بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خریدار کی اجازت سے ٹرانسفر شدہ مال کی ضمانت کا شرعی حکم


سوال

ہمارا سوکھے دودھ کا کام ہے، ہم نان کسٹم پیڈ ایرانی سوکھے  دودھ کے  کنٹینرز  منگواتے ہیں ، اور کراچی میں بڑے بڑے گودام ہوتے ہیں، اس میں مختلف لوگوں کے سامان کرایہ پر رکھے جاتے ہیں، ہمارے سوکھے دودھ کے بیگ بھی وہیں کرایہ پر رکھے ہوئے ہوتے ہیں اور ہمارے نام کا رینٹ پیپر بنتا ہے، اور ہم کرایہ اداء کرتے ہیں، ہم وہیں سے دودھ کو فروخت کر دیتے ہیں، اور خریدار وصول کرلیتا ہے، اگر فوری وصول نہیں کرتا تو ہم کہتے ہیں کہ رینٹ پیپر اپنے نام پر ٹرانسفر کروالو، ٹرانسفر کی صورت میں مال خریدار کی ملکیت شمار ہوتا ہے، کرایہ بھی خریدار ہی ادا کرتا ہے، اس مال کے ساتھ بیچنے والے کا تعلق ختم ہوجاتا ہے، مالکِ گودام کے ہاں بھی خریدار کی ملکیت شمار ہوتا ہے، اسی سلسلہ میں ہم نے سوکھے دودھ کے سو بیگ ایک شخص کو فروخت کیے، اس نے کہا یہ سو بیگ میرے ہوگئے، پیسے ایک ہفتہ بعد دوں گا، تو ہم نے اس کی اجازت سے رینٹ پیپر اس کے نام پر ٹرانسفر کروادیا، پھر کسٹم والے آئے اور  دودھ کے سو بیگ  (نان کسٹم پیڈہونے) کی بناء پرلے گئے۔ 

۱۔سوال یہ ہے کہ مذکورہ سامان کا نقصان کس کے ذمہ  میں ہوگا؟ خریدار کے یا بیچنے والے کے۔

جب خریدار مال خرید لیتا ہے تو ہم اس کو میسج کرتے ہیں کہ مال آپ کے نام پر ٹرانسفر کروا دیں؟کبھی تو وہ ہاں کا میسج کر دیتے ہیں، اور کبھی میسج دیکھ کر جواب نہیں دیتے۔

۲۔ جس صورت میں وہ جواب نہ دیں اور ہم مال اس کے نام پر ٹرانسفر کروادیں، تو مال کس کے ضمان میں ہوگا؟ آیا ٹرانسفر کی اجازت صریح طور پر دینا ضروری ہے؟ یا خریداری کی بناء پر اس کی صریح اجازت کے بغیرٹرانسفر کرواسکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی چیز خرید وفروخت پر ایجاب و قبول ہوجائے،تو ایجاب کے بعد  خریدار کے قبول کرنے سے شئ خریدار کی ملکیت میں آجاتی ہے، اب اس کے بعد اگر بیچنے والا  شئ کو خریدار کے حوالہ کردے یا خریدار کو کہہ دے کہ یہ اٹھالو، توایسی صورت میں  خریدار کا قبضہ شمار ہوتا ہے، اور  اس صورت میں اگر نقصان ہوتا ہے تو خریدار ضامن ہوگا۔

۱۔لہٰذا صورتِ مسئولہمیں مال کا ضامن خریدار ہی ہوگا، کیوں کہ خریدار نان کسٹم پیڈ سامان کی خریداری پر راضی تھا، اور چوں کہ خریدار کے قبضہ میں سامان میں نقصان ہوا ہے، تو اس کا ذمہ دار بھی خریدار ہی ہوگا۔ 

۲۔ٹرانسفر کا تعلق عقد  کے بعد کے مراحل سے ہے،اگرخریدار ٹرانسفری پر رضامند ہو تو ٹرانسفری کی جائے گی ورنہ نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض

مطلب في شروط التخلية وحاصله: أن التخلية قبض حكما لو مع القدرة عليه بلا كلفة لكن ذلك يختلف بحسب حال المبيع، ففي نحو حنطة في بيت مثلا فدفع المفتاح إذا أمكنه الفتح بلا كلفة قبض."

 (كتاب البيوع، مطلب فيما يكون قبضا للمبيع، ج:  4، ص:  562، ط: سعید)

فتح القدير میں ہے:

"ولو قبض المشتري المبيع وكان الخيار للبائع (فهلك في يده في مدة الخيار ضمنه بالقيمة؛ لأن البيع ينفسخ بالهلاك."

 (‌‌كتاب البيوع، باب خيار الشرط، ج:6، ص: 306، ط: سعید)

العناية شرح الہدایۃ میں ہے:

"(البيع ينعقد بالإيجاب والقبول) الانعقاد هاهنا تعلق كلام أحدالعاقدين بالآخر شرعا على وجه يظهر أثره في المحل. والإيجاب الإثبات. ويسمى ما تقدم من كلام العاقدين إيجابا لأنه يثبت للآخر خيار القبول، فإذا قبل يسمى كلامه قبولا."

(كتاب البيوع، ج: 6، ص: 248، ط: دار الفكر۔بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولو دخل بها في منزل كانت فيه بأجر فطولبت به بعد سنة فقالت له: أخبرتك بأن المنزل بالكراء عليك الأجر فهو عليها؛ لأنها العاقدة بزازية، ومفهومه أنها لو سكنت بغير إجارة في وقف أو مال يتيم أو ‌معد ‌للاستغلال، فالأجرة عليه فليحفظ (ويقدرها بقدر الغلاء والرخص ولا تقدر بدراهم) ودنانير كما في الاختيار، وعزاه المصنف لشرح المجمع للمصنف، لكن في البحر عن المحيط ثم المجتبى: إن شاء القاضي فرضها أصنافا أو قومها بالدراهم ثم يقدر بالدراهم."

(‌‌باب النفقة، ج: 3، ص: 583، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702101306

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں