بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خاوند کا حیض کی حالت میں ہمبستری کرنے کا حکم ؟/ شوہر کا اپنی بیوی کو شہوت کے ساتھ چھونا اور بوسہ لینے سے غسل کا حکم /لڑکے سے پردہ فرض ہونے کی عمر کیا ہے؟


سوال

1۔اگر کسی عورت سے اس کا  خاوند حیض کی حالت میں ہمبستری کرے تو کیا ایسی صورت ان پر گناہ ہوگا یا نہیں اورکیا اس پر صدقہ دینا لازم ہوگا یا نہیں ؟

2۔کیاشوہر کا اپنی بیوی کو شہوت کےسا تھ چھونا یا بوسہ لینے سے غسل واجب ہوتا ہے یانہیں ؟

3۔کتنے سال کے لڑکے سے  عورت کا شرعی پردہ کرنا واجب ہے؟

جواب

1۔ حالتِ حیض میں بیوی سے جماع کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے،جس پر سچے دل سے توبہ و استغفار  ضروری ہے،نیز یہ طبی اعتبار سے بھی انتہائی نقصان دہ ہے ۔

لہذا صورت مسئولہ میں میاں بیوی کا  حیض کی حالت میں جماع کرنے سے دونوں گناہ کبیرہ کےمرتکب ہوئے ہیں ،جس پر اُنہیں  سچے دل سے توبہ و استغفار اور آ ئندہ کے لیے مکمل اجتناب ضروری  ہوگا، نیز مذکورہ گناہ کے ازالے کے لیے بہتر یہ  ہے کہ  کچھ صدقہ کرے، تاکہ صدقہ کی برکت سے گناہ دُھل جائے،پس اگر ماہواری کےآغاز میں جماع کیا ہو تو ایک دینار ( یعنی  4.374گرام سونا یا اس کی قیمت،بشرطیکہ استظاعت ہو اور اگر ماہواری کےآخری دنوں میں جماع کیا ہوتو  آدھا دینار (یعنی  2.187  گرام سونا یا اس کی قیمت)  صدقہ کرے۔باقی  مذکورہ صورت میں ایک دینار یا آدھا دینار کا صدقہ کرنا واجب نہیں ہے،البتہ بہتر ہے کہ کچھ صدقہ کرے،استطاعت نہ ہو تو  جس قدر ممکن ہو اتنا صدقہ کردے، مثلاً  1000 یا 5000 روپے  یا جتنا ہو سکے، تاکہ آئندہ ایسی غلطی نہ ہوسکے۔

فتاویٰ دار العلوم دیوبند میں ہے:

’’(سوال ۳۳۷) اگر کوئی شخص اپنی زوجہ سے حالتِ حیض میں جماع کرے تو اس پر کفارہ لازم آوے گا یا نہ؟(جواب)در مختار میں ہے کہ حالتِ حیض میں اپنی زوجہ سے وطی کرنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے، اس کو توبہ کرنا لازم ہے اور ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرنا مستحب ہے، اور ایک دینار ساڑھے چار ماشے سونے کا ہوتا ہے ۔فقط۔‘‘

(فتاوی دارالعلوم دیوبند ، ج:1 ،ص:211 ،ط:دارالاشاعت)

2۔شوہر کا اپنی بیوی کو شہوت کےسا تھ چھونے یا بوسہ لینے سے اگر منی خارج نہ ہوتو غسل واجب نہیں ہوگا۔

3۔پردے کا اصل مدار شہوت کی حد کو پہنچنے پر ہے، لہٰذا لڑکا جب اتنی عمر کا ہوجائے جس میں اس کو شہوت آتی ہو یا اس کو دیکھنے سے عورت کو شہوت پیدا ہوتی ہو تو اس سے پردہ کرنا ضروری ہے ، فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے  دس سال کے لڑکے کو مراہق ومشتہی قرار دیا ہے،لہذا دس سال کے لڑکے سے عورت کو پردہ کرناچاہیے، الا یہ کہ اگر کسی لڑکے میں دس سال کی عمر سے پہلے ہی لڑکیوں کی طرف میلان محسوس کیا جائے تو  اسی عمر سے پردہ کیاجائےگا۔

قرآنِ کریم میں ہے:

"قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذلِكَ أَزْكى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِما يَصْنَعُونَ(30)وَقُلْ ‌لِلْمُؤْمِناتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَا مَا ظَهَرَ مِنْها وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلى جُيُوبِهِنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبائِهِنَّ أَوْ آباءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنائِهِنَّ أَوْ أَبْناءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَواتِهِنَّ أَوْ نِسائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلى عَوْراتِ النِّساءِ وَلا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعاً أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (النور:31)."

ترجمہ:"آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لئے زیادہ صفائی کی بات ہے بے شک اللہ تعالیٰ کو سب کی خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں اور (اسی طرح) مسلمان عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ (وہ بھی ) اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور زینت ( کے مواقع ) کو ظاہر نہ کریں مگر جو اس ( موقع زینت) میں سے (غالبا) کھلا رہتا ہے (جس کے ہر وقت چھپانے میں حرج ہے ) اور اپنے ڈوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں اور اپنی زینت ( کے مواقعہ مذکورہ ) کو کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے (محارم پر یعنی ) باپ پر یا اپنے شوہر کے باپ پر یا اپنے بیٹوں پر یا اپنے شوہروں کے بیٹوں پر یا اپنے (حقیقی علاقی اور اخیافی بھائیوں یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں پر یا اپنی حقیقی علاقی اور اختیاتی بہنوں کے بیٹوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنی لونڈیوں پر یا ان مردوں پر جو طفیلی ( کے طور پر رہتے ) ہوں اور ان کو ذرا توجہ نہ ہو یا ایسے لڑکوں پر جو عورتوں کے پردوں کی باتوں سے بھی ناواقف ہیں ( مراد غیر مراہق ہیں ) اور اپنے پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہو جائے اور ( مسلمانوں تم سے جو ان احکام میں کوتاہی ہو گئی ہو تو ) سب اللہ کے سامنے تو بہ کرو تا کہ تم فلاح پاؤ۔"(بیان القرآن)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وقوله تعالى: {أو الطفل الذين لم يظهروا على ‌عورات ‌النساء} قال "مجاهد هم الذين لا يدرون ما هن من الصغر". وقال قتادة: "الذين لم يبلغوا الحلم منكم". قال أبو بكر: قول مجاهد أظهر; لأن معنى أنهم لم يظهروا على ‌عورات ‌النساء أنهم لا يميزون بين ‌عورات ‌النساء والرجال لصغرهم وقلة معرفتهم بذلك، وقد أمر الله تعالى الطفل الذي قد عرف ‌عورات ‌النساء بالاستئذان في الأوقات الثلاثة بقوله: {ليستأذنكم الذين ملكت أيمانكم والذين لم يبلغوا الحلم منكم} وأراد به الذي عرف ذلك واطلع على ‌عورات ‌النساء، والذي لا يؤمر بالاستئذان أصغر من ذلك. وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "مروهم بالصلاة لسبع واضربوهم عليها لعشر وفرقوا بينهم في المضاجع"، فلم يأمر بالتفرقة قبل العشر وأمر بها في العشر; لأنه قد عرف ذلك في الأكثر الأعم ولا يعرفه قبل ذلك في الأغلب."

(سورة نور، 3/ 412، ط: دار الكتب العلمية)

تفسیرِ کبیر میں ہے:

"المسألة الثانية: الظهور على الشيء على وجهين: الأول: العلم به كقوله تعالى: إنهم إن يظهروا عليكم يرجموكم [الكهف: 20] أي إن يشعروا بكم والثاني: الغلبة له والصولة عليه كقوله: فأصبحوا ظاهرين فعلى الوجه الأول يكون المعنى أو الطفل الذين لم يتصوروا عورات النساء ولم يدروا ما هي من الصغر وهو قول ابن قتيبة، وعلى الثاني الذين لم يبلغوا أن يطيقوا إتيان النساء، وهو قول الفراء والزجاج.

المسألة الثالثة: أن الصغير الذي لم يتنبه لصغره على عورات النساء فلا عورة للنساء معه، وإن تنبه لصغره ولمراهقته لزم أن تستر عنه المرأة ما بين سرتها وركبتها، وفي لزوم ستر ما سواه وجهان: أحدهما: لا يلزم لأن القلم غير جار عليه والثاني: يلزم كالرجل لأنه يشتهي والمرأة قد تشتهيه وهو معنى قوله: أو الطفل الذين لم يظهروا على عورات النساء واسم الطفل شامل له إلى أن يحتلم."

(سورة نور، الحكم السابع حكم النظر، 23/ 367، ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)

تفسیرِ مظہری میں ہے:

"أو الطفل الذين لم يظهروا على عورات النساء الطفل جنس وضع موضع الجمع اكتفاء بدلالة الوصف يعنى لم يبلغوا او أن القدرة على الوطي من ظهر على فلان إذا قوى وقدر عليه- أو المعنى لم يظهروا أى لم يكشفوا عن عورات النساء بالجماع من الظهور بمعنى الغلبة ولذلك عدى بعلى أو من الظهور بمعنى الاطلاع فان الكشف يستلزم الاطلاع والمراد بعدم الظهور وعدم الكشف أيضا عدم صلاحية ذلك فالحاصل أنهم لم يبلغوا حد الشهوة وقال مجاهد معناه لم يعرفوا العورة من غيرها لأجل الصغر وعدم التميز-والأولى هو الأول فان الطفل إن كان مميزا لكنه لم يبلغ حد الشهوة جاز للنساء الانكشاف عنده إلا من السرة الى الركبة- ولا يجوز لها بحضرته كشف ما تحت السرة كما يدل عليه قوله تعالى ليستأذنكم الذين ملكت أيمانكم والذين لم يبلغوا الحلم منكم ثلاث مرات- وإن كان طفلا غير مميز بالكلية فهو كالجمادات والبهائم لا بأس لو كشفت عنده ما تحت الإزار ايضا- وإن كان مراهقا يشتهى فحكمه حكم الرجال لأنه استعد للظهور على عوراتهن-."

(سورة نور:31، ج:6، ص:501، ط: مكتبة الرشیدیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"ويندب تصدقه بدينار أو نصفه.

(قوله: ويندب إلخ) لما رواه أحمد وأبو داود والترمذي والنسائي عن ابن عباس مرفوعًا «في الذي يأتي امرأته وهي حائض، قال: يتصدق بدينار أو نصف دينار» ثم قيل إن كان الوطء في أول الحيض فبدينار أو آخره فبنصفه، وقيل بدينار لو الدم أسود وبنصفه لو أصفر. قال في البحر: ويدل له ما رواه أبو داود والحاكم وصححه «إذا واقع الرجل أهله وهي حائض، إن كان دما أحمر فليتصدق بدينار، وإن كان أصفر فليتصدق بنصف دينار»."

(كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1، ص:298، ط:ايج ايم سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفرض الغسل عند خروج مني من العضو..."

(کتاب الطہارۃ، سنن الغسل، ج: 1، ص: 159، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101259

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں