بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خواتین کا پردہ کے اہتمام کے باوجود جمعہ کی نماز کےلیے مسجد جانا جائز نہیں ہے


سوال

(1)کسی مسجد کے بیسمینٹ وغیرہ میں جہاں پردہ کا مکمل انتظام ہو اور آنے جانے کا راستہ بھی الگ ہو، اور منبر و محراب سے باقاعدہ ان کو دعوت بھی نہ دی جاتی ہو خواتین اپنے شوق سے آتی ہوں توکیا ایسی مسجد میں خواتین کےلیے جمعہ کی نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں؟

( 2)جمعہ کے بعد خواتین کی تعلیم فضائلِ اعمال کی اور پھر اس کے بعد مسائل کی تعلیم بھی ہوتی ہے جس میں خواتین کے مخصوص مسائل کے اوپر بھی 10 سے 15 منٹ لگائے جاتے ہیں۔

 خواتین کا اعتراض یہ ہے کہ اگر مسجد میں آنا جائز نہیں تو خواتین کا جماعت کے ساتھ سہ روزہ وغیرہ لگانابھی جائز نہیں،  اس حوالے سے آپ ہماری راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ خواتین پر جمعہ کی نماز واجب نہیں ہے، جب کہ فرض نمازیں بھی ان کے لیے اپنے گھروں میں ادا کرنے میں ثواب زیادہ ہے، لہٰذا  جمعہ کی نماز، جو کہ اُن پر واجب ہی نہیں، اس کے لیے عمومی حالات میں خواتین کا گھر سے باہر جانا مکروہِ تحریمی ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سوال میں ذکرکردہ تمام قیودات کے باوجود خواتین کے لیے  جمعہ کی نماز کے لیے مسجد جانامکروہِ تحریمی  ہے۔

 خواتین کاجماعت میں سہ روزہ (وغیرہ) کےلیے جانا شرعی  اعتبار سے درست نہیں ہے،لہٰذا خواتین کا جمعہ کی نماز کےلیے جانے کوخواتین کا تبلیغی جماعت میں نکلنے پر  قیاس کرنا بھی درست نہیں ہے۔

باقی  ضروری مسائل کا جاننا ان کےلیے ضروری ہے،لیکن اس کےلیےمسجد کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ علاقہ کے کسی گھر میں باپردہ اہتمام کے ساتھ مستند متدین عالم کی وعظ و نصیحت کی مجلس رکھی جا سکتی ہے،  جس میں خواتین شرکت کرسکتی ہیں۔

سنن أبی داود  میں ہے:

"عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:«صلاة المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها، وصلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها»".

(کتاب الصلاۃ ،  باب ما جاء فی خروج النساء الی المسجد، ج:1، ص:94، ط: رحمانیہ)

عمدۃ القاری میں ہے:

"(فإن قلت:) من أين علمت عائشة رضي الله تعالى عنها هذه الملازمة والحكم بالمنع وعدمه ليس إلا الله تعالى؟ (قلت:) مما شاهدت من القواعد الدينية المقتضية لحسم مواد الفساد والأولى في هذا الباب أن ينظر إلى ما يخشى منه الفساد فيجتنب لإشارته صلى الله عليه وسلم إلى ذلك بمنع الطيب والتزين؛ لما روى مسلم من حديث زينب امرأة ابن مسعود: "إذا شهدت إحداكن المسجد فلا تمس طيباً". وروى أبو داود من حديث أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: "لاتمنعوا إماء الله مساجد الله ولكن ليخرجن وهن تفلات". وكذلك قيد ذلك في بعض المواضع بالليل؛ ليتحقق الأمن فيه من الفتنة والفساد". 

( کتاب مواقیت الصلاة، باب خروج النساء إلى المساجد بالليل، ج:6،ص159، رقم الحدیث؛1060، ط: دار إحياء التراث العربي)

       فتاوی شامی میں ہے:

"(ويكره حضورهن الجماعة) ولو لجمعة وعيد ووعظ (مطلقاً) ولو عجوزاً ليلاً (على المذهب) المفتى به؛ لفساد الزمان.(قوله: ولو عجوزاً ليلاً) بيان للإطلاق: أي شابةً أو عجوزاً نهاراً أو ليلاً (قوله: على المذهب المفتى به) أي مذهب المتأخرين."

(کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، ج:1، ص:566، ط: سعید)

 البنایہ شرح ہدایہ  میں ہے:

 "ويكره لهن حضور الجماعات يعني الشواب منهن؛ لما فيه من خوف الفتنة،ولا بأس للعجوز أن تخرج في الفجر والمغرب والعشاء".(الهدایة)

"قال العیني:(قال: ويكره لهن حضور الجماعات) ش: أي يكره للنساء (يعني الشواب منهن) … وهذه اللفظة بإطلاقها تتناول الجُمَع والأعياد والكسوف والاستسقاء. و عن الشافعي: يباح لهن الخروج، (لما فيه) أي في حضورهن الجماعة (من خوف الفتنة) عليهن من الفساق، وخروجهن سبب للحرام، وما يفضي إلى الحرام فحرام. وذكر في كتاب الصلوات مكان الكراهة الإساءة والكراهة فحش. قلت: المراد من الكراهة التحريم ولا سيما في هذا الزمان؛ لفساد أهله".

(کتاب الصلاة، باب في الإمامة،حضور النساء للجماعات، ج:2، ص:354،ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101767

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں