجائز ہو، فتنہ فساد کے مواقع سے اپنے آپ کو بچائے رکھے اور ملازمت کے لیےاپنے رہائشی گھر سے دور کسی دوسرے شہر و ملک محرم کے بغیر سفر سے اجتناب کرے۔
لہذا شریعت نے عورت کو ضرورت کے وقت گھر سے باھر نکل کر ملازمت کی جو اجازت دی ہی” اُس ضرورت سے مراد یہ ہے کہ عورت حقیقیت میں معاشی تنگی و بدحالی کی وجہ سے ضروریات زندگی کے پورا کرنے سے قاصر ہو“،لہذا اگر شوھر کی کمائی سے گھریلواخراجات پورے ہورہے ہوں تو محض سہولیات اور آسائشات کی خاطریا محض معیارِ زندگی بلند کرنے اورزندگی میں ترفہ یعنی خوشحالی پیدا کرنے کے لیے عورت کا ملازمت کرنا اورگھر سے باھر نکلنا جائز نہیں ہے۔
قرآن کریم میں ہے:
" وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ " (سورۃ الاحزاب :33)
ترجمہ:” اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو ۔“(بیان القرآن)
تفسیر قرطبی میں ہے:
"قوله تعالى: (وقرن في بيوتكن ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى) فيه أربع مسائل... الثانية- معنى هذه الآية الأمر بلزوم البيت، وإن كان الخطاب لنساء النبي صلى الله عليه وسلم فقد دخل غيرهن فيه بالمعنى. هذا لو لم يرد دليل يخص جميع النساء، كيف والشريعة طافحة بلزوم النساء بيوتهن، والانكفاف عن الخروج منها إلا لضرورة، على ما تقدم في غير موضع. فأمر الله تعالى نساء النبي صلى الله عليه وسلم بملازمة بيوتهن، وخاطبهن بذلك تشريفا لهن، ونهاهن عن التبرج، وأعلم أنه فعل الجاهلية الأولى."
(سورة الأحزاب، ج:14، ص:178-179، ط:دار الكتب المصرية)
مبسوط سرخسی میں ہے :
"والذي قلنا في الصغار من الأولاد كذلك في الكبار إذا كن إناثا؛ لأن النساء عاجزات عن الكسب؛ واستحقاق النفقة لعجز المنفق عليه عن كسبه."
(باب نفقة ذوى الأرحام، ج:5، ص:223، ط:دارالمعرفة)
فتاوی شامی میں ہے :
"(قوله كأنثى مطلقا) أي ولو لم يكن بها زمانة تمنعها عن الكسب فمجرد الأنوثة عجز إلا إذا كان لها زوج فنفقتها عليه ما دامت زوجة وهل إذا نشزت عن طاعته تجب لها النفقة على أبيها محل تردد فتأمل، وتقدم أنه ليس للأب أن يؤجرها في عمل أو خدمة، وأنه لو كان لها كسب لا تجب عليه."
(كتاب الطلاق، باب النفقة، مطلب الصغير و المكتسب نفقة كسبه لا على ابيه، ج:3، ص:614، ط:سعيد)
احکام الاحوال الشخصیۃ فی الشریعۃ الاسلامیۃ میں ہے :
"وأما البنت فإذا كانت فقيرة صغيرة وأبوها غني أو كسوب فنفقتها بأنواعها واجبة لها على أبيها، وكذلك إذا كبرت وهي فقيرة فنفقتها واجبة على أبيها، سواء كانت قادرة على الكسب أو عاجزة عنه، لكن إذا اكتسبت فعلا من وظيفة أو حرفة فلا تجب نفقتها على أبيها، بل تكون نفقتها فيما كسبته؛ لأنها استغنت به، إلا إذا كان ما كسبته لا يفي بحاجتها فعلى أبيها تكميل كفايتها."
(الحضانة والنفقات، نفقة الأقارب، ص:141، ط:دارالكتب)
فقط والله تعالى اعلم بالصواب
فتویٰ نمبر : 144702101327
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن