
میرا اور میرے بھائی کا مشترک کاروبار ہے، میں نے اپنے سالے کو کام سیکھنے کے لیے بٹھالیا، بعد میں اس نے کام میں چوری شروع کردی، تو بھائی نے اس کو کام سے اٹھادیا، اور مجھے اور میری اہلیہ کو میکے جانے سے منع کردیا کہ آپ وہاں نہیں جاؤ گے، اب سوال یہ ہے کہ کیا میرے بھائی کا میری اہلیہ کو میکے جانے سے اور بچوں کو ان کے ننھیال جانے سے زبردستی منع کرنا درست ہے؟
میری بیوی کے میکے میں اس کے والدین اور دیگر بھائی بہن سب ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے سالے نے چوری کی ہے تو اس کی وجہ سے آپ کے بھائی اگر چاہیں تو سالے کی طرف سے مستقبل میں چوری کے ضرر سے بچنے کے لیے اسے اپنے گھر آنے سے منع کرسکتے ہیں ،لیکن آپ کے بھائی کا آپ کی اہلیہ کو میکے جانے اور بچوں کو ننھیال جانے سے روکنا شرعا درست نہیں ہے، یعنی آپ کے بھائی کا آپ کے سالے کی چوری کی وجہ سے اپنی بھابھی کو اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے قطع تعلقی پر مجبور کرنا جائز نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"الصحيح المفتى به من أنها تخرج للوالدين في كل جمعة بإذنه وبدونه، وللمحارم في كل سنة مرة بإذنه."
(باب النفقة،مطلب في الكلام على المؤنسة، ج:3، ص:603، ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإذا أراد الزوج أن يمنع أباها، أو أمها، أو أحدا من أهلها منالدخول عليه في منزله اختلفوا في ذلك قال بعضهم: لا يمنع من الأبوين من الدخول عليها للزيارة في كل جمعة، وإنما يمنعهم من الكينونة عندها، وبه أخذ مشايخنا - رحمهم الله تعالى -، وعليه الفتوى كذا في فتاوى قاضي خان وقيل: لا يمنعها من الخروج إلى الوالدين في كل جمعة مرة، وعليه الفتوى كذا في غاية السروجي وهل يمنع غير الأبوين عن الزيارة في كل شهر، وقال مشايخ بلخ في كل سنة وعليه الفتوى."
(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الثالث في نفقة المعتده،ج:1، ص:557، ط:دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101746
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن