بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

خریدی گئی بائیک کو واپس کرنے کی صورت میں کیے گئے خرچہ کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے؟


سوال

میں نے ایک شخص سے بائیک خریدی، خریدتے وقت اس نے بتایانہیں تھاکہ بائیک میرے نام نہیں ہے، بلکہ یہ بتایا تھاکہ اس کے کاغذات کچھ دنوں میں دے دوں گا، خریداری کے ایک ہفتے بعد میں نے اس پر کام بھی کروایا، کچھ دنوں کے بعد پولیس نے بائیک پکڑ لی، تو  پھر معلوم ہوا کہ یہ بائیک فروخت کنندہ کے نام پر نہیں ہے، بلکہ گاڑی فروخت کرنے والی کمپنی کے نام ہے،جس سے اس نے قسطوں میں خریدی تھی،اگرچہ ملکیت فروخت کنندہ ہی کی تھی، پھر  میں نے فروخت کنندہ سے بائیک واپس کرنے کی بات کی، پہلے تو وہ مان نہیں رہا تھا، لیکن بعد میں وہ مان گیا، اس کے بعد میں نے اس سے کہا کہ جو میں نے بائیک پر کئی ہزاروں کا خرچہ کیا ہے، پیسے لگائے ہیں وہ بھی مجھے ادا کرو تو وہ یہ پیسے واپس نہیں کررہا، شرعا اس پر اس خرچہ کی ادائیگی لازم ہے یا نہیں؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں فروخت کنندہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ فروخت کرتے وقت اس بات کی وضاحت کرتا کہ یہ بائیک میرے اپنے نام پر نہیں ہے،بلکہ گاڑی فروخت کرنےوالی کمپنی کے نام ہے،نیز سائل کو بھی چاہیے تھا کہ وہ خریدنے سے قبل کاغذات سے متعلق مکمل معلومات حاصل کرلیتا،لیکن خریدنے کےبعد مذکورہ بائیک خریدار کی ملکیت میں آگئی تھی،لہذا اس کے بعد سائل نے بائیک پر جو خرچہ کیا ہے، وہ اپنی ملکیت میں ہی کیا ہے، لہذا اس خرچہ کی ادائیگی فروخت کنندہ پر لازم نہیں ہے،البتہ سائل نے بائیک پر مزید کوئی نیا سامان لگایا ہے تو اس کو نکالنے کا حق ہے،مگر بہتر یہی ہے کہ باہمی مفاہمت سے صلح کی کوئی صورت اختیار کرلی جائے، جس سے باہمی نزاع ختم ہوجائے۔

الاشباہ والنظائر میں ہے:

"غلة العبد يشتريه الرجل فيستغله زمانا، ثم يعثر منه على عيب دلسه البائع، فيرده، ويأخذ جميع الثمن. ويفوز بغلته كلها ; لأنه كان في ضمانه، ولو هلك هلك من ماله، انتهى. وكذا قال الفقهاء: معناه ما خرج من الشيء: من غلة، ومنفعة، وعين، فهو للمشتري عوض ما كان عليه من ضمان الملك، فإنه لو تلف المبيع كان من ضمانه، فالغلة له، ليكون الغنم في مقابلة الغرم."

(الكتاب الثاني، القاعدة الحادية عشرة: الخراج بالضمان، ص:136، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101244

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں