
میں ایک پائپ مینوفیکچرنگ کمپنی کا مالک ہوں اور کراچی میں میں مختلف پائپ ڈیلرز کو اپنی مقررہ قیمتوں پر مختلف شرح سے ڈسکاؤنٹ دیتا ہوں۔ایک ڈیلر ایسا ہے جسے ہم حالات اور کاروباری نوعیت کے مطابق کبھی 25 فیصد اور کبھی 26 فیصد ڈسکاؤنٹ دیتے رہتے تھے، لیکن کچھ عرصے بعد اس ڈیلر نے بغیر ہماری اجازت اور کسی تحریری یا زبانی معاہدے کے،خود بخود اپنا ڈسکاؤنٹ 35 فیصد کرنا شروع کر دیا، ان کا موقف یہ ہے کہ ہماری کمپنی کے ایک نمائندے نے ان سے کہا تھا کہ آئندہ انہیں زیادہ ڈسکاؤنٹ دیا جائے گا، جب کہ ہمارے اس نمائندے نے اس بات کی صاف اور صریح تردید کی ہے کہ اس نے نہ کوئی وعدہ کیا تھا اور نہ ہی کسی قسم کی کمٹمنٹ کی تھی، معاملے کو خوش اسلوبی سے نمٹانے کے لیے ہم نے یہ طے کیا کہ آج کی تاریخ تک جتنا مال وہ لے چکے ہیں اس پر وقتی طور پر ان کا بڑھایا ہوا ڈسکاؤنٹ تسلیم کر لیا جائے گا، لیکن اس کے بعد آنے والے تمام مال پر صرف وہی ڈسکاؤنٹ لاگو ہوگا جو کمپنی کی طرف سے باقاعدہ طور پر طے کیا جائے گا، اس کے باوجود وہ اس فیصلے کے بعد بھی خریدے گئے مال پر 35 فیصد ڈسکاؤنٹ کاٹ رہے ہیں۔
مزید برآں کہ اس ڈیلر کے ذمہ ہماری کمپنی کے چار لاکھ 71 ہزار 519 روپے واجب الاداء ہیں، لیکن وہ کہتا ہے کہ وہ اس رقم میں سے صرف 57 ہزار روپے ہی ادا کرے گا اور بقیہ رقم مختلف کٹوتیوں اور مبینہ بونس کےنام پر(کاٹ کر) پوری رقم دینے سے انکار کر رہا ہے، وہ ہم سے بونس کا مطالبہ بھی کر رہا ہے اور اسی بنیاد پر اپنی واجب الاداء رقم میں سے خود کٹوتی کر رہا ہے، حالاں کہ موجودہ مارکیٹ کی صورتِ حال کے باعث کمپنی کسی بھی قسم کا بونس دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی ہم نے اسے کبھی کسی قسم کا بونس دینےکا وعدہ کیا تھا، اس طرز عمل سے ہمارے لیے یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دین داری میں لین دین، وعدوں کی پابندی اور لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کو کوئی اہمیت نہیں؟ کیا شریعتِ مطہرہ میں صرف عبادات یعنی نماز روزہ وغیرہ ہی مطلوب ہے یا معاملات اور مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی بھی دین کا لازمی اور بنیادی حصہ ہیں؟
سوالات :
کیا شرعاً ڈیلر کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ بغیر واضح معاہدے اور مالک کی اجازت کے خود سے ڈسکاؤنٹ کی شرح بڑھا لے؟
کیا اس کے لیے جائز ہے کہ وہ واجب الادا رقم میں سے زبردستی بونس کے نام پر کٹوتی کرے؟ جب کہ نہ بونس کا وعدہ کیا گیا ہو اور نہ ہی کمپنی اس پررضامند ہو، کیا اپنی مرضی سے رقم مقرر کرنا اور اصل رقم روک لینا شرعاً ظلم اور حق تلفی کے زمرے میں آتا ہے؟ ایسی صورت ِحال میں فریقین کے لیے شرعی طور پر درست اور واجب طریقہ کار کیا ہے؟
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے جہاں عبادات نماز ،روزہ، حج ،زکات وغیرہ کی ادائیگی کاحکم دیا ہے وہاں معاملات، امانت کی پاس داری ،وعدوں کی پابندی او ر لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کو دین کالازمی اور بنيادی حصہ قرار دیا ہے، چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ أُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيمَةُ الأَنْعَامِ إِلاَّ مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ (المائدة:1)
ترجمہ:اے ایمان والو عہدوں کو پورا کرو،تمھارے لیے تمام چوپائے جو مشابہ انعام (یعنی اونٹ، بکری، گائے) کے ہوں حلال کیے گئے ہیں مگر جن کا ذکر آگے آتا ہے، لیکن شکار کو حلال مت سمجھنا جس حالت میں کہ تم احرام میں ہو بیشک الله تعالیٰ جو چاہیں حکم کریں ۔(ازبیان القرآن)
اس آیت کی تفسیر میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
" العقود التي عقدها الله تعالى على عباده عامة من يوم الميثاق الى يومنا هذا من التكاليف وتحليل حلاله وتحريم حرامه وما أخذ الله ميثاق الذين أوتوا الكتب فى الايمان بمحمد صلى الله عليه وسلم وبيان نعته وما يعقد الناس بينهم من عقود الأمانات والمعاملات ونحوها مما يجب الوفاء به وقد ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم من آيات المنافق إذا عاهد غدر متفق عليه من حديث عبد الله بن عمرو."
(سورة المائدة، ج:3، ص:13، ط:مكتبة الرشدية)
”ترجمہ:اللہ نے روز میثاق سے اب تک جن عہود کا پابند بندوں کو بنایا ہے وہ سب العقود میں داخل ہیں، خواہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام اور حلال کی ہوئی چیزوں کو حلال قرار دینے کی صورت میں ہوں یا وہ وعدے ہوں جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے اور اوصاف محمدی کو ظاہر کرنے سے متعلق اہل کتاب سے لئے گئے ہیں یا انسانوں کے باہم وہ معاہدات ہوں جن کا تعلق آپس کے معاملات اور امانتوں وغیرہ سے ہو جس کو پورا کرنا شرعاً واجب ہو۔رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منافق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی معاہدہ شکنی کو بھی قرار دیا تھا۔ رواہ الشیخان من حدیث عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ)“
مندرجہ بالا آیت کی تفسیر کی روشنی میں ہرمسلمان پر لازم ہے کہ عبادات کے ساتھ ساتھ بندوں کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کرے،اور آپس کے معاہدات کی پاسداری کرے ،کسی کے مال میں اس کی رضامندی کے بغیر کسی بھی قسم کے تصرف سے اجتناب کرے ۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں ڈیلر کے لیے جائز نہیں کہ وہ کمپنی کی طرف سے ملنے والے ڈسکاؤنٹ میں کسی بھی تحریری یا زبانی معاہدہ کے بغیر اپنی مرضی سے اضافہ کرے،نیز اگر کمپنی نے بونس دینے کا وعدہ نہیں کیا، نہ ہی مالک نے کسی نمائندے کو اس اضافی ڈسکاؤنٹ کی اجازت دی ہے اور نہ ہی مالک اس پر رضامند ہےتو ڈیلر کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی طرف سے بونس کے نام پر واجب الاداء رقم میں سے کٹوتی کرے۔ڈیلر کاکمپنی کے مالک کی رضامندی کے بغیر واجب الاداء رقم اداء نہ کرنا یا اس سے بونس کے نام پر کٹونی کرنا غصب کے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔
لہذا نہ اپنی مرضی سے یک طرفہ اضافی ڈسکاؤنٹ لینا جائز ہے اور نہ ہی جو رقم پہلے سے واجب الاداء ہے اس میں کمی کرنا جائز ہے،بلکہ واجب الاداء کل رقم کی ادائیگی شرعاً لازم ہے۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
" وعن عمرو بن عوف المزني عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراما والمسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما. رواه الترمذي وابن ماجه وأبو داود وانتهت روايته عند قوله «شروطهم."
(كتاب البيوع، باب الإفلاس والإنظار، ج:2، ص:882، ط:ألمكتب الإسلامي)
”ترجمہ:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے، سوائے اس صلح کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال کر دے۔ اور مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہیں، مگر وہ شرط جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال کر دے۔“
فتاوی شامی میں ہے :
"(وحكمه الإثم لمن علم أنه مال الغير ورد العين قائمة والغرم هالكة ولغير من علم الأخيران) فلا إثم؛ لأنه خطأ وهو مرفوع بالحديث."
(کتا ب الغصب، ج:6، ص:179، ط:سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101568
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن