
میرے خاوند فوت ہو چکے ہیں، اب میں بچوں کی پرورش کے بارے میں میں وضاحت لینا چاہتی ہوں۔
تفصیل یہ ہے کہ ہمارے خاندان والوں کا غیرت کے نام پر ایک بنایا ہو ا اصول ہے کہ اگر اپنوں میں شادی کرو گے تو بچوں کی تربیت کا حق مجھے یعنی والدہ کو ملے گا، اور اگر اجنبیوں میں شادی کرو گے تو پرورش کا حق مجھ سے یعنی والدہ سے چھین لیا جائے گا، اس لیے اب میرے گھر والے مجھے مجبور کر رہے ہیں کہ شادی اپنے دیور سے کرو ؛کسی اور جگہ پر شادی کرنے کی صورت میں بچے چھین لیے جائیں گے۔
میں جب عدت گزار رہی تھی اس وقت مجھے پتہ تھا کہ وہ میرے بچوں کی کیسی تربیت کر رہے تھے ؟ توجہ نہیں دیتے تھے اس لیے میں اب تک شادی کرنے سے رکی ہوئی ہوں کہ بچوں کی تربیت میں خود کروں کیوں کہ کوئی اور ایسی تربیت نہیں کرے گا جو ایک والدہ یعنی میں کروں گی۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا کورٹ کے ذریعے اپنے بچے اپنے پاس رکھ سکتی ہوں؟ کیا اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے؟
کیا میرے گھر والے بچوں کی دھمکی دے کر مجھے اپنے دیور سے شادی کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں؟
کیا اسلام اس بات کا کسی عورت کو پابند کرتا ہے کہ وہ شادی صرف اپنوں میں کرے؟
کیا میرے گھر والوں کا مجھے بچوں کی دھمکی دینا درست ہے؟ میرے دو بیٹے ہیں ایک کی عمر 8 سال ہے اور دوسرے کی 10 سال ہے ۔ برائے مہربانی مجھے کوئی ایسا طریقہ بتائیں کہ بچوں کی تربیت کا حق مجھے مل جائے ۔
واضح رہے کہ بچوں کی پرورش کے بارے میں شریعت کا قانون ہے کہ خاوند کی وفات یا زوجین کے مابین طلاق واقع ہونے کی صورت میں عورت کو سات سال کی عمر تک ان کی پرورش کا حق دیا گیا ہے، اس کے بعد عورت کا حق پرورش ختم ہوجاتا ہے،اس کے بعد بچوں کے بالغ ہونے تک حق پرورش اس کے والد اور والد کے نہ ہونے کی صورت میں قریبی اولیاء( دادا، چچا، سگا بھائي وغیرہ) کی طرف لوٹتا ہے ، چنانچہ ولی کو بلوغت تک بچوں کو اپنے پاس رکھنے کا اختیار ہے،بچے جب بالغ ہوجائیں اور اپنے نفع نقصان کو سمجھنے لگیں تو پھر شریعت نے انہیں اختیار دیا ہے کہ جہاں چاہیں رہیں،کوئی انہیں ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کرسکتا،البتہ اگر بلوغت کے بعد بھی وہ سمجھدار نہ ہوں اور ان پر بھروسہ نہ کیا جاسکتا ہو تو پھر ولی کوانہیں اپنے پاس رکھنے کا حق حاصل ہے۔
لہٰذا مسئولہ صورت میں چوں کہ سائلہ کے دونوں بچوں کی عمر سات سال سے بڑھ چکی ہے( اگر ان کے اولیاء موجود ہوں اور وہ اپنے پاس رکھنا چاہتے ہوں ) اس لیےان کے لیے کورٹ کے ذریعہ بچوں کو اپنے پاس زبردستی رکھنا جائز نہیں ، البتہ یہ بات بھی واضح رہے کہ سائلہ کے خاندان والوں کا غیرت کے نام پر بنایا ہوا مذکورہ اصول کی کوئی حیثیت نہیں ، کسی بھی عاقلہ بالغہ عورت کو کسی جگہ پر شادی کرنے پر مجبور کرنا جائز نہیں ، عورت اپنی مرضی سے جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے ۔
چناں چہ سائلہ کے گھر والوں کا دیور سے شادی پرانہیں مجبور کرنا یا بچوں کے سلسلہ میں انہیں دھمکانا شرعا درست نہیں ، دونوں کو چاہیے کہ حسنِ اخلاق کا ساتھ معاملہ افہام و تفہیم کے ذریعہ حل کریں ۔
فتاوی شامی میں ہے:
’’(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية۔
وفی الرد:(قولہ ولوجبرا)…….وفي الفتح: ويجبر الأب على أخذ الولد بعد استغنائه عن الأم لأن نفقته وصيانته عليه بالإجماع اهـ. وفي شرح المجمع: وإذا استغنى الغلام عن الخدمة أجبر الأب، أو الوصي أو الولي على أخذه لأنه أقدر على تأديبه وتعليمه.‘‘
(باب الحضانۃ ،ج:۳ ، ص:۵۶۶،ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
’’وبعدما استغنى الغلام وبلغت الجارية فالعصبة أولى يقدم الأقرب فالأقرب كذا في فتاوى قاضي خان۔‘‘
(کتاب الطلاق، الباب السادس عشر فی الحضانۃ، ج:۱، ص:۵۴۲، ط:رشیدیہ)
بدائع الصنائع میں ہے :
"وبالبلوغ عن عقل زال العجز حقيقة وقدرت على التصرف في نفسها حقيقة فتزول ولاية الغير عنها وتثبت الولاية لها؛ لأن النيابة الشرعية إنما تثبت بطريق الضرورة نظرا فتزول بزوال الضرورة مع أن الحرية منافية لثبوت الولاية للحر على الحر، وثبوت الشيء مع المنافي لا يكون إلا بطريق الضرورة ولهذا المعنى زالت الولاية عن إنكاح الصغير العاقل إذا بلغ، وتثبت الولاية له ۔"
(فصل ولایۃ الندب والاستحباب فی النکاح، ج:۲، ص:۲۴۸، ط:دارالکتب العلمیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100987
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن